مجید نظامی: اعلیٰ صحافتی قدریں جن پر ہمیشہ نازاں

26 جولائی 2015

’’بیٹھ جائیں اور فرمائیے‘‘…!
مجید نظامی صاحب کا یہ جملہ سنتے ہوئے میں نے اُس سحر سے نکلنے کی کوشش کی جو ان کو اپنے سامنے دیکھ کر میرے اوپر طاری تھا۔ میں نے کہا ’’جی! میں فری لانس لکھتا ہوں میرے پاس معاصر اخبارات میں شائع ہونے والے اپنے مضامین کی کاپیاں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ نوائے وقت میں بھی لکھوں‘‘ انہوں نے میری طرف دیکھا اور پوچھا ’’کیا عمر ہو گی آپ کی اور کب سے لکھ رہے ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’23 برس اور دو سال سے لکھ رہا ہوں‘‘ ’’کچھ دکھائیے‘‘ حکم ہوا۔ میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے اخباری صفحات بڑے احترام سے ان کے سامنے کر دئیے۔
میرے مضامین دیکھ کر فرمایا ’’آپ فری لانس کیوں لکھتے ہیں ہمارے پاس اس وقت گنجائش ہے آپ باقاعدہ ملازمت اختیار کر لیں‘‘ اس سے قبل ایک معاصر کی طرف سے ایسی ہی پیشکش پر میں سوچنے کا وقت لے چکا تھا (مستقبل کے مختلف منصوبوں کی وجہ سے)لیکن نظامی صاحب کی شخصیت ایسی تھی کہ انکار کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ چنانچہ منیر صاحب نے میرا ہاتھ تھاما اور سینئر نیوز ایڈیٹر وحید قیصر صاحب کے پاس نیوز روم لے گئے۔ انہوں نے اپنی عینک کے شیشوں سے اوپر میری طرف دیکھا اور کہا ٹیسٹ کیلئے تیار ہو جائیں۔ میں نے ٹیسٹ دیا اور گھر آ گیا۔ ایک دو روز کے بعد چیف نیوز ایڈیٹر عباس اطہر صاحب نے بلایا اور بتایا کہ میں نیوز رُوم میں کام کروں گا اور رات کی شفٹ میں آنا پڑے گا۔ نیوز رُوم میں کام شروع کیا۔ فائل نظامی صاحب کے پاس گئی تو انہوں نے اگلے روز ملنے کا حکم منیر صاحب کے ہاتھ بھجوا دیا۔ رات کی شفٹ کے بعد یہ سوچ کر نیند ہی نہ آئی کہ نظامی صاحب نے بلایا ہے کہیں سوتا نہ رہ جاؤں۔ اگلی صبح ان کے پاس حاضر ہوا تو مجھے دیکھ کر مسکرائے اور کہا بھئی آپ کا نوکری کا تجربہ کیسا جا رہا ہے؟ میں نے نظریں جھکا کر کہا جی ٹھیک ہے۔ نظامی صاحب نے کہا ’’وحید قیصر صاحب نے ٹیسٹ میں آپ کو بہت نمبر دئیے ہیں امید ہے آپ محنت سے کام کرکے اپنا مقام بنائیں گے۔ ادارہ امید کرتا ہے کہ نیوز روم کے کام کے ساتھ ساتھ آپ لکھتے لکھاتے بھی رہیں گے‘ ‘میں نے شکریہ ادا کرکے اجازت لی اور گھر آ گیا۔
اس کے بعد دو تین ہفتے متواتر قومی افق کیلئے کچھ نہ کچھ لکھ کر نظامی صاحب کو بھجوا یا اور انہوں نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نمایاں طور پر شائع کرایا۔ ہو سکتا ہے یہ سلسلہ جاری رہتا لیکن تین یا چار ہفتوں کے بعد ایک ’’سینئر مہربان‘‘ (جن کی اپنی دکان ماند پڑ رہی تھی) درمیان میں آ گئے۔ میری تحریر کی تعریف کی اور مجھے مزید سکھانے کا ’’ذمہ لے کر میرے مضامین اپنے پاس منگوا کر روکنے لگے۔ مزید دو تین ہفتے تو میں لکھتا اور ان کے بہانے دیکھتا رہا اس کے بعد میں نے لکھنا بند کر دیا۔ ایک روز منیر صاحب کے ذریعے پیغام ملا کہ ’’صاحب یاد کر رہے ہیں، صبح آ جائیں‘‘ خدمت میں حاضر ہوا۔ بڑی شفقت سے حال احوال کیا اور فرمانے لگے کہ ’’آج کل لکھنا کیوں چھوڑ رکھا ہے؟‘‘ میں انہیں ’’سینئر مہربان‘‘ کے بارے میں بدگمان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے عرض کر دیا کہ ’’آج کل میں نیوز رُوم کا تکنیکی کام سیکھنے میں مصروف ہوں‘‘ فرمانے لگے ’’یہ بھی اچھا ہے آپ کو ایسا ضرور کرنا چاہئے‘‘
لوگ ’’کنگ میکر‘‘ ہوتے ہیں مجید نظامی صاحب ’’صحافی میکر‘‘ تھے۔ ان کے زیرسایہ سینکڑوں نہیں ہزاروں لکھنے والے صحیح معنوں میں لکھنے والے بن گئے۔ کالم نگاروں کا اصل مسودہ نیوز رُوم آتا ہے، میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں کہ کئی ایسے فقرے جو کالم نگاروں کے حوالے سے یادگار بن گئے اور جن پر انہوں نے بہت داد پائی وہ ان کی تحریر نہیں تھے بلکہ نظامی صاحب کے شامل کردہ تھے۔ نظامی صاحب کے لکھے ہوئے جملوں میں ایسی کاٹ ہوتی تھی کہ بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا تھا۔ وہ صحافت کا ایسا معیار تھے کہ جس سے کسی دوسرے صحافی کے قد کا تعین ہوتا تھا۔ نظامی صاحب ہر اس شخص کی حوصلہ افزائی کرتے تھے جو صحافت میں کچھ کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے سینکڑوں کالم نگار ’’تخلیق‘‘ کئے اور ہزاروں صحافی ’’پیدا‘‘ کئے۔ اگر وہ کسی میں کام کی چھوٹی سی بھی رمق دیکھتے تو اس کی پوری حوصلہ افزائی کرتے۔ اتنی حوصلہ افزائی کرتے کہ وہ شخص واقعی اپنے آپ کو کوئی شے سمجھنے لگتا۔
نیوز رُوم میں کام کرتے ابھی تین چار برس ہی ہوئے تھے کہ نظامی صاحب نے شفٹ انچارج نائٹ کیلئے مجھ ناچیز کو نامزد کر دیا۔ یہاں ایک اور ’’مہربان‘‘ آڑے آئے اور نظامی صاحب سے کہا کہ ابھی وہ چھبیس، ستائیس برس کا ہے اتنی بڑی ذمہ داری نہ ڈالیں۔ محترم نظامی صاحب نے کمال شفقت سے فرمایا کہ ’’میرا خیال ہے کہ آزمانے میں کوئی حرج نہیں‘‘ اس پر اس ’’نام نہاد مہربان‘‘ نے اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلایا اور کہنے لگے لیکن ابھی تو وہ ادارے میں کنفرم بھی نہیں۔ اس پر قریب موجود ایک حقیقی مہربان کہنے لگے ’’کام کرکے دکھائے گا تو کنفرم بھی ہو جائے گا‘‘ جس پر نظامی صاحب نے میرا نام کنفرم کر دیا۔ مجھے ادارے کی طرف سے تحریری طور پر آگاہی ملی تو نظامی صاحب سے ملنے کی اجازت چاہی۔ (دراصل ان دنوں میں اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی اور منصوبہ بندی کر رہا تھا) ملاقات پر گزارش کی کہ اگر ممکن ہو تو ابھی یہ ذمہ داری مجھے نہ دی جائے جس پر نظامی صاحب نے فرمایا کہ ’’ممکن تو ہے لیکن آپ ذمہ داری لینے سے کیوں گھبرا رہے ہیں۔ میری ٹیم کا حصہ ہو کر اتنی گھبراہٹ… ڈٹ جائیں‘‘
مجھے اکبر الہ آبادی کا مصرعہ یاد آ گیا
گومشت خاک ہیں پر آندھی کے ساتھ ہیں
نظامی صاحب کی ٹیم کا حصہ تھا اس کی لاج رکھنا بہت ضروری تھی۔ فوری طور پر حامی بھری اور محنت سے کام کرنے کا وعدہ کرکے چلا آیا۔
مجیدنظامی صاحب سادہ دل انسان، کھرے سچے پاکستانی مسلمان تھے۔ ان کی زندگی میں ہزاروں افراد نے ان کی سادہ دِلی کا فائدہ اُٹھایا اور چاند پر تھوکنے کی کوشش بھی کی لیکن ان کاسہ لیس صحافیوں کے قابل مذمت روپ نے بھی نظامی صاحب کو بددل نہ کیا بلکہ وہ تندہی سے حوصلہ افزائی کرتے رہے۔
ان کی موجودگی میں محسوس ہوتا تھا کہ حکمران چھوٹی چیز ہے اور صحافت بڑا کام ہے۔ نظامی صاحب کے اس جہان سے چلے جانے کے بعد صحافت حکمرانی سے چھوٹی محسوس ہونے لگی ہے۔
نیشنلزم پر ہم نے بہت لکھا اور پڑھا ہو گا لیکن وطن سے محبت کے جو تقاضے نظامی صاحب نے نبھائے ہیں اور جو معیار انہوں نے مقرر کئے ہیں وہ بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
ہر رنگ میں چاہا ہے لیلائے وطن کو
قدرت نے نظامی صاحب کو صحافت کی خوبیوں سے مالا مال کر رکھا تھا۔ یہاں ایک واقعہ اور سناتا چلوں ایک خبر تھی (اب یاد نہیں آ رہا کیا تھی) میں نے عباس اطہر صاحب سے اس پر مشورہ کیا کہ شائع کی جائے یا نہیں! فیصلہ ہوا نظامی صاحب کو بھجوا دی جائے۔ ہمارا خیال تھا کہ خبر ناقابل اشاعت ہے۔ کچھ دیر کے بعد نظامی صاحب کی طرف سے خبر کلیئر ہو کر آ گئی۔ انہوں نے اس پر ایسی سرخی جمائی تھی کہ وہ ایک دم سے قابل اشاعت محسوس ہونے لگی۔ اس روز ہم نے نتیجہ نکالا کہ نظامی صاحب اپنے کاٹ دار جملوں سے ادارئیے اور کالم زوردار بنا دینے کے ماہر ہی نہیں بلکہ وہ ہر خبر کو قابل اشاعت بھی بنا سکتے ہیں۔ نظامی صاحب نوائے وقت کی ٹیم کو اپنے ملازمین نہیں بلکہ ساتھی سمجھا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار کسی بات پر میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ ’’میں آپ کا ملازم ہوں‘‘ اس پر نظامی صاحب نے فرمایا کہ آپ اور باقی سب کو میں نے کبھی ملازم نہیں سمجھا، آپ سب لوگ میری ٹیم کا حصہ ہیں آئندہ یہ لفظ مت ادا کیجئے گا۔
نظامی صاحب نے اپنی ٹیم کو ہمیشہ صحافت کے شاندار اصول سمجھائے۔ وہ پگڑیاں اُچھالنے کے سخت خلاف تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سچی خبر ہے تو ڈٹ جائیں۔ ادارہ مکمل طور پر آپ کا ساتھ دے گا۔ اس کی بھی تلقین کیا کرتے کہ صحافت ذاتی فائدے کیلئے ہونی چاہئے نہ ذاتیات پر مبنی ہونی چاہئے۔ یقینا وہ ہمارے عہد کے بہت بڑے انسان اور بہت بڑے صحافی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین!