گھبرانے کی ضرورت نہیں!

26 مئی 2016

ایک اُسامہ بن لادن کی پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں موجودگی اور امریکی آپریشن میں مارے جانے کا واقعہ ہی کچھ کم نہ تھا کہ ٹھیک پانچ سال بعد بلوچستان کے علاقے نوشکی میں افغان طالبان کے کمانڈر ملا اختر منصور کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کی خبر کے بعد سے تو جیسے پاکستانی حکومت، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستانی میڈیا کو سانپ ہی سونگھ گیا ۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ اس واقعہ پر آخر کیا کیا جائے اور کہا کیا جائے؟ ملا منصور کے مارے جانے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد ایک حلقے نے تو مکمل چپ سادھ رکھی ہے جبکہ دوسرے حلقے نے باقاعدہ سینہ کوبی شروع کررکھی ہے۔ یہ حلقہ اِس واقعہ پر دشمن سے زیادہ خود نا صرف پراپیگنڈے کا شکار ہوچکا ہے بلکہ اپنے رویے اور گفتگو سے اس منفی پراپیگنڈے کو مزید پھیلابھی رہا ہے کہ خدانخواستہ پاکستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی میں القاعدہ اور طالبان کی صف اول کی قیادت پاکستان میں پکڑی گئی یا ماری گئی، لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج کے دہشت گرد خود امریکہ کے پیداکردہ ہیں، سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد جب افغانستان میں لڑنے والے مجاہدین نے اسلامی حکومت قائم کرکے ’’جہاد‘‘ کی فصل کاٹنے کی کوشش کی تو اِسی امریکہ نے پہلے مجاہدین میں پھوٹ ڈلوائی، انہیں آپس میں باہم دست و گریباں ہی نہیں کیا بلکہ افغانستان میں خونریز خانہ جنگی کی پشت پناہی بھی کی۔ اِس دوران طالبان اُٹھے اور اُنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان میں امن قائم کردیا ، لیکن امریکہ بہادر کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی اور نائن الیون کے بہانے افغانستان پر چڑھائی کردی ۔ افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد اور امن کی فاختہ کو خون میں لت پت کرنے کے بعد دنیا کے ہاتھ جو کچھ آیا ، وہ کچھ اور نہ تھا بلکہ امریکہ کا ایک نیا دشمن تھا اور یہ دشمن بھی کوئی اور نہ تھا بلکہ امریکہ کے اپنے ’’لاڈلے‘‘ مجاہدین تھے جو اب دہشت گرد قرار دیے جاچکے تھے، ایک بڑی طاقت کے سامنے یہ ’’دہشت گرد‘‘ کھلی میدانی جنگ لڑنے کے قابل نہ تھے، اس لیے اِن ’’دہشت گردوں‘‘ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بھی گوریلا جنگ کی وہی بساط بچھادی، جس میں پھنساکر وہ پہلے خون آشام سوویت بھیڑیے کے جبڑے توڑ چکے تھے۔
کیا اس میں کوئی دو رائے ہوسکتی ہیں کہ اگر آج ایک بار پھر امریکہ کو طالبان کی ضرورت پڑجائے تو یہی دہشت گرد ایک بار پھر امریکہ کے ہیرو ہونگے، امریکہ دہشت گردوں کو ہیرو اور ہیرو کو دہشت گرد قرار دینے کا کھیل کوئی پہلی مرتبہ نہیں کھیل رہا۔ طالبان اور القاعدہ سے بھی بہت پہلے اِسی طرح کا ایک ہیرو افغان مجاہد کمانڈر انجینئر گلبدین حکمت یار بھی تھا۔ 80ء اور 90ء کی دہائی میں حزب اسلامی کے ایک فعال پشتون سربراہ کے طور پر انجینئر گلبدین حکمت یار نے افغانستان اور خطے میں بڑا نام کمایا۔ 90ء کی دہائی کی خانہ جنگی کے بعد 1995ء میں طالبان منظر عام پر آئے تو حکمت یار نے طالبان کے ساتھ مزاحم ہونے کی بجائے پس منظر میں جانے میں ہی حکمت جانی۔2001ء میں امریکہ کی افغانستان آمد کے بعد حامد کرزئی کی جانب سے باقاعدہ دعوت اور بسیار کوششوں کے باوجود حکمت یار نے افغان حکومت میں حصہ لینے سے گریز کیا،اور دیگرافغان مجاہدین رہنماؤں کے برعکس حکمت یار نے امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا ۔جس پر امریکہ نے حکمت یار کو دہشت گرد قراردے کر گلبدین کی سیاسی جماعت حزبِ اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ اس دوران حکمت یار کے بہت سے ساتھی اور کمانڈر طالبان کے ساتھ مل کر اتحادی افواج کے خلاف گوریلا جنگ میں مصروف رہے۔ بہت عرصہ تو حکمت یار کی کسی کو کچھ خبر ہی نہ تھی کہ افغان جنگ کے بعد کا پہلا افغان وزیراعظم کہاں ہے؟ کبھی موت کی خبر آتی اور کبھی پاک افغان سرحد پر موجودگی کی اطلاع ملتی رہی اور کبھی پتہ چلتا کہ حکمت یار ایران میں موجود ہیں۔کبھی کبھی یہ بھی اطلاعات آتی رہیں کہ حکمت یار اور ان کے ساتھی افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فورسز کے خلاف عملی طور پر برسرپیکار ہیں، لیکن ان تمام اطلاعات کے باوجود حکمت یار کبھی براہ راست میڈیا پر سامنے نہیں آئے، لیکن اب ایک بار پھر انجینئر گلبدین حکمت یار کے بھرپور انداز میں سامنے آنے کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ کامل دو دہائی تک زیر زمین رہنے کے بعد وہی گلبدین حکمت یار اب دوبارہ منظر عام پر آرہا ہے، جسے دو دہائی تک افغان حکومت اور امریکہ نے دہشت گرد کے طور پر پیش کیے رکھا۔ گلبدین حکمت یار کو منظر عام پر لانے کی راہیں صاف کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ خود افغان حکومت ہے، جس میں ممکنہ طور پر امریکہ کی مرضی بھی شامل ہوگی۔ اس مقصد کیلئے افغان سفارتکار حضرت عمر زخیوال نے پاکستان میں سفیر تعینات ہونے سے پہلے پاکستان کے خفیہ دورے کیے۔ اِن دوروں میں حضرت عمر زخیوال نے پاکستان میں موجود حزب اسلامی کے راہنماؤں سے خفیہ ملاقاتیں کیں اور کامیاب مذاکرات کے بعد حزب اسلامی کے رہنماؤں کو افغانستان لے کر گئے، جہاں حزب اسلامی کے رہنماؤں نے افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کیے۔ افغان سفیر کے مطابق افغانستان نے کسی کی مدد کے بغیر حزب اسلامی سے مذاکرات کیے اور دو ماہ میں حزب اسلامی اور افغان حکومت ایک اہم معاہدے پر پہنچ گئے۔ اس معاہدے کے تحت افغان حکومت حزب اسلامی کے جنگجوؤں کو عام معافی دے گی اور اقوام متحدہ سے اس گروپ کے نام کو بلیک لسٹ سے ہٹانے کی درخواست کرے گی،معاہدے کے تحت یہ گروپ حکومت میں تو شامل نہیں ہو گا البتہ حزب اسلامی کو ایک باضابطہ سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کرلیا جائے گا۔ گلبدین حکمت یار منظر نامے سے غائب رہنے کے باوجود عام شہریوں اور تعلیمی اداروں پر حملوں کے مخالف رہے ہیں۔ غیر ملکی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں حکمت یار نے کہا تھا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ کوئی سچا مسلمان اس طرح کے حملوں میں ملوث ہو سکتا ہے، حزب اسلامی نے اُن سخت پالیسیوں میں بھی نرمی دکھائی ہے جس میں خواتین پر تعلیم کی پابندی بھی شامل ہے‘‘ آنے والے دن مہینے اور سال امریکہ کیلئے کیسے ثابت ہونگے، اس کا انحصار طالبان کے اگلے امیر کے انتخاب پر ہے؟ ماہرین متفق ہیں کہ اگر طالبان نے اپنا نیا امیر ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو منتخب کرلیا تو وہ ملا عمر سے مختلف ثابت نہ ہونگے اور اگر طالبان نے فاتح خوست جلال الدین حقانی کے خاندان میں سے کسی کا انتخاب کرلیا تو نوشکی میں ڈرون سے ملا اختر منصور کو مارنے کا واقعہ امریکہ کیلئے اب تک کا سب سے بھیانک فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کو ایک بار پھر اُن دو بڑے جنگجووں کا سامنا ہوگا، جنہوں نے 80ء اور 90ء کی دہائی میں سوویت افواج کو ناکوں چنے چبواکر واپس بھاگنے پر مجبور کردیا تھا، قارئین کرام!! افغانستان اِس وقت دنیا کا خطرناک ترین وار زون بن چکا ہے، جہاں سے امریکہ چاہتے ہوئے نکل نہیں پارہا ۔ یہ افغانستان ہی تو ہے جو ماضی میں دنیا کی کئی عالمی طاقتوں کو ’’کھا‘‘ چکا ہے ،اورکچھ معلوم نہیں کہ آنے والے دور میں افغانستان کو ابھی مزید کتنی عالمی طاقتوں کا قبرستان بننا ہے۔عالمی طاقتوں کو اُن کے منطقی انجام تک پہنچانے کے دوران افغانستان کی صورتحال آنے والے دنوں، مہینوں اور سالوں میں ابھی کئی رنگ بدلے گی۔ حکمت یار اور حقانی کے میدان میں آنے کے بعد یہ معاملہ اب امریکیوں کے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔