پشاور میں انتظامیہ کے دعوؤے بے نقاب ، چترال میں جاں بحق افراد کی تعداد 32 ہو گئی، گدو میں اونچے،سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب

26 جولائی 2015 (19:02)
پشاور میں انتظامیہ کے دعوؤے بے نقاب ، چترال میں جاں بحق افراد کی تعداد 32 ہو گئی، گدو میں اونچے،سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب

پشاور میں بادل جم کر برسے تو ابر رحمت شہریوں کیلئے زحمت بن گیا ، صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث آدھا شہر پانی میں ڈوب گیا ، انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی بھی کھل گئی ، بارش کے بعد بڈھنی نالے میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی  جس کے باعث قریبی علاقوں میں تین سے چھے فٹ تک پانی جمع ہو گیا ، مکانات اور دکانیں بھی پانی میں ڈوبی رہیں -
انتظامیہ حرکت میں آئی  مگر بارش رک جانے کے بعد ، چارسدہ روڈ پر بڈھنی پل کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے فوری بند کیا ، سردار کالونی ، خوشحال باغ ،سمیت دیگر رہائشی علاقے بارش سے شدید متاثر ہوئے جہاں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے -
انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے ریسکیو سرگرمیاں تیز کیں ، اور سو کے قریب خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ، پاک فوج نے بھی بھرپور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا-
انتظامیہ کے مطابق بڈھنی نالے میں چار سدہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ تیرہ ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، محکمہ موسمیات نے پشاور سمیت خیبرپی کے مختلف شہروں میں مزید بارشوں کو پیشگوئی کی ہے جبکہ انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئیں ہیں-

چترال میں قیامت خیز سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں نہ رک سکیں ،  جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بتیس ہو گئی

چترال میں سیلابی ریلوں نے قیامت برپا کر دی ، سیلاب کی آفت لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی بہا کر لے گئی ، کسی کا گھر تباہ ہوا ،کسی کا باغ اور کھیت اجڑ گیا ، رشین گول نالے میں بےقابو سیلابی ریلے میں مزید دو افراد بہہ گئے ، بپھری موجیں مسجد سمیت متعدد دکانیں اور گھر بہا کر لے گئیں-
تَلاطُم خیز پانی رابطہ سڑکیں اور پل بہا کر لے گیا اور متعدد دیہات ایک دوسرے سے جدا ہوگئے، پاک فوج کے جوان ہیلی کاپٹرز کے ذریعے محصور ہوجانے والے افراد کو امدادی اشیاء پہنچا رہے ہیں ، اپر چترال کی مختلف بستیوں میں پھنسے کچھ افراد کو آرمی جوانوں نے محفوظ مقام پر پہنچایا ، وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کا سلسلہ نہ تھمنے سے ابھی تک متعدد سڑکوں کی بحالی کا کام شروع نہیں کیا گیا ، آسماں پر چھائے گہرے بادل مزید اندیشوں کو جنم دے رہے ہیں -
سیلاب کے دوران اب تک تین سو سے زائد گھر مکمل طور پر بہہ گئے ہیں ، گاؤں اٹھول صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے ، پچیس افراد سیلابی ریلے میں بہہ چکے ہیں جن میں سے چودہ افراد کی لاشیں ملی ہیں ، شدید متاثرہ دیہات میں مجگول ، وری جون ، سہت ، گہت اور کشم شامل ہیں -
دوسری جانب گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور گلیشئیرز پگھلنے کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بپھرے ہوئے نالوں نے بلتستان میں ساٹھ سے زائد دیہات میں تباہی مچا دی ہے۔ پچہتر سے زائد دیہاتوں کو فلڈ وارننگ کے تحت خالی کروا لیا گیا ہے، پاک فوج کی جانب سے امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں ہیں۔ضلع گانچھے کے مختلف علاقوں سلترو، تلس، چھوربٹ، تھلے، بلغار، غواڑی، غورسے، سمیت کئی علاقے سیلاب کی نذر ہوگئے-
سیلابی پانی داخل ہونے سے مکانات، اسکول اور مساجد کو شدید نقصان پہنچا اور ہزاروں ایکڑ اراضی میں کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں،ضلع دیامر میں صورتحال کچھ مختلف نہیں ،، وہاں بھی متعدد مقامات پر تباہی کا شکار ہو چکے ہیں -

چترال میں سیلاب کے باعث ایک سوپینسٹھ مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ سینتالیس کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے: مشتاق احمد غنی

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مشتاق احمد غنی نے کہا کہ چترال میں کاموں کی بحالی کے لئے فنڈز کو آڑے نہیں آنے دیں گئے۔ چترال کے متاثرہ سڑکوں کی بحالی اور پلوں کی تعمیر نوں پر ایک ارب روپے جبکہ آبپاشی کی اسکیموں کی بحالی پر چوالیس کروڑ روپے خرچ ہونگے جو کہ صوبائی حکومت فراہم کرے گءچترال کے متاثرہ علاقوں میں فرنٹیئر سکاوٹ اور آرمی کے جوان سول اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ آرمی کے جوان راشن تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو بھی نکال رہے ہیں انھوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ کے شعبے میں اکسٹھ واٹر اسکیموں کو بھی نقصان پہنچا ہے جن میں سے دس کو بحال کر دیا گیا ہے جبکہ تیس واٹر سپلائی اسکیموں کی بحالی کے لئے پائپ بھجوا دئیے گئے ہیں۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ چترال میں بارہ سو ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور پانچ اشاریہ سات فیصد پھلوں کے باغات تباہ ہوئے ہیں۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے پاس چوھتر ہزار بوری گندم موجود ہے جو کے ایک ماہ کے لئے کافی ہے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ کمی کی صورت میں پی ڈی ایم اے سے فوری طور پر رابطہ کریں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو بھی ٹرینگ دی جائے گئی تاکہ حادثات اور قدرتی آفات کے موقعوں پر پولیس کے جوان بھی پاک فوج کے جوانوں کے شانہ بشانہ کام کر سکیں۔

فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ اور دریائے کابل میں اس وقت درمیانے درجے جبکہ دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب ہے-

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دیائے سندھ میں چشمہ ، تونسا، گڈو ، اور سکھر کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے - دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر بھی پانی بپھرتا جا رہا ہے  جہاں اس وقت درمیانے درجے کا سیلاب ہے- تربیلا ، کالا باغ، دریائے چناب اور دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب ہے- مون سون بارشوں کے باعث دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ انتہائی تیز ہے جہاں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے- نالہ بھمبھر ، پالکو، ایک ، ڈیک اور بین میں بھی اس وقت پانی کی سطح انتہائی بلند ہے-

تربیلا میں اس وقت پانی کی آمد تین لاکھ باسٹھ ہزار جبکہ پانی کا اخراج تین لاکھ پانچ ہزار کیوسک ہے، گڈو میں اس وقت پانی کی آمد پانچ لاکھ تیرہ ہزار جبکہ اخراج چار لاکھ اکانوے ہزار ہے، سکھر بیراج پر پانی کی آمد چار لاکھ جبکہ اخراج تین لاکھ اٹھاون ہزار کیوسک ہے، منگلا میں پانی کی آمداکہتر ہزار جبکہ اخراج تہتر ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ، مرالا میں پانی کی آمد ایک لاکھ اٹھائیس ہزار جبکہ اخراج ایک لاکھ کیوسک ہے، ہیڈ تریموں پر پانی کی آمد ایک لاکھ بائیس ہزار جبکہ اخراج ایک لاکھ چھے ہزار ہے-
تریبلا میں اس وقت پانی کی سطح پندرہ سو انتالیس ہے جبکہ اس کی حد پندرہ سو پچاس فٹ ہے، منگلا میں بھی پانی کی سطح بارہ سو چھتیس فٹ پر ہے جبکہ اس کی حد بارہ سو بیالیس ہے- دریائے کے قریب رہنے والے کو علاقہ چھوڑنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں -

سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں زور و شور سے جاری
سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوان دن رات امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں ، چترال کے بعد پنجاب سمیت دیگر سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق لیہ،ڈی جی خان اورراجن پورمیں پاک فوج کے جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں -
پاک فوج کے جوانوں نے لیہ اور گرد و نواح سے نو سو ساٹھ افراد کو ریسکیو کیا ،لیہ کے میڈیکل کیمپ میں بھی آٹھ سو تین افرادکو طبی امداد دی گئی ، جھکڑامام بندکےشگاف کوپر کرنےکیلئےدن رات کام جاری ہے،راجن پورمیں بیٹ سونترہ میں میڈیکل کیمپ قائم کیاگیاہے-
آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک چالیس ہزار افراد اور تہتر ہزار پانچ سو تیس مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ، متاثرین میں کھانےکےتھیلےبھی تقسیم کیےگئے-

 محکمہ موسمیات نے بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے مزید تباہی کی وارننگ جاری کر دی

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹے کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، خیبر پی کے کے مختلف علاقوں مالاکنڈ ڈویژن، ہزارہ، پشاور، اپر فاٹا، باجوڑ مہمند، خیبر، اورکزئی اور کرم ایجنسی میں آندھی کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے، سندھ میں سکھر، لاڑکانہ، میر پورخاص، اور حیدرآباد ڈویژن میں بھی بارشوں اور آندھی کی پیشگوئی کی گئی ہے، پنجاب میں لاہور، گوجرانوالہ، کشمیر، سرگودھا، ملتان، ڈی جی خان، بہاولپور اور ساہیوال ڈویژن، میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،، بلوچستان میں ژوب، سبی اور نصیرآباد ڈویژن میں بھی آندھی کے ساتھ شدید بارشیں ہونگی-
مون سون بارشوں کے باعث پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور شمال مشرقی بلوچستان کے ندی نالوں میں طغیانی جبکہ کشمیر، مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے-
دوسری جانب بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے مزید تباہی کی وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا حالیہ سلسلہ منگل تک جاری رہیگا،جس کے بعد جمعرات سے نیا سلسلہ ملک میں داخل ہو گا،جبکہ مزید بارشیں برسیں گی-

دریائے سندھ میں تربیلا کےمقام پر درمیانے سے اونچے درجہ کے سیلاب کا خدشہ, این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایت کر دی

ترجمان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق دریائے سندھ کے بالائی علاقے مون سون بارشوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ آئندہ چوبیس گھنٹے میں دریائے سندھ کے بالائی جلگراہ علاقے میں تربیلا کے مقام پر پانی کا بہاو چارلاکھ نوے ہزار کیوسک سے بڑھ کر پانچ لاکھ پچاس ہزار کیوسک ہونے کا خدشہ ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں عوام کے جان و مال کو محفوظ بنانے اور ان کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے حوالے سے تمام متعلقہ محکموں کو پیشگی ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔