راہِ بقاء کے مسافر

26 جولائی 2015

کچھ سندھی اخبارات میں پیرے لکھنے کی ابتدا ہوئی تو ایک دن میں نے حوصلہ پاکر، انگریزی میں کالم لکھا اور ایک انگریزی اخبار کی مدیر اعلیٰ محترمہ ڈاکٹر شیریں مزاری سے فون پر رابطہ کیا تو موضوع کا سن کر فرمانے لگی کہ ’’دیکھئے نا کرنل صاحب‘ امریکہ دنیا کی واحد سپرطاقت ہے اور ہم اپنے اخبار میں ایسا کوئی مواد نہیں چھاپیں گے جس سے امریکی انتظامیہ خفا ہو‘‘۔ آخر کوشش کرکے اس کالم کو اردو میں لکھا۔ عنوان تھا ’’نیو ورلڈ آرڈر ۔ وقت امریکہ کے ہاتھ سے نکل چکا۔
جناب مجید نظامی صاحب سے فون پر رابطہ کیا‘ اپنا تعارف کروانے کے بعد کالم کا عنوان بتا کر عرض کیا کہ جناب میری خواہش ہے کہ میرا کالم آپ اپنے اخبار میں چھاپ دیں۔ تو جناب مجید نظامی صاحب کہنے لگے کہ کرنل صاحب آپ تو اس ملک پر حکومت کرتے رہتے ہیں آپ کا کالم نہیں چھاپیں گے تو پھر کس کا چھاپیں گے۔ عرض کیا کہ جناب میں تو ریٹائرڈ کرنل ہوں اور حکومت سے میرا دور کا واسطہ بھی نہیں۔ پھر سنجیدگی سے فرمانے لگے، کرنل صاحب اپنا کالم ارسال کریں ہم ضرور چھاپ دیں گے۔
مجید نظامی کے ساتھ یہ میرا پہلا رابطہ تھا۔ ویسے زمانہ طالب علمی سے ہی نوائے وقت کا قاری رہا ہوں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے مگر مجید نظامی کے ساتھ براہ راست گفتگو صرف اسی موقع پر ہی ہوئی۔ یوں میرا کالم وطنِ عزیز کے سب سے بڑے نظریاتی اخبار نوائے وقت میں چھپ گیا۔
اپریل 2014ء میں ارادہ کیا کہ مجید نظامی صاحب سے ملاقات کرنی چاہئے اس لئے فون کرکے وقت مانگا تو اگلے دن ایک بجے کا وقت ملا۔ اگلے دن وقت سے پہلے ہی نوائے وقت کے دفتر پہنچا تو اپنے لئے غیر معمولی پروٹو کول محسوس کیا۔ ادارے کے ڈرائیور نے میری گاڑی پارک کرکے چابی واپس کردی، ایک صاحب میرے ساتھ ہولئے اور پی۔ اے کے دفتر تک میری رہنمائی کی۔ پھر مقررہ وقت پر شفیق صاحب مجھے نظامی صاحب کے دفتر میں لے گئے۔ گفتگو کے بعد میں نے اپنی تصنیف کردہ کتاب ’’پاکستان بقاء کی جنگ‘‘ کی ایک کاپی جناب مجید نظامی صاحب کو پیش کردی تو فرمانے لگے کہ مبارک ہو آپ نے کتاب لکھی ہے۔ پھر کتاب کی ورق گردانی کرتے رہے اور مسکراتے ہوئے کہنے لگے ’’یہاں تو آپ کے بابا نے آپ کو گائوں کے سکول میں کچی کلاس میں داخل کروایا‘‘۔ ہم ملکی معاملات کے موضوع پر گفتگو کرتے رہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہم ایک دوسرے کو کئی برسوں سے جانتے ہیں۔ ہماری ملاقات اور گفتگو تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ آخر میں نے اجازت چاہی اور ان سے رخصت ہوا۔
26 جولائی 2014ء کی صبح اخبار نوائے وقت دیکھا تو جناب مجید نظامی کی وفات کی خبر چھپی تھی۔ ان کی رحلت رمضان المبارک کی 27 ویں کی شب کو ہوئی۔ جلدی میں جنازہ میں شامل ہونے کے لئے روانہ ہوا۔ جنازہ کے بعد گھر واپس اور زندگی کے معمول میں مشغول رہا۔ مگر دن بھر طبیعت میں افسردگی رہی۔ رات کو سوگیا۔ نیند میں خواب دیکھتا ہوں کہ جناب مجید نظامی صاحب فوت ہوگئے ہیں۔ ایک ایسا کمرہ ہے جس میں نہ کھڑکی ہے نہ دروازہ ہے نہ دیواروں پر رنگ ہے۔ مگر اس کی چھت ہے۔ اندر اتنی روشنی ہے کہ تمام چیزیں لوگ اور ان کے چہرے نمایاں نظر آرہے ہیں۔ اس کمرہ کے وسط میں ایک لکڑی کا بکس ہے جو کفن ‘باکس تابوت کی طرح کا ہے۔ اس پر چادر بچھی ہوئی ہے اور مجید نظامی صاحب کا جسد خاکی اس پر رکھا ہوا ہے۔ ان کا جسد خاکی ایک چادر سے ڈھکا ہوا ہے مگر چہرہ پوری طرح ظاہر ہے، دیوار اور مجید نظامی صاحب کے جسد خاکی کے درمیان جگہ بہت تنگ ہے۔ بس اتنی جگہ ہے کہ انسان چل سکے۔ سفید لباس سفید عمامہ میں ملبوس صاف چہرے سفید داڑھی کے لوگ ایک قطار میں دائیں طرف چلتے ہوئے نظامی صاحب کے چہرے تک جاتے ہیں۔ انکے جسد کو ہاتھ نہیں لگاتے مگر جھک کر انکے ماتھے کو بوسہ دیتے ہیں۔ پھر سیدھے ہوجاتے ہیں اور آگے کو روانہ ہوتے ہیں۔ آگے چل کر غائب ہوجاتے ہیں۔ قطار میں کافی لوگ ہیں اور میں بھی قطار میں کھڑا ہوں اور اپنی باری کا انتظار کررہا ہوں۔ قطار میں چلتے ہوئے میری باری آتی ہے تو میں بھی بوسہ دینے کے لئے آگے کو جھک جاتا ہوں مگر بوسہ نہیں دیتا اور پھر سیدھا کھڑا ہوجاتا ہوں۔ سوچ رہا ہوتا ہوں کہ انسان کے لئے فوت شدہ انسان کے جسد کو بوسہ دینا منع ہے۔ سوچتا ہوں کہ میں تو بوسہ نہیں دیتا تو پھر یہ کون لوگ ہیں۔ ہاں شاید فرشتے ہیں۔ ان سوچوں میں آگے بڑھتا ہوں مگر میرے پیچھے قطار میں آنے والے لوگ بڑھ کر ان کے ماتھے پر بوسے دیتے ہیں اور چلتے جاتے ہیں۔ اس کے بعد میرا خواب ٹوٹ جاتا ہے۔ اس خواب کے بعد مجید نظامی مرحوم ومغفور مجھے دوبارہ کبھی خواب میں نہیں آئے۔ جناب مجید نظامی صاحب راہ بقا کے ایسے مسافر ہیں جن کے استقبال کے لئے انتظار ہورہا تھا۔ اللہ رب العزت مجید نظامی مرحوم کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین!