اقتصادی راہداری منصوبوں سے ترقی کے مواقع بڑھیں گے: شرح سود برقرار مہنگائی کم ہوگئی، اگلے سال توانائی کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے : سٹیٹ بنک

26 جولائی 2015
اقتصادی راہداری منصوبوں سے ترقی کے مواقع بڑھیں گے: شرح سود برقرار مہنگائی کم ہوگئی، اگلے سال توانائی کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے : سٹیٹ بنک

کراچی (کامرس رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) سٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 6.5 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔پریس کانفرنس میں نئے مالی سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال اور ادائیگیوں کے توازن میں بہتری آئی ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی مثبت کردی ہے، موجودہ اقتصادی صورتحال کے پیش نظر مرکزی بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 6.5 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ترقیاتی اخراجات میں اضافے سے شرح نمو بہتر ہوئی ہے، خدمات کے شعبے میں بہتری اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 0.3 فیصد کمی ہوئی۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی متوقع کم قیمت کی وجہ سے افراطِ زر میں بھی خاصی کمی آئی، مہنگائی کی شرح گزشتہ سال سے کم ہے، جولائی میں مہنگامی کی شرح 8.6 فیصد سے کم ہوکر4.5 پر آگئی۔ آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارے کاجی آئی ڈی سی اور دیگر معاملات سے گہرا تعلق ہو گا۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی بڑھائی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی کی یہ شرح کم رہی ہے۔ بڑی صنعت شرح نمو کا ہدف پورا نہیں کر سکی۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبوں سے ترقی کے مواقع بڑھیں گے۔ بیرونی کھاتوں کا شعبہ گذشتہ سال بہتر رہا۔ سٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر 10.5 سے بڑھ کر 13 ارب 50 کروڑ ڈالر ہو گئے۔ درآمدی بل میں کمی کے باعث تجارتی خسارہ کم رہا۔ خدمات کے شعبے میں بہتری آئی۔ بیلنس آف پے منٹ کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ ترقیاتی اخراجات میں اضافے سے شرح نمو میں بہتری ہوئی ۔ رواں مالی سال کے دوران تعمیرات کے شعبے میں مزید بہتری ہونے کی توقع ہے۔ ٹیکس محصولات میں اضافے کے باعث مالیاتی خسارے میں کمی آئی ہے۔ خدمات کے شعبے میں بہتری آئی ہے۔ ادائیگیوں کے توازن میں بھی بہتری آئی ہے۔ آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارے کا جی آئی ڈی سی اور دیگر معاملات سے گہرا تعلق ہو گا۔ ملک کی معاشی صورت حال اور ادائیگیوں کے توازن میں بہتری آئی ہے،عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی مثبت کردی ہے، ملک کی موجودہ اقتصادی صورت حال کے پیش نظر مرکزی بینک نے آئندہ دو ماہ کے لئے شرح سود 6.5 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترقیاتی اخراجات میں اضافے سے شرح نمو بہتر ہوئی ہے، اس کے علاوہ خدمات کے شعبے میں بہتری آئی ہے۔ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 0.3 فیصد کمی ہوئی۔ آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارے کاجی آئی ڈی سی اور دیگر معاملات سے گہرا تعلق ہو گا۔ سٹیٹ بینک نے اپنی موافق زری پالیسی کا تسلسل جاری رکھا اور مالی سال 2015 ء کے دوران پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 300 بی پی ایس کی کٹوتی کی گئی۔ زری پالیسی کے فیصلوں میں معاون ثابت ہونے والے اہم عوامل میں صارف اشاریہ قیمت گرانی میں تیزی سے کمی کے ساتھ اس کے خوش آئندہ امکانات اور بیرونی کھاتے میں بہتری شامل ہیں۔ مالی سال 15ء میں زری نرمی کے تاخیر سے مرتب ہونے والے اثرات، مالی سال 16ء میں زری توسیع کی متوقع بلند سطح، گرانی کی توقعات کے نیچے آنے اور مالی سال 15ء کی دوسری ششماہی کے دوران تاریخی لحاظ سے پست گرانی کے اساسی اثر جیسی حالیہ پیش رفت مالی سال 16ء میں داخل ہوتے ہوئے مالی سال 15ء کی ارزانی کے رجحان سے کچھ انحراف کا باعث بنی ۔ ہم سٹیٹ بینک کی پیش گوئی کے مطابق مالی سال 16ء میں اوسط صارف اشاریہ قیمت گرانی کسی تبدیلی کے بغیر 4 سے 5 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے جو مالی سال 2016ء کے مقررہ ہدف 6.0 فیصد سے کم ہے۔اس پیش گوئی کو کچھ خطرات لاحق ہیں۔ مالی سال 2016ء میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے جلد خراب ہونے والی غذائی اشیاء پر سیلاب کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تیل کی بلند پیداوار کی پیش گوئیوں اور کمزور عالمی طلب سے پتہ چلتا ہے کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتیں ابھی تک اپنی کم ترین سطح تک نہیں پہنچیں۔ بے وقت اور شدید بارشوں کے سبب اہم فصلوں کو نقصانات کے باوجود زرعی شعبہ معمولی اضافہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ چین پاکستان اقتصادی کوریڈور کے تحت انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر عملدرآمد سے سرمایہ کاری بحال ہو سکتی ہے۔2015 ء کی دوسری ششماہی کے دوران ادائیگیوںکے توازن میںبہتری کا عمل جاری رہا۔ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے خالص ذخائر آخر دسمبر 2014ء کے 10.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 30 جون 2015ء تک 13.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ خالص بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کم ہو کر مالی سال 15ء میں جی ڈی پی کے 0.3 فیصد تک رہ گئی ہے۔ 15ء کے نظرثانی شدہ بجٹ تخمینے 5.0 فیصد مالیاتی خسارے کو ظاہر کرتے ہیں جو گذشتہ برس سے کم ہے۔ جاری حسابات کے بہتر توازن کے باوجود بینکوں کے خالص بیرونی اثاثوں میں تخفیف سرمائے اور مالی رقوم کی کم آمدکا نتیجہ تھی۔ حکومت کی طرف سے بینکوں کو قرضوں کی خالص واپسی سے کچھ بہتری ہو گئی ہے۔