زکوٰۃ کے مقاصد حسنہ (۲)

26 مئی 2016

غرباء پروری: دین حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کے ادا کرنیکا نام ہے اسلام جسطرح حقوق اللہ کی ادائیگی پر زور دیتا ہے اسی طرح حقوق العباد کی ادائیگی کی بھی پرزور تاکید کرتا ہے جیسے اللہ کے حقوق ادا نہ کرنا جرم ہے ویسے ہی بندوں کے حقوق ادا نہ کرنا بھی جرم ہے۔ روز قیامت ایک مجرم کے متعلق ارشاد ربانی ہو گا: ’’اسے پکڑو اور اسکے گلے میں طوق ڈالو، پھر اسے جہنم میں داخل کر دو۔ پھر اسے ستر گز لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔ (الحاقہ:۴۳ تا۰۳) جب نبی کریم محبوب خدا رحمت عالمﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا قاضی بنا کے بھیجا تو فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو انکے اغنیاء سے لیکر فقراء میں تقسیم کی جائیگی۔‘‘ (مشکوٰۃ) زکوٰۃ کے ذریعے اللہ تعالیٰ بندے کو آزماتا ہے کہ بندے کو مال زیادہ پیارا ہے یا غریب و نادار مومن بھائی۔
تحفظ دین: اللہ کا دین پھیلنے کیلئے آیا۔ پھیلا، پھیل رہا ہے اور پھیلتا رہیگا یہ انشاء اللہ ہر گھر میں پہنچے گا دین اپنے تحفظ و بقاء کیلئے کسی کا محتاج نہیں بلکہ ہر کوئی اپنی بقاء اور فلاح کیلئے خدمت دین کا محتاج ہے۔
زکوٰۃ کے مقاصد میں سے ایک مقصد تحفظ دین اور نصرت دین بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ میرے بندے اس سعادت سے محروم نہ رہیں۔ مصارف زکوٰۃ میں ایک مولفۃ القلوب بھی ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جنکے دلوں کو اسلام کیطرف راغب کرنا مقصود ہو اور ایک مصرف فی سبیل اللہ ہے جس سے غازی اور مجاہد مراد ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بارہا یہ فرمایا کہ اہل ایمان کو اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنا چاہیے ایک مقام پر فرمایا: ’’اپنے مالوں اور جانوں سے راہ خدا میں جہاد کرو‘‘۔ (توبہ:۱۴) ایک مقام پر تو یوں فرمایا گیا کہ اپنے مال راہ خدا میں خرچ نہ کرنا اپنے آپکو ہلاک کرنیکا دوسرا نام ہے: ’’اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور ہاتھ روک کر اپنے آپکو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘۔ (بقرہ:۵۹۱) زکوٰۃ اسی ہلاکت سے بچنے اور تحفظ و نصرت دین کی قانونی اور فرضی صورت ہے۔ اگر ایک آدمی زکوٰۃ نہیں دیتا تو اسکے دل کے کسی گوشے میں غرباء کی محبت ہے اور نہ ہی اسے دین کے تحفظ و بقاء کی کوئی فکر ہے خود ہی اندازہ فرمائیے کہ وہ اللہ کی بارگاہ کا کتنا بڑا مجرم ہو گا۔ قرآن مجید میں ایسے ہی مجرموں کا ہولناک انجام یوں بیان فرمایا گیا: ’’جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے جس دن وہ (سونا و چاندی) جہنم کی آگ میں تپایا جائیگا۔ پھر اس سے انکی پیشانیاں انکے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیگی (انہیں کہا جائیگا) یہ ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کر کے رکھا تھا تو اپنے جمع کرنیکا مزہ چکھو۔‘‘ (توبہ۵۳۔۴۳) (روحِ عبادت)

عزائم اور مقاصد

اگر مسلمانوں کو اپنے عزائم اور مقاصد میں ناکامی ہو گی تو مسلمانوں ہی کی ...