پہلی بار کسی نے امریکہ کو للکارا ہے مگر ایران

26 مئی 2016

وزیر داخلہ چودھری نثار امریکہ کے ساتھ جو کر رہے ہیں۔ اب امریکہ کو سوچ سمجھ کر پاکستان کے حوالے سے پالیسی اختیار کرنا چاہئے۔ کسی نے پہلی بار امریکہ کو للکارا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ چودھری نثار نے امریکہ کو للکارا ہے۔ یہ کام چودھری صاحب ہی کر سکتے تھے۔ ورنہ ہم صرف امریکہ کو پکارتے ہیں۔ نوازشریف کبھی ایسا ردعمل یا طرز عمل اختیار نہیں کر سکے تھے۔ شکر ہے وہ بیرون ملک تھے۔ یہ میرا خیال ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ایران بھی اس معاملے میں برابر کا شریک ہے۔ پاکستان میں بالخصوص بلوچستان میں آج کل جو کچھ ہو رہا ہے۔

بھارتی ”را“ کا ایجنٹ بھی ایران سے آیا تھا اور بلوچستان میں پکڑا گیا ہے۔ اسے آئی ایس آئی نے پکڑا ورنہ پہلے وہ آزادانہ کارروائیاں کرتا رہا تھا۔ کل بھوشن اب کہاں ہے۔ شاید چودھری نثار بھی نہیں جانتے؟ ایران میں وہ تھا تو پاکستان دشمن ایجنڈے پر ہی کام کرتا رہا ہو گا۔ ایران میں اتنی آسودگی اسے کیسے ملی؟
ایران پاکستان کا دوست ہے۔ 65ءکی جنگ میں پاکستانی طیارے بھارت میں کارروائی کے بعد ایران کے ہوائی اڈوں پہ لینڈ کرتے تھے اور بھارت پریشان ہوتا کہ پاکستانی طیارے کہاں غائب ہو گئے ہیں۔
ملا منصور کو ٹھکانے لگانے کیلئے امریکہ کی ہٹ دھرمی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ جرا¿ت کی بات کی ہے چودھری نثار نے کہ اگر دبئی اور ایران میں ملا منصور کو کوئی خطرہ نہیں تھا تو وہ پاکستان میں داخل ہوتے ہی کیسے خطرہ بن گیا۔ ملا منصور افغان مذاکرات کے خلاف نہ تھا۔
امریکہ نے جو کام کیا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ کوئی بتائے کہ یہ بات کوئی پاکستانی حکمران چودھری صاحب کے علاوہ کر سکتا ہے۔ یہ جرا¿ت مندی حق گوئی صرف چودھری صاحب کیلئے خاص ہے.... ہمارے حکمران اس بات کیلئے کچھ بھی قبول کرنے کو تیار ہیں کہ امریکہ سے تعلقات قائم رہیں۔ امریکہ مسلسل پاکستان کو دھوکہ دے رہا ہے۔ پاکستان کی قربانیاں بھولتی ہوئی کہانیاں بنتی جا رہی ہیں۔ ان کہانیوں کا کوئی عنوان نہیں ہے؟
چودھری نثار نے جو کہا وہ کوئی اور پاکستانی حکمران کہنے کی جرا¿ت رکھتا ہے نہ اہلیت رکھتا ہے۔ چودھری صاحب نے جو ردعمل دے دیا ہے۔ یہ بہت کافی ہے۔ انہوں نے یہ کیوں کہہ دیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی واپسی پر ردعمل دیا جائے گا۔ شکر ہے ان کی واپسی کا انتظار کئے بغیر انہوں نے اپنا ردعمل دے دیا ہے۔ یہ سب پاکستانیوں کا ردعمل ہے۔ یہ قومی ردعمل ہے۔ سب پاکستانی خوش ہوئے ہیں کہ حمیت والا وزیر ہمارے ملک میں موجود ہے۔
یہ بات کہنا سچ ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے علاوہ یہ معاملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔ پاکستانی حکمران تو یہ کہنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے کہ یہ کارروائی ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے مگر ہم نے برداشت کر لی ہے۔ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اٹھانا چاہئے۔
یہ کیسا ظلم ہے کہ کارروائی کے سات گھنٹے بعد پاکستانی حکومت کو اطلاع دی گئی۔ کسی جماعت کے سربراہ کو قتل کر کے اسے کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ آﺅ ہمارے ساتھ مذاکرات کرو۔ طالبان تو اب کابل کو جنگ سے پاک علاقہ قرار دینے پر تیار ہو گئے تھے مگر امریکہ نے پاک افغان بداعتمادی کا ماحول بنا دیا ہے۔
اب تو لگتا ہے کہ پاکستان کے خلاف امریکہ بھارت اور ایران کا کوئی سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ گوادر پورٹ کے مقابلے میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کی طرف خصوصی توجہ کس طرف اشارہ کرتی ہے۔ گوادر میں چین کی دلچسپی سے اتنی تکلیف ہو گئی ہے کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ چین اس خطے کی ایک بڑی طاقت ہے۔ اس کے بھی مفادات ہیں پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی کے بعد ایسی دشمنی کا مظاہرہ ایک سنگین معاملہ ہے۔
پچھلے دنوں پاکستان اور چین دوستی کی 65 ویں سالگرہ منائی گئی۔ میں نے بھی ایک تقریب میں شرکت کی۔ خواجہ حسان نے اس کی صدارت کی۔ سٹیج پر میرے ساتھ چینی قونصل جنرل یوبران بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کمال بھروسے کے آدمی ہیں۔ شہباز شریف نے بھی قونصل جنرل سے ملاقات کی اور پاک چین دوستی کو ایک قابل فخر معرکہ آرائی قرار دیا۔ پاک چین دوستی کی 65 ویں سالگرہ سے بھارت کو 65 کی جنگ میں اپنی شکست کی یاد آ گئی ہو گی۔
چودھری نثار کہتے ہیں کہ ڈرون نے سرحد پار نہیں کی۔ میزائل کے ذریعے گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ میزائل ہماری سرزمین پر آوارہ گردی کرتے رہیں تو کیا یہ سرحدی خلاف ورزی نہیں ہے۔ یہ بات چودھری صاحب کی پسند آئی کہ دنیا میں سب امریکہ کے کہنے پر چلیں تو دنیا میں جنگل کا قانون ہو گا۔ دراصل امریکہ جنگل میں منگل منانا چاہتا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ہم افغانستان میں دہشت گردوں پر گولہ باری کریں۔ امریکہ خود یہ کام کیوں نہیں کرتا۔
ایسی زوردار پریس کانفرنس نوازشریف نہیں کر سکتے تھے۔ مگر کئی باتیں ہیں جن کا تذکرہ چودھری صاحب نے بھی نہیں کیا۔ وزیر داخلہ کے ساتھ ساتھ چودھری صاحب کو وزیر خارجہ بھی بنا دیا جائے۔ اتنی کھری باتیں امریکہ کے ساتھ کسی پاکستانی حکمران نے نہیں کیں۔ امریکہ کے پاکستان سے یہ امید بھی نہیں رکھتا۔ اسے پاکستانی حکمرانوں کی اصلیت کا پتہ ہے۔ اب تو ایران بھی امریکہ کے ساتھ شریک ہے۔ کل بھوشن بھی ایران سے آیا تھا۔ ڈرون یا میزائل بھی ایران سے آئے ہیں۔ چودھری صاحب کا کیا خیال ہے؟