عمران عادت سے مجبور، یوٹرن کے بادشاہ ہیں،قوم سے معافی مانگیں، توبہ بھی کریں: وزرا، لیگی رہنما

26 جولائی 2015

اسلام آباد+ لاہور (نمائندہ خصوصی+ خبرنگار+ ایجنسیاں+ سٹاف رپورٹر) عمران کی پریس کانفرنس میں وزیراعظم سے معافی مانگنے اور الیکشن کمشن ارکان کے استعفوں کے مطالبے پر وفاقی اور صوبائی وزرا نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ہم نے عمران سے معافی کا مطالبہ نہیں کیا۔ عمران نے دو سال تک جو الزام لگائے انکو دہرا نہیں سکے۔ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو خیبر پی کے میں حکومت بنانے کا موقع دیا گیا۔ عمران کو الزامات سے آگے چل کر بات کرنی چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت زیادہ امیدیں لگا لیتے ہیں، انکوائری رپورٹ سے پاکستان کے اداروں کا وقار بلند ہوا۔ عمران خان عادت سے مجبور ہیں‘ ہمارا استعفیٰ لینے نکلے تھے اب الیکشن کمشن تک پہنچ گئے، ان کی توقعات ایسی ہیں جیسے کل سورج نہیں نکلے گا‘ دنیا جانتی ہے کہ ملک و قوم کے 2 قیمتی سال ضائع ہوئے۔ خان صاحب کے کان میں جو کچھ کہا جاتا رہے وہی کرتے ہیں۔ انہوں نے افتخار چودھری‘ نجم سیٹھی‘ وزیراعظم کی 11 بجے والی تقریر کی بات کیوں نہیں کی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان کا وزیر اعظم سے معافی مانگنے کا بیان الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف ہے، پہلی بار کسی حکومت نے اپنا مینڈیٹ دائو پر لگایا‘ دھرنا سیاست سے ملک کو نقصان ہوا۔ عمران خان کو معذرت کرنی چاہئے تھی اگر وہ نہیں کر سکتے تو کوئی بات نہیں اگر یہ فیصلہ ہمارے خلاف آتا تو تحریک انصاف والوں نے ہمیں کبھی نہیں چھوڑنا تھا۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان نہ صرف قوم سے معافی مانگیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے توبہ بھی کریں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم لیگ (ن) کو قوم کے سامنے سرخرو کر دیا۔ جوڈیشل کمشن کے فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ مسلم لیگ (ن) ہی عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے۔ سٹیج پر دھاندلی کے نعرے لگانے والے عمران اب پچھتا رہے ہیں۔ وہ اب انقلاب کے جھوٹے دعووں سے نئی نسل کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ جوڈیشل کمشن کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خان کا رویہ ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کے مترادف ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ رحمن نے کہا ہے کہ عمران خان یوٹرن کے بادشاہ ہیں‘ کمشن کے فیصلے کے نتیجے میں طے تھا کہ الزامات خود بخود واپس ہو جائیں گے۔ کمیشن بناتے وقت طے ہوا تھا کہ انکوائری کمیشن کے فیصلے کے بعد کوئی کسی پر الزامات نہیں لگائے گا۔ چودھری نثار نے کہا کہ رینجرز اور پولیس کی سندھ میں قانون دائرے سے باہر رہنے کی بات غلط ہے‘ رینجرز کو اختیارات آئین و قانون کے مطابق دئیے گئے ہیں‘ انکوائری کمشن کی رپورٹ پر حکومت کو خوشی منانے کی بجائے اپنی گورننس کو اور زیادہ بہتر بنانے پر توجہ دینا ہو گی‘ دھرنے کے چند مہینے پاکستان کی تاریخ کا افسوس ناک دورانیہ تھا‘ اب پی ٹی آئی کو سمجھ آ جانی چاہئے کہ مسائل کا حل سڑکوں اور گلیوں میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ میں جانے سے حاصل ہوتا ہے‘ پاکستان کے سکیورٹی مسائل کو سب اداروں کو مل کر حل کرنا ہو گا۔ حکومت سادہ لباس میں کسی کو گرفتار کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتی۔ دھرنے کے پیچھے سابق جرنیلوں کے ہونے سے متعلق سوال کے جو اب میں وزیر داخلہ نے کہاکہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں ہمیں زیادہ کھچڑی نہیں پکانا چاہئے۔ وزیراعظم نے بھی اپنی تقریر میں یہ پیغام دیا ہے کہ پچھلی باتوں کو بھول کر آگے بڑھنا ہو گا اور پاکستان کی ترقی میں سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔ عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سکاٹ لینڈ یارڈ کی درخواست موصول ہوچکی ہے، محسن علی تک رسائی کے فیصلے پر تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان جوڈیشل کمشن کے فیصلے کو کھُلے دِل اور حوصلے سے تسلیم کریں، ایک ہی سانس میں فیصلے کو تسلیم کرنا اور اُس پر تنقید کرنا منافقانہ رویہ ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد بھی دھاندلی کی رَٹ لگانا کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔ جوڈیشل کمیشن پر کام ادُھورا چھوڑنے کا الزام شرمناک ہے عمران خان چار حلقوں کے بہانے سارے انتخابی عمل کو متنازعہ بناناچاہتے تھے۔ دھرنے ملکی استحکام اور جمہوریت کے خلاف منظم سازش تھی۔ عمران خان اینڈ کمپنی کو مسلسل گمراہی پھیلانے پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے وہ اقتدار کے بھوکوں کے سرخیل ہیں، جتنا اقتدار کے پیچھے بھاگیں گے اُتنا ہی اقتدار اُن سے دُور بھاگے گا۔ عمران کی سیاسی تربیت کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ سینٹ میں قائد ایوان سنیٹر راجہ محمد ظفر الحق نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمشن کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا کہ فیصلہ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ عدالتیں فیصلے قانون، آئین اور شہادتوں کے تحت کرتی ہیں، ان کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ فریقین کی توقعات ہوتی ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں آئیگا تاہم عدالتیں خواہشات کے مطابق فیصلے نہیں کرتیں۔ سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ عمران نے وہی باتیں دہرائی ہیں جو انکا مائنڈ سیٹ ہے تاہم یہ اچھی بات ہے کہ سپورٹس مین سپرٹ دکھائی دی۔