غربت میں کمی‘ آمدن بڑھی‘ افریقہ ترقی کے راستے پر گامزن ہے: اوباما

26 جولائی 2015

نیروبی (بی بی سی+اے ایف پی+نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر براک اوباما نے کینیا پہنچنے کے بعد دارالحکومت نیروبی میں خطاب کے دوران افریقہ میں معاشی اور تجارتی مواقعوں کی تعریف کی ہے۔ایک تجارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا افریقہ ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ لوگ میں غربت و افلاس کم ہو رہی ہے۔ آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور متوسط طبقہ بڑھ رہا ہے۔‘کینیا کے صدر کے ساتھ سکیورٹی کے معاملات پر بات چیت کرنے سے قبل اوباما نے 1998 میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے حملے کی یادگار کا دورہ کیا اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ القاعدہ کے اس حملے میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 12 امریکی اور سفارت خانے کے 34 مقامی اہلکار شامل تھے۔خیال رہے کہ اوباما کا اپنے والد کے آبائی وطن کا یہ پہلا دورہ جمعے کو شروع ہوا۔کینیا کی میڈیا میں ان کے دورے کو ’گھر آمد‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور لوگوں نے ہوائی اڈے سے چلنے والے اوباما کے قافلے کا خیر مقدم کیا۔امریکی صدر نے گلوبل انٹرپیرینیئرشپ اجلاس کی صدارت کی۔گلوبل انئرپیرینیئر شپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’افریقہ کو مستقبل کے عالمی ترقی کا مرکز ہونے کی ضرورت ہے۔‘ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومتوں کو اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہاں بدعنوانی نہ بڑھے۔انہوں نے کہا کہ اْن کے پہلے کے دورے کے بعد سے کینیا میں زبردست ترقی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا: ’جب 10 سال قبل میں یہاں نیروبی آیا تھا یہ اب پہلے سے بہت مختلف ہے۔‘دو روزہ دورے کے دوران اوباما نے کینیا کے صدر اہورو کینیاٹا اور دیگر اعلیٰ حکام سے باہمی امور پر بات چیت ہوئی۔انہوں نے ہم جنس پرستوں کو مساویانہ حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ بی بی سی کے سکیورٹی،تجارت ، انسانی حقوق اور کینیا کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر زیادہ زور دیا گیا۔ اوباما کے دورے کے پیش نظر کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور 10 ہزار پولیس اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے۔نیروبی پہنچنے پر ان کی سوتیلی بہن اوما نے انہیں گلے لگایا اور عشائیے پر ان کے دوسرے رشتے بھی شریک تھیں جن میں ماما سارا بھی تھیں جنھوں نے ان کے والد کی پرورش کی تھی۔ اوباما آج اتوار کو ایتھوپیا جائیں گے جہاں وہ افریقی یونین سے خطاب کریں گے۔ افریقی یونین سے خطاب کرنے والے براک اوباما امریکہ کے پہلے صدر ہوں گے۔ صباح نیوز کے مطابق اوباما نے کہا نئے کاروباری اداروں کیلئے ایک ارب ڈالر سے زائد کا سرمایہ حاصل کیا ہے۔ اپنے کلتات میں کہا کہ مجھے دوبارہ کینیا آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ یہاں آنا میرے لئے ذاتی اہمیت رکھتا ہے۔ میرا خاندان اس جگہ سے ہے اور میرے رشتہ دار اور خاندان کے افراد یہاں رہتے ہیں۔ افریقہ دنیا کے تیز ترین ترقی کرنے والے براعظموں میں شامل ہے۔ صدر کینیاٹا نے اپنی تقریر میں کینیا کی سلامتی کے مسائل اور اس کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کا ذکر کیا اور حاضرین سے کہا کہ وہ اپنے ملک واپس جا کر اور دنیا بھر میں اپنے دوستوں کو بتائیں کہ افریقہ کاروبار کیلئے کھلا اور تیار ہے۔ امریکی عہدیداروں نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث صدر مغربی کینیا میں واقعہ گاں کوگیلو نہیں جا سکیں گے جہاں ان کے والد پیدا ہوئے اور اب دفن ہیں۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے مقابلے کیلئے متحد ہیں، دہشت گرد تنظیموں کو کافی حد تک ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ صومالیہ میں انتہا پسند گروہ الشباب کو کمزور کر دیا۔