گیس منصوبہ جلد آپریشنل ہوگا: پاکستان کو 3 ہزار میگا واٹ بجلی دینے کو تیار ہیں، ایرانی سفیر

26 جولائی 2015

اسلام آباد (جاوید صدیق) پاکستان میں ایران کے سفیر علی رضا حقیقیان نے کہا ہے کہ ایران اور فائیو پلس گروپ کے درمیان ایٹمی سمجھوتے نے پاکستان سمیت دوست ممالک سے ایران کی تجارت اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کے لئے راستے کھول دیئے ہیں۔ یہ ایسا موقع ہے جس سے پاکستان بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایران اور مغربی ملکوں کے درمیان ایٹمی سمجھوتہ سے جنم لینے والے حالات کے بعد اب پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت پہلے ہی مرحلہ میں پانچ ارب ڈالر سے اوپر جا سکتی ہے۔ ایٹمی سمجھوتہ کے بعد کسی بھی پاکستانی اخبار کو پہلا انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان دوست‘ ہمسایہ اور برادر ملک کے طور پر ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں اہمیت کا حامل رہا ہے۔ خوش قسمتی سے دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی‘ اقتصادی‘ ثقافتی اور بین الاقوامی امور عوامی سطح پر دوطرفہ رابطے اور تعاون ہمیشہ نہایت دوستانہ اور برادرانہ رہا ہے۔ ایران کے سفیر سے استفسار کیا گیا کہ پاکستان گوادر پورٹ کی تعمیر کر رہا ہے ایک تاثر یہ ہے اس کے مقابلے میں ایران چاہ بہار کو بھارت کی مدد سے ترقی دے رہا ہے جس پر ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان معاہدے ہو چکے ہیں جن کی بنیاد پر چاہ بہار اور گوادر اور پھر شہید اجائی اور کراچی کی بندرگاہوں کو جڑواں قرار دیا جا چکا ہے۔ چاہ بہار کو گوادر کا مقابلہ کرنے کے لئے تعمیر کرنے کی بات درست نہیں۔ جہاز رانی کی خدمات بندرگاہوں کے فروغ ‘ سمندر انفراسٹرکچر اور مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کا مناسب پلیٹ فارم دستیاب ہو گیا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ اور مغربی ملکوں کے ساتھ ایٹمی سمجھوتہ ہونے کے بعد اب کیا پاکستان ایران گیس پائپ لائن سمجھوتے کا راستہ ہموار نہیں ہو گیا تو ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران نے گیس پائپ لائن‘ پاکستان کی سرحد تک مکمل کر لی ہے پاکستان میں توانائی کا بحران ہے توقع ہے کہ یہ گیس پائپ لائن جتنی جلد ہو مکمل ہو کر آپریشنل ہو جائے گی۔ ایران اس وقت بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے لئے 76 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان طے پایا ہے کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی بجلی کا حجم بڑھا کر 100 میگاواٹ کر دیا جائے گا۔ ایران کی طرف سے گوادر پورٹ کو بھی 100 میگاواٹ بجلی مہیا کرنے کا کام جاری ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ بھی ایجنڈا پر موجود ہے اس کی فزیبلٹی رپورٹ تیار ہو چکی ہے۔ ایران بڑے پیمانے پر بجلی برآمد کی صلاحیت رکھتا ہے۔ہم دوسرے ہمسایہ ملکوں کو بھی بجلی فراہم کر رہے ہیں ہم پاکستان کو تین ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی سطح پر تعلقات مستحکم ہو رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے سپیکرز‘ وزرائے خارجہ‘ وزرائے تجارت ایک دوسرے کے ملک کے دورے کر چکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی سطح پر ہمارے تعلقات اعلیٰ سطح پر بہت مستحکم ہیں۔