قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت

26 جولائی 2015
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت

آج ڈاکٹر مجید نظامی کی پہلی برسی ہے۔ ان کے لئے یہ دن 27 رمضان کو بھی منایا گیا۔ لوگو اس زندہ و عظیم اور اپنے عہد میں پاکستان کے سب سے بڑے آدمی کی قدر کرو کہ وہ لیلۃ القدر کو اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی جانب سے 27 رمضان کو بھی انہیں یاد کیا گیا اور آج بھی ایک بہت بڑی تقریب سجائی گئی جس کی صدارت نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین صدر محمد رفیق تارڑ نے کی۔ نظامت کے فرائض حسب معمول شاہد رشید نے بہت عقیدت اور خوبصورتی سے سرانجام دیے۔ بہت بڑا سٹیج بھی بھرا ہوا تھا اور ہال بھی بھرا ہوا تھا۔ آج نظامی صاحب کے ساتھ پیار کرنے والے سب لوگ موجود تھے۔ صرف ان کے نام لکھے جائیں تو کالم بھر جائے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعید رفیق نے بہت عزت مندی سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ آج مجید نظامی کی جانشین بیٹی رمیزہ نظامی کے ہونے سے تقریب کی شان دوبالا ہو جاتی۔ برادرم شاہد رشید نے وضاحت کی کہ نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر سعید آسی ان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ آسی صاحب نے سب سے پہلے خطاب کیا اور بہت جچے تلے انداز میں بات کی اور یہ بات پھر ایک بار کی جو انہوں نے ایڈیٹرز کی کسی محفل میں کی تھی کہ مجید نظامی کی برسی قومی سطح پر سرکاری طور پر منائی جائے۔ اس کا اہتمام کیا جائے کہ یہ دن بھی دوسرے قومی دنوں کی طرح ہو۔ انہوں نے نظامی مرحوم سے اپنی طویل رفاقت کا بھی ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ آج بھی رمیزہ نظامی کی قیادت میں اخبار اپنے راستے پر گامزن ہے۔ عید کے دن میں اور برادرم شاہد رشید رمیزہ نظامی سے ملے تھے تو انہوں نے مجید نظامی کے لئے منعقد کی جانے والی تقریبات کی تعریف کی تھی۔ جسٹس آفتاب فرخ نے بھی رمیزہ بی بی کا ذکر بہت اچھے لفظوں میں کیا۔ نظامی صاحب سے طویل رفاقت اور گہری دوستی کے حوالے سے وہ چاہیں تو چار گھنٹے بولتے رہیں مگر چار منٹ میں انہوں نے اپنی بات ختم کی۔
شاہد رشید نے مجھے مائیک پر بلایا مگر میں دوسرے دوستوں کو موقع دینا چاہتا تھا میں نے دو جملے کہے کہ جابر سلطان کے آگے مجید نظامی عمر بھر کلمۂ حق بلند کرتے رہے۔ اس حوالے سے کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ وہ عزیمت، عظمت کا پہاڑ تھے جنہیں کوئی سر نہ کر سکا کسی بھی بڑے سے بڑے حکمرانوں کو یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ انہیں گرفتار کر سکے اور ایک دن بھی جیل بھیج سکے۔ وہ بہت بڑے مسلم لیگی تھے۔ بہت بڑے قائد تھے۔ وہ قیدی کی شان سے بھی واقف تھے۔ اپنے کالموں میں کئی بار میں نے لکھا کہ قیدی اور قائد میں بڑی مماثلتیں اور نسبتیں ہیں۔ اس طرح کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔ میں بلاواسطہ طور پر پیش کر رہا ہوں اور وہ حضرت قائداعظم کی ذات گرامی ہے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں کیا کیا معرکہ آرائیاں کیں۔ انگریز اور ہندو دونوں کو للکارا مگر وہ ایک دن بھی جیل نہ گئے جیل کی سختیاں برداشت کرنے والوں کو سلام مگر قائداعظم اور مدیراعظم کا کمال بے مثال ہے۔
محفل میں خواجہ سعد رفیق نے ایس ایم ظفر کے لئے اپنی سیٹ چھوڑ دی۔ وہ کچھ دیر سے تشریف لائے تھے۔ خواجہ صاحب کی یہ ادا دوستوں کو بہت پسند آئی۔ خواجہ صاحب نے بڑی اچھی بات کی۔ کہتے ہیں کہ سچ بولنا بڑا مشکل کام ہے۔ نظامی صاحب بڑی آسانی اور آسودگی سے سچ بولتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ سچ بولنا معمول کی بات ہے۔ وہ اس غیرمعمولی بات کو معمولی جانتے تھے۔ خواجہ صاحب کی یہ بات بہت اچھی ہے مگر کچھ لوگ بہت سوچ سوچ کر سچ بولتے ہیں۔ سچ ہر وقت بولنے والی بات ہے۔ اور یہ بات سیاست مصلحت منافقت اور مفادات کی نذر ہو گئی ہے۔ خواجہ صاحب نے الحمرا میں کوئی بڑی تقریب کرنے کی بھی تجویز دی مگر لوگوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ آج کوئی سرکاری مسلم لیگی یہاں موجود نہ تھا۔ آج وہ سب لوگ یہاں تھے جن کے دل نظامی صاحب کے ساتھ دھڑکتے تھے۔ سیاسی اور سرکاری جلسوں میں یہ کیفیت نہیں آ سکتی۔
مجید نظامی مینارہ نور تھے۔ رہبر تھے۔ ان کے لئے یہ لفظ کتنا بامعنی ہے۔ اخبارات میں کل کے چھوکروں کے لئے بھی رہنما کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ اس لفظ کا استحصال ہے۔ اس لئے مجید نظامی کے لئے رہبر کا لفظ بہت موزوں ہے۔ رہبر پاکستان۔ ایک صحافی ملک کا لیڈر بھی ہو سکتا ہے۔ مجید نظامی کی شخصیت میں اس حقیقت کا سراغ ملا۔
چیف جسٹس محبوب کے لئے بہت عزت مجید نظامی کے دل میں تھی۔ محبوب صاحب بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ انہوں نے بہت زبردست باتیں نظامی صاحب کے لئے کیں۔ انہوں نے فرمایا نظامی صاحب فطری طور پر بہت بڑے آدمی تھے۔ پھر انہوں نے فطرت کی نگہبانی کرنے کا کردار بھی سنبھال لیا۔ حضرت پیر کبیر علی شاہ سٹیج سے چپ چاپ اٹھ کر باہر چلے گئے۔ عزیزم سبطین گیلانی بھی ان کے ساتھ تھے۔ میں ان کے پیچھے گیا۔ حاضرین اور میں ذاتی طور پر ان کی خوبصورت گفتگو ان کے بہت عمدہ طرز بیان میں سننے سے محروم رہے۔ انہوں نے ڈاکٹر مجید نظامی کی دستار بندی کے لئے بھی ایک شاندار تقریب کی تھی۔ نظامی صاحب کو یہ دستار اتنی خوبصورت لگی کہ مجھے اپنی پگڑی زیادہ اچھی لگنے لگی۔ یہ بات جسٹس آفتاب فرخ نے بتائی اور یہ بڑا اعزاز ہے نظامی صاحب میرے لئے بڑے پیار سے فرمایا کرتے۔ وہ ہمارا ’’پگڑ‘‘ کہاں ہے۔؟
عورتوں کی نمائندگی بشریٰ رحمان نے کی جنہیں مجید نظامی نے دختر پاکستان کا لقب دیا تھا۔ ڈاکٹر رفیق احمد کو پسر پاکستان کا خطاب دیا تھا اس طرح خطابات دینے کی روایت بہت گہری ہے۔ صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کو مادر ملت کا خطاب مجید نظامی نے دیا تھا جو پوری قوم نے قبول کیا۔ وقت بہت زیادہ ہو گیا تھا۔ آج مقررین اپنی اپنی بولیاں بول کے چلے جا رہے تھے مگر نظامی صاحب کی یادوں کا چمن ہمیشہ آباد رہے گا۔ ان کی لگن تھکن پر حاوی نہ ہوئی۔ صدر محفل صدر تارڑ نے شاہد رشید سے کہا کہ سٹیج پر خواتین و حضرات کو تھوڑا تھوڑا موقعہ دیا جائے۔ چنانچہ صفیہ اسحاق ڈاکٹر پروین خان ڈاکٹر راشدہ قریشی نے چند لفظوں میں پوری کہانی کہہ دی برادرم کالم نگار قیوم نظامی اور یاسین وٹو نے کوزے میں دریا بند کر دیا۔ مجید نظامی ایسے دریا تھے جن کے لئے سلطان باہو نے کہا
دل دریا سمندروں ڈونگے کون دلاں دیاں جانے ہو
نظامی صاحب دل دریا تھے ان کی ہمکناریاں اور بے کناریاں بے حد و حساب ہیں وہ زندہ ہیں۔ موجود ہیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور نوائے وقت ان کی دو نشانیاں ہیں اور نشان منزل بھی ہیں آخر میں علامہ احمد علی قصوری نے دعا فرمائی۔ رقت اور عقیدت کے امتزاج سے قصوری صاحب کو بڑے ولولے عطا ہوئے ہیں۔ آج تو لگ رہا تھا کہ دعا قبول ہو گئی ہے ہمیشہ نظامی صاحب قصوری صاحب کو دعا کے لئے کہا کرتے تھے۔