ڈاکٹر مجید نظامی

26 جولائی 2015

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں سکول ٹیچر کی مار سے گھبرا کر سکول سے بھاگ گیا ماسٹر یعقوب کلاس روم کے انچارج تھے جو بڑے ذمہ دار ٹیچر۔ نظم وضبط اور حاضری کے معاملہ میں کوئی نرمی انکی لغت میں نہیں تھی۔ دوم کلاس کے انچارج تھے جس دن میں سکول سے غیر حاضر تھا اچانک بازار میں انکی نظر مجھ پر پڑگئی۔ وہیں ایک زناٹے دار طمانچہ رسید کیا اور انگلی پکڑ کر سکول میں لے آئے۔ ماسٹر یعقوب صاحب کی بغل میں ایک اخبار ہوتا تھا۔ ”نوائے وقت“ جسے وہ پڑھنے کیلئے کسی دوسرے شخص کو نہیں دیتے تھے۔ چاہے وہ ہیڈ ماسٹر اقبال قاضی ہی کیوں نہ ہوں۔ چار آنے کے اخبار میں وہ کسی کو حصہ دار بنانے کے لیے کبھی تیار نہ ہوئے۔ جب بازار سے مجھ آوارہ کو سکول لے کے آئے تو سزا کا دور شروع ہوا۔ انہوںنے بغل سے ”نوائے وقت“ کا پرچہ نکالا اور حکم دیا کہ اسکے پہلے صفحے کا آدھا حصہ پڑھ کر سناﺅ یہ تو مار کھانے سے بھی مشکل کام تھا کہاں میں صرف دوئم کلاس کا طالب علم اور کہاں ”نوائے وقت“ بہرحال اس موقع پر مولوی نور دین صاحب کا طریقہ کچھ کام آ گیا یعنی جوڑ کر کے اخبار پڑھنا مثلا آ بابا آ۔ وہ دار آیا آم لایا وغیرہ۔ یوں جوڑ کرتے کرتے آدھ گھنٹے سے زائد عرصہ میں ٹوٹے پھوٹے انداز میں اخبار پڑھ لیا نہ پٹائی ہوئی اور نہ ہی شاباش ملی۔ یہ ”نوائے وقت“ کے ساتھ پہلا تعارف تھا پھر چند سالوں بعد مادر ملت اور ایوب خاں کے درمیان انتخابی معرکہ بپا ہوا تو والد صاحب روزانہ ”نوائے وقت“ گھر لے کے آتے کیونکہ ”مادر ملت“ نے فرمایا تھا کہ اگر سچ پڑھنا ہے تو ”نوائے وقت“ پڑھو یوں ماسٹر یعقوب صاحب کے ذریعے نوائے وقت سے جو تعارف ہوا تھا۔ مادر ملت کی بدولت ایک ”رومانس“ میں تبدیل ہو گیا اب میں اخبار پڑھ بھی لیتا تھا اس اثناءمیں کچھ رنگین اور دل کو لبھانے والے چند اخبارات مارکیٹ میں آئے مگر نوائے وقت کے سامنے سب کے رنگ پھیکے ہی رہے سچ ہے کہ سچائی کا کوئی نعم البدل نہیںہو سکتا آٹھویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے ”نوائے وقت“ رگوں میں خون کی طرح دوڑنے لگا مگر یہ پتہ نہیں تھا کہ ایڈیٹر کسے کہتے ہیں اسکاکیاکردار ہوتا ہے اور واقعی کوئی اخبار ایڈیٹر کی شخصیت اور اسکے نظریات کا پر تو ہوتا ہے ادار یہ کیا ہوتا ہے یہ سب باتیں میٹرک میں جا کر معلوم ہوئیں جب ایوب خاں کیخلاف لاہور میں مولانا عبیداللہ انور کی قیادت میں نکلنے والے جلوس میں گرفتا ر ہو کر کوٹ لکھپت جیل پہنچا جہاں مولانا کے علاوہ بابائے سوشلزم شیخ رشید اور شیخ رفیق کی صحبت میسر آئی۔
رفتہ رفتہ وقت گزرتا گیا اور میں پنجاب یونیورسٹی لاکالج لاہور میں داخل ہوا۔ لیاقت بلوچ صاحب کے خلاف یونیورسٹی کی جنرل سیکرٹری کا الیکشن لڑا۔ پھر تحریک استقلال کی ہائی کمان کے بہت قریب ہو گیا۔ بہت سے صحافی حضرات سے پالا پڑا تو اچھے اور برے کی پہچان ہوئی۔ کئی اخبارات اور رسائل کے ایڈیٹر صاحبان سے بھی ملاقاتیں رہیں تو معلوم ہوا کہ ایڈیٹر حضرات کی بھی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو ساری عمر حق گوئی وبے باکی کا پرچار کرتے رہتے ہیں دوسرے وہ جن کا وجود ہی دروغ گوئی کا کشتہ ہوتا ہے۔
مرحوم ڈاکٹر مجید نظامی پہلی صف کے ایڈیٹر تھے جگر دار شفیق اور ایک استاد کی مانند۔ حوصلہ اتنا بڑا کہ اگر کوئی عطائی کالم نویس ”نوائے وقت“ کو چھوڑ کر دوبار ہ اس در پر آیا تو پھر سینے سے لگا لیا۔ سب کی طرح مجھ سے بھی بڑی شفقت فرماتے تھے ۔ 2005میں میں نے ”نوائے وقت“ کے سنڈے میگزین میں اپنا طویل مضمون ”جیل کے دن جیل کی راتیں“ لکھنے سے پہلے اس کا مسودہ مرحوم عباس اطہر شاہ صاحب اور شریف کیانی کو دکھایا۔ دونوں نے فوری اشاعت کی حامی بھر لی جو دو چار ہفتے بعد سنڈے میگزین کی زینت بنا ایک روز میں اخبار کے دفتر گیا تو ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے سیڑھیوں میں ملاقات ہو گئی۔ احباب جانتے ہیں کہ جب وہ دوپہر دو بجے کے لگ بھگ جانے کیلئے اپنی بڑی ہنڈا گاڑی پر روانہ ہوتے تو دفتر کے سب کام نمٹا چکے ہوتے۔ مگر مجھے دیکھتے ہی گویا ہوئے کہ کھوکھر صاحب میں نے کل اخبار میں آپ کا مضمون پڑھا تو بہت اچھا تھا پھر انتہائی شفقت کیساتھ معمول کیخلاف دوبارہ لفٹ میں بٹھا کر مجھے دفتر لے گئے اور اساتذہ کی طرح مشفق انداز میں پوچھا کہ کیا ادارہ ”نوائے وقت“ کو آپ نے کم ازکم چار ماہ کا مسودہ دے دیا ہے تومیں نے عرض کیا کہ جناب والا اس سے بھی زائد عرصہ کا مسودہ شریف کیانی صاحب کو دے آیا ہوں بڑے خوش ہوئے گھنٹی بجائی منیر آیا تو دو کپ چائے بھی منگوائی اس دوران پوچھا کہ کیا آپ مطمئن ہیں یا کوئی تبدیلی چاہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ مضمون میں جن شخصیات کا ذکر ہوا اگر ان کی تصاویر بھی چھپ جائیں تو خوب رہے چنانچہ ایسا ہی ہوا ہر ہفتے جب مضمون چھپتا تو بڑی نادرونایاب تصاویر بھی زینت مضمون ہوتیں ۔ یوں لگ بھگ ایک سال تک یہ مضمون بڑے احسن اور دلفریب انداز میں چھپتا رہا۔
ڈاکٹر مجید نظامی کو اللہ نے بھی بہت پیار کیا اور 27 رمضان المبارک کی مبارک شب اپنے پاس ہی بلوا لیا۔ سوچتا ہوں کہ وہ کیسے خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں۔ جو ساری عمر ظلم کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور یہ جنگ جیت بھی جاتے ہیں۔