ایک عہد ناتمام

26 جولائی 2015

نظریہ پاکستان کی آبیاری کرنے والے ، تحریک پاکستان کے سچے سپاہی ، قائد اعظم وعلامہ اقبال کے افکار سے عشق کرنے والے اور پاکستان کے صحافتی مجاہد ڈاکٹر مجید نظامی کو ہم سے بچھڑ ے پورا ایک سال ہوگیا ہے لیکن ان کی یادیں، ان کی باتیں اور ان کے افکار ہمارے ذہن کے دریچوں میں صبح نوکی طرح تروتازہ ہیں۔ مرحوم میاں محمد دین کے بیٹے نے جس طرح اپنی زندگی کی آخری ساعت تک نظریہ پاکستان کی حفاظت کے لئے دیئے روشن کئے اور ایک انتھک و بے لوث سپاہی کی طرح اپنا کارہائے نمایاں انجام دیا ایسا شرف پاکستان کے کسی بھی اہل قلم کو یا پاکستان کی صحافت میں کسی شخص کو بھی حاصل نہیں ہے۔میرے دماغ میں ان کی وفات سے چند دن پہلے کی ایک تقریب روز روشن کی طرح اجاگرہے جس میں انہوں نے انتہائی جذبے اور ولولے کے ساتھ تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کے دفاع میں تقریر کی ان کے الفاظ آج بھی میری سوچوں کے نہاں خانے میں نقش ہیں۔ ڈاکٹر مجید نظامی ایک فرد نہیں تھے بلکہ ایک انجمن تھے، ایک ادارہ تھے ،
یہ بھی قدرت کاایک اتفاق تھا کہ پاکستان کا وجود بھی ستائیس رمضان المبارک کی مقدس و متبرک ساعتوں میں عمل میں آیا تھا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاکستان سے مخلص اور پاکستان کے سچے خیر خواہ محترم ڈاکٹر مجید نظامی کواپنے ہاں ستائیس رمضان المبارک کے روح پرور لمحات میں بلایا ہی ہے اورکسی بھی مسلمان کے لئے یہ کسی بے مثل اعزاز اورگراںقدر انعام سے کم نہیں کہ ان کی موت رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہو اور وہ بھی اس کے آخری عشرے کی سب سے متبرک رات ستائیس رمضان المبارک کی شب قدر میں ہو۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محترم ڈاکٹر مجید نظامی کے کاموں اورخدمات سے اللہ تبارک و تعالیٰ بھی کس قدر خوش تھے کیونکہ موت تو برحق ہے اور جو بھی نفس اس دنیا میں آیا ہے اس کو لوٹ کر اسی ذات پاک کی طرف جانا ہے۔ آج بظاہر محترم مجید نظامی ہم میں نہیں ہیں مگر ان کی تحریریں، افکار اور نظریات ہمارے سامنے مشعل راہ ہیں کیونکہ اس تاریخی حقیقت سے شاید کوئی انکار نہ کرسکے کہ قلم کی طاقت تلوار کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے اور اس حقیقت کو بھی کوئی نہیں جھٹلاسکتا کہ دنیا کو طاقت و قوت اور رعب و دبدبہ کے زور پر فتح نہیں کیا جاسکتا بلکہ دلوں کو فتح کرنا ضروری ہوتا ہے اور جو دلوں کو فتح کرے وہی فاتح زمانہ ہوتا ہے ۔ اس تاریخی پس منظر میں اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو نظر آتا ہے کہ جنہوں نے قلم کی طاقت کو رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے استعمال کیا وہ اپنا مقام بناگئے اور جنہوں نے اس کی حرمت کی پاسداری نہ کی ان کو تاریخ نے بھلادیا ۔ اس لئے قلم کی طاقت سے دنیا کو فتح کرنے والے اب اگر دنیامیں نہیںہیں مگر قلم کی طاقت اور سچ کے ہاتھ استعمال کرنے کی وجہ سے آج بھی زندہ جاوید ہیں۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی شخصیت نہیں بلکہ اپنے مقصد کو ، اپنے نظریہ کو اور اپنے ادارے کو پہچان دی کیونکہ افراد تو آتے جاتے رہتے ہیں مگر ادارے اور نظرئیے کبھی بھی نہیں ٹوٹتے۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنے بڑے بھائی محترم حمید نظامی کی تربیت قلم سے جہاد شروع کیا اور نوائے وقت جس نے عین قراردادپاکستان کے دن اپنی اشاعت کا آغاز کیا تھا اس کے ایڈیٹر انچیف کے طور پر پچھلے تقریباً باون سالوں سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے تھے۔جب ڈاکٹر مجید نظامی نے 1962میں روزنامہ نوائے وقت کی صدارت سنبھالی وہ دوربڑا پرفتن اور مصائب سے بھرپور تھا اور ملک خداداد پر ایوب خان کے مارشل لاء کا مہیب اور گھمبیر سایہ تھامگر ڈاکٹر مجید نظامی قلم کے مجاہد اور زبان کے بے باک تھے اس لئے انہوں نے اس دور میں کبھی بھی حق گوئی پر مصلحت کا لبادہ نہ ڈالا اور سچی اور کھری بات کہنے سے کبھی نہ گھبرائے۔ یہ یقیناً ایمانداری، سچائی ،عمل پیہم اور لگن کا ہی فیضان تھا کہ محترم حمید نظامی کی وفات کے بعد محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی ادارت و سربراہی میں نوائے وقت کا کارواں آگے ہی بڑھتا رہا تھا اور محترم ڈاکٹر مجید نظامی کو اپنی ادارت کے پچاس سال سے زائد عرصہ مکمل کرنے کا جو موقع اللہ تبارک و تعالیٰ نے عطاکیا ہے وہ اب تک شاید کسی بھی پاکستانی صحافی یا اہل قلم کو حاصل نہیں ہے ۔
میں گذشتہ38 سال سے عملی طور پر محترم ڈاکٹر مجید نظامی اور ان کے زیر انتظام اداروں کی جدوجہد دیکھ رہا ہوں جو اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنی نظرئیے اور عقیدے کی خاطر نوٹوں کی تجوریوں کو ٹھکرا کر سنجیدگی کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے تھے اور ان کی دوستی اور دشمنی کا معیار صرف پاکستان تھا چونکہ ان کے دل کی ہر دھڑکن پاکستان، نظریہ پاکستان اور افکار قائد اعظم و علامہ اقبال کے ساتھ دھڑکتی تھی اور وہ اس کی راہ میں آنے والے ہر فردکے سامنے چٹان کی مانند مضبوط ہوتے تھے چنانچہ آج تک ان کو نہ کوئی خرید سکا اور نہ ہی جھکا سکا حالانکہ پاکستان کی اس تقریباً نصف صدی کے دوران کئی نشیب وفراز آئے مگر محترم ڈاکٹر مجید نظامی کے پایہ استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی ۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی صرف ایک صحافی ہی نہ تھے بلکہ ایک قومی درد رکھنے والے ایک محب وطن انسان، سچے مسلمان، سچے اور کھرے پاکستانی تھے جن کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اس لئے گو کہ اب محترم ڈاکٹر مجید نظامی ہم میں موجود نہیں ہیں پر میں سمجھتا ہوں ان کا عہد ابھی ختم نہیں ہواکیونکہ ان کے خیالات ، افکار اور نظریات گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی روشنی کی کرن ہیںجو ہمارے دل ودماغ کو ہمیشہ روشن وتابناک رکھیں گے۔