جمعرات‘18 ؍ شعبان المعظم 1437ھ‘ 26 ؍ مئی‘ 2016ء

26 مئی 2016

رمضان المبارک کے چاند اور متفقہ عید کیلئے حکومت کا مفتی پوپلزئی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ
اسے دوراندیشی کہہ لیں یا پیش بندی۔ حکومت کے اس فیصلے سے کم از کم ملک میں دو چاند اور دو عیدوں کا دیرینہ مسئلہ ضرور حل ہو سکتا ہے۔ ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت نے پہلے کیوں ایسا فیصلہ نہیں کیا۔ مولانا فضل الرحمن کا وزن بھی حکومت کے پلڑے میں ہے۔ مفتی پوپلزئی میں اب اتنی ہمت کہاں ہو گی کہ وہ اتنے بھاری بھر کم لوگوں کی موجودگی میں حکومت کی بات نہ سنیں۔ صوبہ خیبر پی کے میں ویسے بھی مولانا کے چاہنے والے بہت ہیں۔ امید ہے وہ انہیں ناامید نہیں کریں گے۔ اب دیکھنا ہے مولانا صاحب مفتی جی کو منانے کا فریضہ کن کن شرائط پر ادا کرتے ہیں۔ ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چاند کیلئے حکومت کے اعلان کو تسلیم کریں۔ اور عید مفتی جی کے چاند پر منائیں۔ اب خطرہ ہے تو صرف خیبر پی کے حکومت کی طرف سے کہ وہاں اس وقت حزب مخالف کی حکومت ہے۔ کہیں وہ درمیان میں پڑ کر حکومت‘ مولانا اور مفتی کی مفاہمت کی کوششوں پر پانی نہ پھیر دے۔ پشاور میں واقع مسجد کے امام کی اس طاقت سے تو لوگوں کو لال مسجد والے مولانا عبدالعزیز کی یاد آ جاتی ہے جو حکومت پاکستان کا ملازم ہونے کے باوجود حکومت کو ہی للکارتے رہتے ہیں۔ کام تو مفتی صاحب بھی یہی کر رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ نظام حکومت کی بجائے نظام قمری کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اسلئے ان کی طرف سے حکومت کو کوئی خاص خطرہ نہیں ہوتا…
…٭…٭…٭…٭…٭…
پانامہ لیکس پر حکومت اور اپوزیشن کی ساز باز ملک کی بدقسمتی ہو گی۔ خورشید شاہ
اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں مقیم حزب اختلاف کے رہنما کچھ بیان دے رہے ہیں اور بیرون ملک ان کے قائد کچھ اور ارشاد فرما رہے ہیں۔ جب اپوزیشن خود ہی پانامہ لیکس کے حوالے سے تقسیم ہے تو پھر کسی اور سے شکوہ کیسا۔ ویسے بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں دیرینہ مراسم کوئی ڈھکے چھپے تو نہیں زرداری دور حکومت میں ایسے ہی بیانات عمران خان دیتے رہتے تھے۔ بڑی اور چھوٹی برائی کی اصطلاح بھی انہی کی ایجاد کردہ ہے۔ پانامہ لیکس پر سارا طوفان عمران خان نے اٹھایا اور اس کا رخ خورشید شاہ جیسے اپوزیشن قائد نے نہایت مہارت سے ایسا موڑا کہ آج خان صاحب
دل ایسا کسی نے میرا توڑا، بربادی کیطرف ایسا موڑا،
ایک بھلے مانش کو،امانش بنا کے چھوڑا
کی تصویر بنے خورشید شاہ کے اس بیان کو پڑھ کر ہنس رہے ہوں گے۔ کیا خوب کہا کہ اپوزیشن اور حکومت میں ساز باز! یہ کونسی ڈھکی چھپی بات ہے۔ سوائے عمران خان کے سب جانتے ہیں کہ اندرون خانہ حکومت اور اپوزیشن ایک ہیں۔ ایک اگر ساز ہے تو دوسرا باز ہے۔ یقین نہ آئے تو لندن سے جاری زرداری صاحب کے بیانات پڑھ لیں۔
…٭…٭…٭…٭…٭…
حکومت کراچی کو نظر انداز کر کے قومی استحکام خطرے میں ڈال رہی ہے۔ فاروق ستار
شکر ہے اپنا رونا رونے سے فرصت ملی تو فاروق بھائی کو بھی کراچی کی یاد آ گئی۔ برس ہا برس سے کراچی پر ایم کیو ایم کا سایہ ہے۔ شہری تاج تخت و چھتر شاہی، لندن والے بھائی کے ایک اشارے پر بدلتا، ملتا اور چھنتا تھا۔
بجلی اور پانی کی کمیابی، بے ہنگم آبادی کے بوجھ اور وسائل کی لوٹ مار نے اس شہر کو قیام پاکستان کے بعد سے اپنے چنگل میں جکڑ رکھا ہے۔ پہلے جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان پھر ایم کیو ایم نے مسلسل حکومت میں رہنے کے باوجود اس شہر کے حقیقی مسائل کے حل سے زیادہ اپنے اپنے وسائل میں اضافہ کے لئے کام کیا۔افغان مہاجرین کی آمد اور دینی جماعتوں کی طرف سے انہیں مشرف بہ کراچی اور پاکستانی بنانے کی پالیسی نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔اب اس انٹرنیشنل شہر میں اردو اور سندھی بولنے والے ہی نہیں افغانی، افریقی ، ایرانی اور کرد بھی آباد ہیں۔ پانی اور بجلی کے محکموں میں سب یہاں کے ہی سیاسی کارندے بھرتی ہیں جو لوٹ مار میں مصروف ہیں تو پھر بقول شاعر۔
عکس بکھرا ہے پڑا ٹوٹ کے آئینے کے ساتھ
ہر طرف تو ہے تو پھر تیرا گلہ کس سے کریں
کراچی کو وفاقی حکومتوں نے نہیں خود صوبائی اور شہری اداروں نے لوٹا ہے۔ پانی ہو بجلی یا گیس اس کی چور بازاری میں جب ہم خود ہی ملوث ہیں تو قومی سلامتی کو خطرے کا جھوٹا افسانہ سنانے کا کیا فائدہ…
…٭…٭…٭…٭…٭…
کوئٹہ میں کوئی اچھا پارک نہیں رہا۔ جو تھے وہ بھی بیچ دیئے گئے۔ سپریم کورٹ
انگریزوں نے کوئٹہ شہر کو اس دور کے تقاضوں کے مطابق ایک خوبصورت ہل سٹیشن اور فوجی چھاؤنی کے انداز میں کچھ اس طرح بنایا اور سجایا تھا کہ آج اگر وہ زندہ ہو کر اپنے اس خوبصورت شہر کی حالت دیکھ لیں تو صدمے سے فوراً ہی دوبارہ مر جائیں گے۔ کہاں جس شہر کے چھاؤنی میں ہندوستانیوں اور کتوں کے جانے پر پابندی تھی۔ آج اسی شہر میں نہ سبزہ نظر آتا ہے نہ باغ و بہار ہر طرف دھول اڑتی نظر آتی ہے۔ چٹیل مٹی سے بھرے بیاباں خشک دامن کوہ اور دشت کا منظر دیکھنا ہو تو آپ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کو دیکھ لیں جسے پہلے پھلوں کا باغ کہا جاتا تھا۔ جناح پارک‘ لیڈی فاطمہ جناح پارک‘ دیال باغ‘ مالی باغ‘ پنج فٹی‘ پہلوان بابا ایوب سٹیڈیم کے باغات کے علاوہ شہر میں درجنوں مقامات پر سبزہ پانی اور درخت تھے۔ آج جناح پارک کے عقب میں بلدیہ کا خوبصورت باغ جس میں کبھی پڑھے لکھے لوگ خوبصورت ماحول میں شام کی چائے پینے جاتے تھے کی جگہ بھی پلازہ بن رہا ہے۔ یہ سب کچھ اسی شہر کے وارث اور بیٹے کر رہے ہیں جو یہاں کے باسی ہیں۔ مگر اب شاید اس کے اپنے بیٹے جو اس پر جان چھڑکتے تھے یہاں سے کوچ کر گئے ہیں اور اس شہر کو کمائی کا اڈہ بنانے والے ساہوکار رہ گئے ہیں اسلئے اس کے باغات تک بیچ کر کھا رہے ہیں کیونکہ انہیں سبزہ و گل آب و سایہ سے محبت نہیں۔ سپریم کورٹ اس کا ماتم نہ کرے تو کیا کرے۔
…٭…٭…٭…٭…٭…