بھارت کا تاجکستان میں بھی جنگی ہوائی اڈہ

26 مئی 2016

پاکستان کے اکثریتی عوام اس حقیقت سے بے خبر ہو نگے کہ نیو دہلی نے بھارت سے باہر تاجکستان میں بھی ایک جنگی ایئر بیس قائم کر رکھا ہے۔ جہاں نہ صرف بھارتی ایئر فورس کے جدید ترین لڑاکا طیارے ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔ ساتھ ہی اس ایئر بیس کو بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے تربیتی کیمپ کے طور پر بھی استعمال کرتا ہے۔ 2003 میں بھارت نے تاجکستان کے دارالحکومت دو شنبے سے 140 کلو میٹر دور اور ازبکستان کی سرحد سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تباہ حال پوشیدہ فاخر ایئر بیس کے حصول کیلئے تاجکستان حکومت سے معاہدہ کیا اور اس معاہدے کے باوجود تاجک میڈیا میں اس پر قیاس ارائیاں شروع ہوئیں تو تاجک حکومت نے ایئر بیس بھارت کے حوالے کئے جانے کی خبروں کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ بھارت کو صرف تباہ حال ایئر بیس کی مرمت و ازسر نو تعمیر کا کام سونپا گیا ہے۔ بھارت کو یہ اڈہ جنگی مقاصد کیلئے استعمال کرنیکی اجازت نہیں ہو گی۔ اسکے برعکس بھارت سرکار نے مؤقف پیش کیا کہ بھارت دسمبر 1999 کی اس صورتحال سے بچنا چاہتا ہے۔ جب بھارت کے اندر سے دوران پرواز ایک بھارتی مسافر بردار طیارہ ہائی جیک کر کے قندھار پہنچا دیا گیا تھا اور نیو دہلی کے پاس قریب ترین کوئی ایسا ایئر بیس نہیں تھا جہاں سے اسکی ایئر فورس ہائی جیکروں کے خلاف کارروائی کیلئے قندھار پہنچ سکتی۔ بھارت چاہتا ہے کہ اگر مستقبل میں کابل پر بھارت مخالف طبقہ برسر اقتدار آجائے تو قریب ہی بھارت کے پاس ایک اپنا جنگی ٹھکانہ موجود ہو۔ اس موقع پر بھارت نے تسلیم کیا کہ تاجکستان میں حاصل کردہ جنگی ہوائی اڈے پر اسکے 14عدد M16-29 طیاروں پر مشتمل دو سکوارڈن موجود ہیں۔ تاہم بعد ازاں منظر عام پر آنیوالی رپورٹس کیمطابق بھارت کے خفیہ ادارے اس جنگی ہوائی اڈے کو پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے ایک اہم تربیت گاہ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں جس کیلئے پاکستان کے قبائلی علاقوں و بلوچستان کے کم عمر نوجوانوں کے علاوہ تاجکستان و ازبکستان کے پسماندہ علاقوں سے بھی کم عمر بے روزگار نوجوانوں کو بھاری معاوضے پر مختلف ملازمتوں کا جھانسہ دیکر بھرتی کیا جاتا اور خاصی معقول رقم ان نوجوانوں کے ورثاء کو ادا کی جاتی۔ نوجوانوں کو کیمپ میں اچھی خوراک، لباس اور رہن سہن مہیا کیا جاتا اس دوران بھارت سے لائے گئے ماہرین نفسیات مسلمان مولویوں کے روپ میں دو سے تین ہفتوں تک ان نوجوانوں کو تبلیغ سے نوازتے۔ انکے سامنے مسلمانوں کو عالمی سطح پر درپیش مسائل کی تفصیل بیان کی جاتی اور مسائل کی وجوہات بتائی جاتیں۔ ان کے ذہن میں بٹھادیا جاتا کہ آج کے دور میں مسلمانوں کو درپیش تمام مسائل کی جڑ پاکستان، پاک فوج اور آئی ایس آئی ہے۔ برین واشنگ کیلئے ازبک، تاجک، بلوچی یا پشتوبولنے والے ماہرین کا بندوبست کیا جاتا۔ کامیاب برین واشنگ کے بعد جو نوجوان پاکستان کے خلاف جنگ کیلئے تیار ہوتے انہیں براستہ افغانستان پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پہنچایا جاتا اور باقی رہ جانے والوں پر مزید محنت کی جاتی، بعض کو بھارت میں قائم دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں میں منتقل کیا جاتا تو کچھ کو پاکستانی سرحد کے قریب بنائے گئے مراکز میں بھیج دیا جاتا ان مراکز میں تیار شدہ دہشت گردوں کو چھوٹے خود کار ہتھیاروں کے استعمال، بارود سے بم بنانے، ان کی تنصیب کے علاوہ گوریلا جنگ کے رموز سکھائے جاتے۔ ایسا ممکن نہیں کہ پاکستان کے خفیہ ادارے یا وزارت خارجہ کا دفتر بھارت کے تاجکستان حکومت سے روابط کی حقیقت سے واقف نہ ہو۔ پاکستان کے وزیراعظم دو روزہ دورے پرکاسا1000معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لئے تاجکستان پہنچے تو وہاں موجود پاکستانی سفارت خانے کا فرض بنتا تھا کہ وہ تقریب کی ترتیب سے وزیراعظم کو آگاہ کرتا۔ اس معاہدے میں بھارت شامل نہیں تھا لیکن تقریب کے دوران سٹیج کی پشت پر لگایا گیا نقشہ دنیا کو یہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ بھارت کی طرف سے سی پیک منصوبے کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات پر اسے وسط ایشیائی ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس نقشے میں گلگت وبلتستان سمیت پورے کشمیر کو بھارتی علاقہ دکھایا گیا تھا۔ جس کے مطابق پاکستان کا چین کے ساتھ سرحدی تعلق نہیں بنتا۔ اصولی طور پر ہمارے سفارتخانے کو موقع پر ہی احتجاج کرنا چاہئے تھا اور تقریب کے اختتام پر وزیراعظم کو وہاں رکنے کی بجائے واپس آجانا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا یا ہمارے حکمرانوں نے اتنے اہم مسئلے کو جس کے ساتھ پاکستان کی شناخت وسلامتی جڑی ہے،کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ پاکستانی اخبارات میں کاسا 1000 معاہدہ کی تقریب میں لگائے گئے نقشے کی اشاعت کے بعد میڈیا میں احتجاج کی لہر بلند ہوئی اور معاملہ پاکستان کی سینٹ میں پہنچا تو وہاں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جواب دیا کہ انہیں معاملے کا علم نہیں تاہم اتنا جانتے ہیں کہ میزبان ملک نے اس پر افسوس کااظہار کیا ہے۔ سرتاج عزیز نے سینٹ میں بتایا کہ تاجکستان حکومت کی طرف سے کاسا1000معاہدہ کے حوالے سے شائع کردہ بروشر(جووہاں موقع پر تمام شرکاء میں تقسیم کیا گیا تھا)میں پاکستان کا درست نقشہ موجود ہے۔ سرتاج عزیز کے بیان سے لگتا ہے کہ انہوں نے بروشر میں شائع شدہ نقشہ بھی نہیں دیکھا تھا۔ نہ ہی سینٹ کے کسی رکن نے اسے دیکھنے کی زحمت گوارا کی جبکہ انہی بروشر میں شائع شدہ پاکستان کے نقشہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں پورے کشمیر جس میں آزاد کشمیر شامل ہے، کو بھارتی علاقہ دکھایا گیا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ سینٹ میں کھڑے ہوکر وزیراعظم کے مشیر خارجہ جو ایک انتہائی تجربہ کار سیاستدان اور سفارت کا ر ہیں وہ اس نقشہ کو درست قرار دے رہے ہیں۔وہ بھی ان حالات میں جب بھارت انتہائی جارحانہ انداز سے ایک طرف ایٹمی اسلحہ سے لیس بیلاسٹک میزائلوں کے تجربات کے علاوہ ملک میں جدید اسلحہ کے انبار لگانے میں مصروف ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھانے کیلئے باقاعدہ قانون سازی کررہا ہے۔ جس کے بعد نشریاتی واشاعتی اداروں کی طرف سے کشمیر کو بھارت سے الگ کرکے یا متنازعہ دکھانے کی صورت میں بھاری جرمانہ وقید یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے جو کہ ایک لاحاصل مشق ہے۔ قبل ازیں پاکستان بھارت کے خلاف بہت سی شکایات اقوام متحدہ میں درج کراچکا ہے جن کا آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ تاہم اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ پاکستان بھی اپنے مکمل نقشے کی اشاعت کو قانونی شکل دے اور بھارت کے خلاف عالمی سطح پر ایک بھر پور سفارتی مہم ترتیب دے لیکن پہلے ہماری سیاسی اشرافیہ اور حکمران بھارت کو پاکستان کا دشمن سمجھنے کیلئے تیار توہوں۔