ان کے ہونٹوں سے نکلے جملے اداریہ بن جاتے

26 جولائی 2015

میں ان خوش نصیب اخبار نویسوں میں سے ہوں جنہیں میدان صحافت کے شہسور واجب الاحترام نوائے وقت گروپ آف نیوز پیپرز کے ایڈیٹر انچیف جناب مجید نظامی مرحوم کے زیرسایہ صحافتی خدمات انجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ طویل عرصے کے دوران مختلف اوقات میں بطور سٹاف رپورٹر، چیف رپورٹر، میگزین ایڈیٹر اور رکن ایڈیٹوریل بورڈ سمیت ہفت روزہ ندائے ملت کے ایڈیٹر کے فرائض بھی انجام دئے۔ ہفت روزہ ندائے ملت کا ایڈیٹر مقرر کرنے سے چند برس قبل محترم مجید نظامی مرحوم نے کمال شفقت کا برتائو کرتے ہوئے مجھے ایڈیٹوریل کے شعبے میں بھجوا دیا۔ اس سے قبل مجھے بلا کر کچھ ضروری ہدایات بھی دیں کہ مجھے اس شعبے کے فلاں فلاں معاملے کو دیکھنا ہے اور ان کو اسی طرح سلجھانا ہے مجھے در حقیقت اس شعبے کے ایک انتہائی ذہین، فرض شناس ادارے بے پناہ صلاحیتوں کے حامل رکن ایڈیٹوریل بورڈ محترم طلعت کے مرحوم ہو جانے پر اس شعبے میں بھیجنے کی ضرورت جناب مجید نظامی مرحوم نے محسوس کی تھی ان دنوں راقم الحروف سمیت ایڈیٹوریل کا شعبہ کل پانچ افراد پر مشتمل تھا جن میں علم و ادب کی بڑی محترم شخصیت ماہر علوم عربی پروفیسر اسرار بخاری، پروفیسر محمد سلیم (مرحوم) اردو ادب کی قد آور شخصیت ڈاکٹر انور سدید اور ارشاد عارف شامل تھے۔ پروفیسر محمد سلیم (مرحوم) ادارتی صفحہ کے طنز و مزاج کے کالم ’’سرا رہے‘‘ لکھا کرتے تھے گویا مرحوم نے نوائے وقت کے ادارتی صفحہ پر اس فرض کی انجام دہی کا کام سنبھال رکھا تھا جو اس تاریخ ساز اخبار کے آغاز پر بانی نوائے وقت جناب حمید نظامی مرحوم ان کے ساتھ معمارِنوائے وقت جناب مجید نظامی اور بعد میں یکے بعد دیگرے ظہور عالم شہید، حبیب اللہ اوج، بشیر احمد ارشد اور وقار انبالوی انجام دیا کرتے تھے۔ دنیائے صحافت کے یہ سبھی آفتاب و مہتاب غروب ہو چکے ہیں۔ بیسیوں صدی کے آخری عشرے کے ابتدائی برسوں میں سر راہے رقم کرنے کا اہم کام پروفیسر محمد سلیم مرحوم ہی کیا کرتے تھے۔ پروفیسر محمد سلیم کسی ضرری کام یا علالت کے باعث رخصت پر ہوتے تو ان کی عدم موجودگی میں سر راہے لکھنے کا کام زیادہ تر ڈاکٹر انور سدید کیا کرتے۔ کبھی کبھار پروفیسر اسرار بخاری بھی لکھا کرتے مگر پروفیسر محمد سلیم کے مرحوم ہو جانے پر یہ فرض مستقل طور پر محترم مجید نظامی مرحوم نے پروفیسر اسرار بخاری کو سونپ دیا۔

جہاں تک ادارتی صفحہ کے ’’مغز‘‘ یعنی اداریہ کا تعلق ہے اس حوالے سے بلا خوف تردید یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان دنوں حقیقی صورت حال یہ تھی کہ اداریہ کا نفس مضمون سو فیصد جناب مجید نظامی مرحوم کا ہوتا تھا۔ صرف ضبط تحریر میں لانے والا قلم کوئی اور ہوتا تھا۔ جناب مجید نظامی مرحوم حسب عادت نو ساڑھے نو بجے صبح دفتر تشریف لاتے اپنے دفتر میں تشریف فرما ہونے کے بیس پچیس منٹ بعد ان کا معتمدِ خاص منیر ایڈیٹوریل کے شعبے میں آکر بتاتا کہ نظامی صاحب! تشریف لے آئے ہوئے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا کہ ایڈیٹوریل کے شعبے سے متعلق ارکان نظامی صاحب مرحوم کے دفتر میں میٹنگ کے لئے آجائیں۔ ہم سب میٹنگ میں شریک ہوا کرتے۔ ویسے تو ہم سبھی کاغذ قلم لئے تیار ہوتے تھے اور محترم مجید نظامی مرحوم میٹنگ میں جو کچھ فرماتے ان کی اس گفتگو کے نقاط لکھا کرتے۔ بعد ازاں تفصیل کے ساتھ ہر وہ لفظ لکھ لیا جاتا جو محترم مجید نظامی مرحوم کے لبوں سے ادا ہوتا۔
میٹنگ کا آغاز اس طرح ہوا کرتا کہ نظامی مرحوم کے آغاز ہی میں سبھی سے استفسار کیا کرتے۔ جی! آج کیا اہم خبریں ہیں سبھی بتاتے تو پھر مجید نظامی مرحوم ’’اہم ترین‘‘ خبر کو اداریہ کا موضوع بناتے ہوئے اس پر اظہار خیال کرتے، جو واقعہ رونما ہوتا یا جس واقعہ کے رونما ہونے کے امکانات یا خدشات ہوتے اس کے مثبت اور منفی پہلوئوں پر سیر حاصل اظہار خیال کرتے اور اس تسلسل اور تواتر سے ادارتی موضوع پر ٹھہر ٹھہر کر بولتے چلے جاتے کہ جب تک اس مسئلے کا پوری طرح جائزہ لیتے ہوئے اسے ادھیڑ کر نہ رکھ دیتے، رکنے کا نام نہ لیتے تھے۔ محترم مجید نظامی مرحوم کے منہ سے نکلا ہر لفظ تیزی سے لکھ لیا جاتا۔ اسی دوران چائے بھی آجاتی، چائے پینے کے دوران چند لمحوں کے لئے ادھر ادھر کی باتیں ہوتیں اور پھر جب محترم مجید نظامی مرحوم زیر تذکرہ اداریہ کے بارے میں بولتے تو وہیں سے شروع کرتے جہاں سے چند لمحے قبل انہوں نے چھوڑا ہوتا۔ مختصراََ یہ کہ جب میٹنگ ختم ہوتی تو گویا نوائے وقت کا اداریہ مکمل ہوتا صرف اسے قلم سے دوبارہ ضبط تحریر میں لانا ہوتاتھا۔ ایسی ہی میٹنگ میں محترم مجید نظامی مرحوم فرمایا کرتے کہ فلاں فلاح خبر کے حوالے سے شذرہ بھی لکھدیں اس میں فلاں فلاں بات شامل کر دی جائے۔ جناب مجید نظامی مرحوم سے میٹنگ کے بعد ادارتی شعبے میں اس وقت تک انتہائی سنجیدگی کا ماحول طاری رہتا جب تک ڈپٹی ایڈیٹر جناب مجید نظامی مرحوم کے اس بیان کو من و عن ضبط تحریر میں نہ لے آتے اور پروفیسر محمد سلیم مرحوم ’’سرا رہے‘‘ لکھ لیتے جبکہ مختلف کالموں اور مضامین کی ایڈیٹنگ کے فرائض میرے سمیت پروفیسر اسرار بخاری اور ڈاکٹر انور سدید کے ذمہ ہوتی تھی۔
سچی بات تو یہ ہے کہ پروفیسر اسرار بخاری، پروفیسر محمد سلیم اور ڈاکٹر انور سدید ایسی علمی شخصیتوں کی موجودگی میں ادارتی شعبے کا ماحول خالصتاََ علمی اور ادبی قسم کی گفتگو کا محور ہونا یقینی امر تھااور یہی ہوتا۔ پروفیسر محمد سلیم سررراہے قلم بند کر کے قاصد کے ہاتھ محترم مجید نظامی مرحوم کو بھجوا دیتے جو دیکھ کر واپس کر دیتے اس کے بعد سر راہے کا کالم کمپوز ہونے کے لئے بھیجا جاتا اسی طرح جناب مجید نظامی مرحوم کا زبانی بیان کیا گیا اداریہ جب ارشاد عارف قلم بند کر کے جناب مجید نظامی مرحوم کو قاصد کے ہاتھ بھجواتے تو جناب مجید نظامی مرحوم چند منٹوں بعد اسی میں اضافہ کرتے ہوئے اسی کی کانٹ چھانٹ کے بعد واپس بھجواتے اور پھر اداریہ کمپوز کیا جاتا اسی طرح میرے سمیت پروفیسر اسرار بخاری اور ڈاکٹر انور سدید کے کالم بھی محترم جناب مجید نظامی مرحوم کو بھیجے جاتے اور نظامی صاحب مرحوم اسی وقت انہیں باقاعدہ پڑھنے کے بعد واپس بھیجتے۔ اللہ تعالیٰ نے محترم مجید نظامی مرحوم کو زبان و کلام میں یہ خوبی بخشتی تھی کہ تحریر کے کسی ایک فقرے میں ان کی طرف سے اضافہ کیا گیا ’’ایک ہی لفظ‘‘ پوری عبارت کو نہ صرف چار چاند لگا دیتا بلکہ اسے کاٹ دار بنا ڈالتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ محترم مجید نظامی مرحوم کی اسی خوبی کی بدولت بعض افراد کو کالم نگاروں کی صف میں شامل ہونا نصیب ہوا۔ تا ہم یہ محترم مجید نظامی مرحوم ہی کی شخصیت کا اعجاز تھا کہ اس دور میں ادارتی شعبہ کے ارکان کی تالیف و تصنیف کی طرف رغبت کو جلد ملی۔ مختصراََ یہ کہ جناب مجید نظامی مرحوم کی مرنجان مرنج ادب دوست اور خالصتاََ صحافیانہ فہم و بصیرت ہی کے نتیجے میں ادارتی شعبہ ہر لحاظ سے مثالی رہا۔