معافی مانگنے کی ضرورت نہیں، عمران پیپلز پارٹی کا موقف کمشن میں لے جاتے تو نتیجہ مختلف ہوتا: خورشید شاہ

26 جولائی 2015
معافی مانگنے کی ضرورت نہیں، عمران پیپلز پارٹی کا موقف کمشن میں لے جاتے تو نتیجہ مختلف ہوتا: خورشید شاہ

اسلام آباد (آئی این پی) قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہاہے کہ عمران خان اگر پیپلزپارٹی کا موقف جوڈیشل کمشن کے سامنے لے جاتے تو نتیجہ مختلف ہوتا تاہم انہیں کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں، جوڈیشل کمشن کی رپورٹ سے متعلق عمران خان کو پارلیمنٹ میں آکر بات کرنی چاہئے، انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنا عمران خان کا حق تھا۔ ہم دعا گو ہیں کہ عمران خان سیاست میں واپس آجائیں۔ وہ ہفتہ کوموسم کی خرابی کے باعث دورہ چترال ملتوی ہونے کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے چترال جانے کا رسک لیا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے ہمیں دورہ ملتوی کرنا پڑا۔ ہم نے پانچ کروڑ روپے خیبر پی کے میں سیلاب متاثرین کے لئے مختص کئے ہیں وہ ہم چیک کی صورت میں لوگوں میں تقسیم کرینگے۔ جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لئے پنجاب حکومت کو کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما سابق گورنر مخدوم احمد محمود جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لئے کام کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) افتخار چودھری کو سیاست میں خوش آمدید کہتے ہیں انہیں سیاست میں ضرور آنا چاہئے انہیں بھی پتہ چلے گا کہ سیاست کیا چیز ہے۔ کرسی پر بیٹھ کر بات کرنا اور فیصلے کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ عملی سیاست میں آکر فیصلے کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ اچھا ہوتا اگر وہ اپنی پارٹی تشکیل دیتے وقت جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اپنے بڑے دعوے تھے اس لئے جوڈیشل کمشن کے فیصلے سے انہیں دکھ پہنچا ہے جبکہ ہمیں تو پہلے ہی پتہ تھا کہ جوڈیشل کمشن کا کیا فیصلہ آئے گا۔ عمران خان کو ہم نے مشورہ دیا تھا کہ وہ ووٹوں کے تھیلے کھلوانے کا مطالبہ ضرور شامل کریں۔ عمران خان اگر پیپلز پارٹی کے موقف کو کمشن میں لے جاتے تو انکوائری کمیشن کا فیصلہ مختلف ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں یہ ان کا حق تھا جو انہوں نے کیا۔ سندھ رینجرز کے سوک سنٹر پر چھاپے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے وہ دوسرے اداروں کے معاملات میں دخل دیں گے تو اپنا کام بھول جائیں گے۔ میں ایک بار پھر واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود سے نکل کر دوسرے کی حدود میں نہیں گھسنا چاہئے ورنہ بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔