سَر راہے کی شگفتگی میں مجید نظامی کا حصہ

26 جولائی 2015

مزاحیہ کالم لکھنا یا مزاح پیدا کرنا ایک خداداد صلاحیت ہے اور پھر مزاح اور پھکڑ پن میں تفریق قائم رکھنا اسے بدذوقی کی علامت بننے سے بچانا بھی ایک بڑا کمال ہے۔ ہنسنا ہنسانا کسے اچھا نہیں لگتا، مگر اس کو طعن وتشنیع کی ملاوٹ سے دور رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا سالن میں نمک اور چائے میں چینی کی مقررہ مقدار ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ دونوں کڑوے زہر بن سکتے ہیں۔

ادبی دنیا میں مزاحیہ ادب کی ایک اپنی پہچان ہے۔ شاعری ہو یا نثر دونوں میدانوں میں بڑے بڑے نامور لکھاری پیدا ہوئے ماضی ہو یا حال یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک صاحب قلم اس میدان میں نام ور ہوئے۔ مزاحیہ شاعری اور مزاحیہ ناول، افسانے بے شمار لکھے گئے جنہیں عوام میں پذیرائی بھی خوب ملی، مزاحیہ مشاعروں کی روایت بھی ہمارے ہاں اسی ذہنی تفریح اور ہنسنے اور ہنسانے کے روایت کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
اردو صحافت میں بھی جب مزاحیہ کالم لکھنے کا آغاز ہوا تو اس میں طنز اور مزاح کا استعمال ادبی روایت سے ہٹ کر کرنا پڑا، یہاں ادبی زبان سے زیادہ عوام کے فہمکو مدنظر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ ادب پڑھے لکھے افراد کے لئے تخلیق ہوتا ہے اور کالم عام فہم معمولی سے معمولی پڑھے لکھے افراد کے لئے لکھنا پڑتا ہے۔ معمولی پڑھا لکھا آدمی جب کسی مزاحیہ یا فکاہیہ کالم کو پڑھتا ہے تو اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق اس سے لطف اٹھاتا ہے اور ایسے لکھنے والے کا بھی فرض ہے کہ وہ عوام کی ذہنی سطح اور علم وفہم کو پڑھے لکھے باشعور افراد کے فہم وادراک کے ساتھ مدنظر رکھے۔
نوائے وقت میں ’’سرراہے‘‘ کا وجود ایک ایسے ہی سنگ میل کی مانند ہے جو فکائیہ یا مزاحیہ کالم نویسی کی حدود کے آغاز اور اختتام کی رہنمائی کرتے کرتے آج آدھ صدی سے زیادہ عرصے سے اعلیٰ فہم سے لے کر عام فہم افراد تک کی ذہنی آبیاری کررہا ہے، جناب حمید نظامی ہوں یا مجید نظامی کے قلم سے مختلف موضوعات پر جب حکمرانوں کو سیاستدانوں کو یا خود عوام کو جگانا ہوتا ٹہوکا دینا ہوتا تو وہ بوجھل موضوعات سے بچ کر سنجیدہ لہجے سے ہٹ کر دل کو چھو لینے والے الفاظ میں ایسی چٹکی کاٹتے کے مخاطب فریق اچھل پڑے یا نہ پڑے چونک ضرور اٹھتا۔ یہ چٹکی کاٹنے کی اصطلاح بھی جناب مجید نظامی صاحب کی خاص اصطلاح ہے جسے وہ ’’چونڈی وڈنا‘‘ کہتے تھے اس چٹکی کاٹنے میں موضوع سے لے کر خاص الفاظ تک استعمال کی جو مہارت انہیں حاصل تھی یہ اسی کا کمال تھا کہ انہوں نے اپنے بعد سرراہے لکھنے والے بڑے بڑے نامور اہل علم واہل قلم صحافیوں کی ہر مقام پر بھرپور رہنمائی کا فریضہ اس طرح انجام دیا کہ آج مجھ جیسے ناچیز بھی یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ صرف ایک لفظ کو تبدیل کر کے نظامی صاحب سارے کے سارے سرراہے کو اپنا رنگ عطا کرتے تھے اور ہم یہ فخر سے کہتے تھے کہ یہ تحریر ہماری نہیں نظامی صاحب کی ہوگئی ہے۔
عمر کے ساتھ ساتھ جہاں ان کی بردباری اور وقار میں اضافہ ہوتا رہا ان کے مزاح کی حس میں بھی چاشنی اور ندرت بڑھتی گئی وہ سرراہے کے ٹکڑوں کے موضوعات کے انتخاب میں ایسی لاجواب اور نایاب سرخیوں کا انتخاب کرتے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ان موضوعات پر فکا ہیہ کالم یا مزاحیہ کالم لکھا جا سکتا ہے۔ پنجابی اردو اور انگریزی ادب پر ان کو عبور حاصل تھا وہ بڑی نفاست سے سر راہے لکھنے والوں کو اپنے قیمتی مشورے اور بعض اوقات صرف ایک لفظسے اس طرح نوازتے کہ خودبخود سرراہے کے مضامین قلم کی نوک سے ٹپکنے لگتے۔
یہ ان کی نگرانی کا ہی فیض ہے کہ آج تک نوائے وقت کا سرراہے کبھی ذاتیات پر نہیں آیا۔ اخلاقیات کی حدود سے نہیں نکلا، کسی پر الزام تراشی سے محفوظ ہے، ورنہ میڈیا میں جہاں بھی طنزومزاح کی بات ہوتی ہے وہاں عام طور پر اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور ذاتیات واخلاقیات تک کی پرواہ نہیں کی جاتی۔
اخباری دنیا سے تعلق رکھنے والے ہر مزاحیہ یا فکا ہیہ کالم نویس کے لئے آج بھی جناب مجید نظامی کے لکھے ہوئے سرراہے رہنمائی کا ایک استاد کا کام انجام دے سکتے ہیں، ورنہ جیسا ہنسنا اور ہنسانا آج کل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے یا اخبار کے صفحات پر لکھا جا رہا ہے اس میں اور سٹیج کے بدذوق مزاح میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔