ایک روشن دماغ تھا ،نہ رہا

26 جولائی 2015

جناب مجید نظامی کی شخصی خوبیوں، قومی خدمات، صحافتی کردار اور ذاتی تجربات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ نظامی صاحب بہرحال ایک انسان تھے اور کوئی انسان سوائے انبیاء علیہ السلام کے بشری کمزوریوں سے ماورا نہیں ہوتا۔ نظامی صاحب سے زندگی میں بہت سے لوگوں نے اختلاف کیا ہو گا یقیناً ایسے بھی ہونگے جنہیں انکے بعض اقدامات اور رویوں کے حوالے سے تحفظات بھی ہوں گے لیکن ایک چیز یا صفت ایسی ہے دوست دشمن سب ہی اس کے معترف ہیں وہ ہے ان کی پاکستانیت اور اسی پاکستانیت نے انہیں پاکستان کو بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ اور مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر بنانے کی جدوجہد میں زندگی کے آخری لمحے تک محو رکھا۔ ایک مرتبہ وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کے والد جناب محمد اسحاق مسرور نے اثنائے گفتگو کہا ’’مجید نظامی سے بڑا پاکستانی کوئی نہیں ہے‘‘ یہ توصیفی جملہ قابل بحث ہو سکتا ہے کہ حُب الوطنی کی پیمائش کے لیے کوئی آلہ ایجاد نہیں ہوا ہے البتہ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ مجید نظامی کی پاکستانیت ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے وہ پاکستان بالخصوص نظریہ پاکستان کے لیے ساری زندگی جس تسلسل، اخلاص اور جذبہ جنون کے ساتھ جدوجہد کرتے رہے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر غیروں کے ہی نہیں اپنوں کے حملوں کے خلاف وہ جس طرح سیسہ پلائی دیوار بنے رہے ان حملوں کے خلاف ایک مضبوط نظریاتی فوج تیار کرنے کے لیے انہوں نے یونیورسٹیوں، کالجوں اور بالخصوص سکولوں کے نوعمر طلبہ و طالبات کے لیے نظریہ پاکستان آگاہی پروگرام شروع کیا جہاں بچوں کو بتایا جاتا کہ پاکستان کیوں بنا کن حالات میں بنا اور پاکستان بنانے کے مقاصد کیا تھے اس سلسلے میں بانی پاکستان حضرت قائداعظم اور مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال کا کردار کیا تھا۔ بچوں کو باہمی مباحثوں، تقاریر اور سکالرز حضرات کے لیکچروں کے ذریعہ یہ تعلیم دی جاتی کہ پاکستان کے نظریاتی محاذ پر ایک پرعزم، چوکس و مستعد فوج کی طرح کیسے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

اسے بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اور قائداعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان کے مخالفین اور بیرونی ایجنٹوں نے پاکستان کے سیاسی نظریہ کے خلاف سازشوں کا آغاز اس حوالے سے کنفیوژن پیدا کرنے کی کوششوں کے ذریعے شروع کر دیا تھا تاکہ نظریاتی اساس کو کمزور کر کے اس ملک کو ہی کمزور اور غیر مستحکم کر دیا جائے اور پھر دوسرے مرحلے میں خدانخواستہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے ان سازشوں کو محسوس کر کے اور انہیں ناکام بنانے کیلئے جناب حمید نظامی مرحوم کی ادارت میں روزنامہ نوائے وقت ایک دفاعی محاذ میں بدل گیا اور جناب حمید نظامی کے بعد ان کے چھوٹے بھائی مجید نظامی نے اس محاذ کی کمان سنبھالی اور پاکستان کے خلاف نظریاتی حملوں اور حملہ آوروں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تاہم کھلے اور چھپے انداز سے ان حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بھارت جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس نے اپنی فلموں اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ یہ حملے جاری رکھے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے کھلے دل سے اعتراف کر لینا چاہیے کہ یہ حملے غیرموثر نہیں رہے پاکستان کی نئی نسل نے اسکے منفی اثرات کو قبول کیا۔ پاکستان کے چائے خانوں میں اور دیگر جگہوں پر انڈین گانوں کی گونج ہر وقت سنائی دینے لگی۔ گلیوں بازاروں میں پھرنے پھرانے والے ہر عمر کے لڑکوں کے لبوں پر انڈین گانے گونجنے لگے۔ بھارتی چینلوں کے ذریعہ اور وی سی آر کے ذریعہ گھر گھر میں انڈین فلمیں دیکھی جانے لگیں۔ نانبائیوں کی دکانوں، چائے خانوں اور پان سگریٹ کے کھوکھوں پر بھارتی اداکاراؤں کے بڑے رنگین پوسٹرز منہ چڑانے لگے تب ہی سونیا گاندھی نے بڑے تکبر سے کہا تھا کہ ہم نے پاکستان کو نظریاتی طور پر فتح کر لیا ہے اب جغرافیائی طور پر فتح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بھارتی فلمیں، گانے اور ڈرامے وغیرہ ہی نہیں پاکستان میں سیکولر، لبرل اور مغربی تہذیب سے مرعوب و مغلوب اور بھارت کے آلہ کار نام نہاد دانشوروں نے بھی بھارتی مقاصد کی تکمیل میں کردار ادا کیا یہ دعویٰ کسی تردید کے خوف کو پس پشت ڈال کر کیا جا سکتا ہے کہ ان سب کا مقابلہ پوری جی داری کے ساتھ مجید نظامی اور ان کے اخبار نوائے وقت نے کیا ان عناصر کی جانب سے قائداعظم کی 11 ستمبر کی تقریر اور 14نکات کو بنیاد بنا کر یہ پروپیگنڈہ مہم چلائی گئی کہ پاکستان اسلامی نہیں بلکہ ایک سیکولر سٹیٹ بنانا قائداعظم کا مطمع نظر تھا جناب مجید نظامی نے اپنی مدلل تقاریر کے ذریعہ اور نوائے وقت میں اصل حقیقت کو بے نقاب کرنے والی تحریروں کے ذریعہ بشمول اداریے اس پروپیگنڈہ کی زہرناکی کا اثر کم کرنے کی جدوجہد کی اور نئی نسل کو سچا پاکستانی بنانے کے لیے عملی اقدامات کئے۔
جناب مجید نظامی کی پاکستانیت کا اعتراف تو غیروں نے بھی کیا ہے مثلاً بھارت کے سابق ہائی کمشنر پارتھا سارتھی نے اس سوال کے جواب میں بھارت اور پاکستان کی دوستی کی راہ میں سب سے بڑا پتھر کون ہے؟ کہا تھا ’’ایک لفظ میں نظامی یہ واحد رکاوٹ ہے‘‘۔
جناب مجید نظامی نے کشمیریوں کو بھارتی چنگل سے نجات دلانے کے لئے نوائے وقت کے ذریعہ صحافتی محاذ پر مسلسل جنگ کی ہے قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ان کی زندگی کا مشن اس شہ رگ کو ہندو کے چنگل سے آزاد کرانا رہا ہے۔ جناب مجید نظامی صاحب کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ اخبار کے مالک سے زیادہ ایڈیٹر تھے آج پاکستانی صحافت میں ایڈیٹر صحافت کی گمشدہ کڑی بنتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں آج کی صحافت محض ایک کاروبار بنتی جا رہی ہے اگرچہ آج بھی بعض اداروں میں ایڈیٹرز موجود ہیں مگر انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔
بلا خوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کی نئی نسل کو یاد دہانی اور نظریہ پاکستان کو زندہ و پائندہ رکھنے کیلئے ان کا کردار قیام پاکستان کی جدوجہد جتنا معتبر ہے ان کا قائم کردہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ ایسا مینارہ نور ہے جو ملک بھر میں نظریاتی اجالا بکھیر رہا ہے ان کا دل ہمیشہ امت مسلمہ کے مفاد کے لئے تڑپتا رہا فلسطین، کشمیر، بوسنیا سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں کے حق میں ان کی آواز پہلی آواز کا درجہ حاصل کرتی رہی یہ مجید نظامی کی پاکستانیت کا سچا اظہار ہی تھا کہ ان کی وفات کے بعد بھی بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی نوائے وقت کی جانب سے سرپرستی جاری ہے۔ جناب مجید نظامی بلاشبہ ایک روشن دماغ تھے جن کا انداز صحافت آج بھی مشعل راہ ہے۔