”میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅں گا“

26 جولائی 2015
”میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅں گا“

کہتے ہیں کہ زندگی سے منہ موڑ جانیوالے، منوں مٹی تلے دب کر ابدی نیند سو جانے والے ہمیشہ کے لئے آنکھ سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ فی الواقع یہ درست ہے مگر دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی آتے ہیں کہ جن کی موت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی وہ مر کے امر ہو جاتے ہیں۔ حق کیلئے لڑتے، علم حق بلند کرتے، حق کہتے یعنی راہ حق میں اپنی جاں عزیزوقف کر دینے والے یہ بڑے عظم لوگ ہوتے ہیں، حق پرستی میں جان دینے والے شہید ہوتے ہیں، رب حق تعالیٰ کی حیات ودواں کے انعام کا اعلان ایسے ہی لوگوں کیلئے تو ہے۔ صحیح کہا وہ شہید صحافت ہیں۔ ٹھہراﺅ کے ساتھ ان کی مدھم آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے، فرما رہے ہیں ”جس نے صحافت میں کاروبار کرنا ہے وہ صحافت چھوڑ کے کوئی اور کاروبار کرلے کیونکہ صحافت کا معیار مشن سے قائم رکھا جاسکتا ہے اور بنا مشن اس کی حیثیت جو کسی ریاست میں فورتھ اسٹیٹ کی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے“ (لاہور کالج طالبات سے خطاب 20اکتوبر 1990)یہی تو بات ہے کہ شہید صحافت عملی صحافت میں قرینہ وتہذیب روا رکھنا چاہتے تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ ادارہ نوائے وقت کی تمام پبلیکیشنز و وقت نیوز چینل نہایت معتدل ومتوازن پالیسی پر کاربند رہا۔ آپ کی سرپرستی میں عورت کو پراڈکٹ آئٹم بنا کرنہیں پیش کیا گیا بلکہ ادارہ نوائے وقت نے ہمیشہ عورت کے تقدس ووقار کو ابھارا۔ کبھی بے اعتنائی سے مغربی یا غیر معقول لباس میں نامناسب انداز میں کسی دوشیزہ کی تصویر چھپ جاتی تو فوراً صاحب اس کا نوٹس لیتے۔ جو خواتین ان کے ادارے میں کام کرتیں صاحب جی ان کی گھریلو ذمہ داریوں اور سماجی مسائل کے حوالے سے حوصلہ افزائی کرتے۔ مادر ملت کیساتھ اپنی ملاقاتوں کو زندگی کا قیمتی اثاثہ سمجھتے۔ ایسے افسران بالا، اداروں کے رہنما ومالکان کہاں ملتے ہیں؟ ہاں نوجوان طالب علموں سے مل کر بہت خوش ہوتے۔ جب بھی کالجز ویونیورسٹریز میں مختلف تقریبات میں مدعو کیے جاتے طالب علموں کو حب الوطنی کے جذبات سے سرشار کردیتے کیونکہ صحافت کے میدان کے اس سپہ سالار کے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں وطن سے محبت کا جذبہ رچا بسا تھا۔ ان کا ایک مشن نسل نو کو تشکیل پاکستان کی راہ کی مشکلات وقربانیوں کی حقیقی داستانیں پہنچانا بھی تھا۔ نوجوان طلباءجب ادارہ نوائے وقت کے اکیڈمک دوروں پر آتے تو آپ نہایت شفقت و محبت سے ان کا استقبال کرتے۔ قصور کالج سے آئیں طالبات سے اپنے خطاب میں فرماتے ہیں ”ملک کی تشکیل میں ہم نے جتنی محنت کی، صبرواستقلال کا مظاہرہ کیا اور بیش بہا قربانیاں دیں اب ملک کو دشمن کی سازشوں سے بچانے اور ملک کو مستحکم کرنے کیلئے آپ نوجوانوں کو بھی اسی طرح متحد ومنظم ہو کر استقلال کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ (نومبر 2004 حمید نظامی ہال) آپ کی ہدایت پر قائداعظم محمد علی جناحؒ وعلامہ اقبالؒ کے فرمودات کی روشنی میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں نوجوانوں کی آگہی کیلئے خصوصی لیکچرز کی سیریز کا آغاز کیا گیا۔ خصوصی لیکچرز کی اس سیریز میں انہوں نے لیکچر کیلئے خود مجھے نامزد کیا اور جب مادر ملت سنٹر میں یونیورسٹیز کے طلباءکو ”پاکستان اسلامی وفلاحی وجمہوری ریاست قائداعظمؒ کی نظر میں“ کے موضوع پر میرا لیکچر ہوگیا تو ایک ہفتہ بعد آپ نے مجھے دفتر میں بلا کر شاباش دی اور لیکچر کے حوالے سے ایک مقامی یونیورسٹی کے طلباءکا تعریفی خط بھی دیا جو یادگار کے طور پر اب بھی میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ آپ نوجوانوں کو تشکیل پاکستان وتعمیر پاکستان کے محرکات سے آگاہی کی اس اپنی کوشش کو جاری رکھیے۔
آج بھی ندائے ملت، پھول میگزین، فیملی میگزین، ڈیلی نیشن وڈیلی نوائے وقت میں ان کی جھلک موجود ہے۔ وقت نیوز چینل انہیں کی یاد دلاتا ہے اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ تو جیسے ان کا قلب تھا کہ یہاں وہ اپنے ملک سے دلی وابستگی و محبت کاعملی مظاہرہ کر کے مطمئن رہتے ہیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی درو دیوار آپ کی خوشبو سے دل ودماغ کو معطر کر دیتی ہیں۔ آج جناب رفیق تارڑ جیسے بزرگ محب وطن پاکستانی کی شکل میں یہاں نظامی صاحب کی یاد تازہ رہتی ہے۔ آج 26جولائی کو آپ کی برسی ہے، اس عظیم ہستی کی برسی جو اسلامی، جمہوری وفلاحی ریاست پاکستان کی آن پر حرف نہیں آنے دیتا تھا۔
اے تاجدار صحافت ڈاکٹر مجید نظامی آپ زندہ ہیں۔