ڈاکٹر مجید نظامی کی پہلی برسی، تقریب کی جھلکیاں-- پہلے روز تصویری نمائش، خصوصی نشست کا اہتمام-- نمائش کا افتتاح گورنر پنجاب نے کیا-- وہ جو تیرے اسیر ہوتے ہیں، آدمی بینظیر ہوتے ہیں

26 جولائی 2015

لاہور (خصوصی رپورٹر) ٭…نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام ایوان کارکنان پاکستان لاہور میں ڈاکٹر مجید نظامی کی برسی کے حوالے سے چار روزہ تقریبات کے پہلے دن تصویری نمائش اور خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ ٭…تصویری نمائش کا افتتاح گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے چیئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ اور کارکنان تحریک پاکستان کے ساتھ کیا۔ ٭…نمائش ڈاکٹر مجید نظامی کی زندگی کا احاطہ کرتی سینکڑوں یادگار تصاویر آویزاں کی گئیں۔ ٭… صدارتی ایوارڈ یافتہ قاری سید صداقت علی سورۃ رحمن کی آیات کی خوش الحانی سے تلاوت کی۔ ٭…الحاج اختر حسین قریشی نے ڈاکٹر مجید نظامی کی پسندیدہ نعت حضرت پیر سید مہر علی شاہ کا کلام ’’اج سک متراں دی ودھیری اے‘‘ پیش کی۔ ٭… معروف نعت خواں حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے کلام اقبال اور حکیم افتخار فخر کی لکھی ہوئی نظم ’’شجاعت کا جرأت کا پیکر نظامی‘‘ پیش کئے۔ ٭…تقریب میں رفیقان اور عاشقان مجید نظامی کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ٭… ڈاکٹر مجید نظامی کے بارے میں تمہیدی کلمات ادا کرتے ہوئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ نظامی صاحب کی وفات کا دن ہمارے لئے یوم عزم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٭… ڈاکٹر مجید نظامی کے عقیدتمندوں کا جم غفیر دیکھ کر محمد رفیق تارڑ نے بے ساختہ کہا ’’ وہ جو تیرے اسیر ہوتے ہیں، آدمی بے نظیر ہوتے ہیں‘‘۔ ٭… وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں وزیر کی حیثیت سے نہیں بلکہ نظریاتی کارکن کی حیثیت سے آیا ہوں۔ ٭… بعض مقررین نے مجید نظامی کی شخصیت کو ایک ایک فقرے میں بیان کرکے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ ٭… تقریب میں خواتین و حضرات کے علاوہ بچوں نے بھی شرکت کی۔ ٭… مجید نظامی کے عقیدت مند دوسرے شہروں سے بھی آئے ہوئے تھے۔ ٭… سامعین نے وائیں ہال کو کھچا کھچ بھر دیا۔ سٹیج پر بھی مقررین اور اکابرین کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ ٭… ڈاکٹر مجید نظامی کے سامنے زانوئے تلمزے طے کرنیوالے کئی نامور صحافی تقریب میں شریک تھے۔ ٭… اکثر مقررین نے ڈاکٹر مجید نظامی کو زندہ جاوید شخصیت قرار دیا۔ ٭… حاضرین نے کہا کہ وہ مجید نظامی کو ان کے افکار کی صورت میں زندہ محسوس کرتے ہیں۔ ٭… پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کی خاصی بڑی تعداد کوریج کیلئے موجود تھی۔