کچھ یادیں اور کچھ باتیں

26 جولائی 2015
کچھ یادیں اور کچھ باتیں

زندگی کی حقیقت ایک بلبلے اور ہوا کے جھونکے سے زیادہ نہیں۔زندگی کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ مجید نظامی کے خدمتگار منیرنے بتایا کہ ایک بار نظامی صاحب نے کہا زندگی کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ نظامی صاحب نے 86سال عمر پائی ۔میں نے صحافت میں بسم اللہ رپورٹنگ سے کی۔ نوائے وقت نے سب ایڈیٹر بنا یا۔ سعید آسی صاحب ایڈیٹوریل میں لائے۔ مجید نظامی صاحب نے کالم نگاری میں حوصلہ افزائی کی۔شعبہ ایڈیٹوریل کی وجہ سے نظامی صاحب سے قربت رہی۔آج پہلی برسی پر ان کی سرپرستی میں بیتے ایک ایک لمحے کی یاد آرہی ہے۔وہ واقعی عظیم انسان اور بلند پایہ صحافی تھے۔
نظامی صاحب کی ریڈنگ سپیڈ ناقابل یقین حد تک تیز تھی۔ میں اپنی کتاب عزم کے کوہِ گراں کا ایک حصہ جو نظامی صاحب کے بارے میں تھا وہ ان کو دکھانے گیا تو انہوں نے مختصر وقت میں یہ حصہ میرے وہاں کھڑے کھڑے پڑھ لیا۔ نظامی صاحب خود ڈرائیونگ تیز کرتے اور ڈرائیور کو بھی گاڑی تیز چلانے کا کہتے تھے۔ انہوں ایک مرتبہ میٹنگ کے دوران باتوں باتوں میں بتایا کہ جوانی میں سینما جانا روزانہ کا معمول تھا۔
وقت کی پابندی کوئی نظامی صاحب سے سیکھے۔کسی تقریب میں کبھی لیٹ نہیں ہوئے۔تقریبات میں عموماً دو گھنٹے قبل کا ٹائم دیا جاتا ہے۔نظامی کومدعو کرنیوالے اصل ٹائم بتاتے تھے۔شیخ رشید میاں نواز شریف کے وزیر ثقافت تھے۔چھٹی کے روز لاہور آئے ۔نظامی صاحب سے 15منٹ کی گیارہ بجے ملاقات کے وقت طے ہوا۔ شیخ صاحب ساڑھے 11بجے گاڑیوں کے جھرمٹ میں گھر آئے تو نظامی صاحب سوا 11بجے انکے انتظار کے بعدکسی کام کے سلسلے میں گھر سے جاچکے تھے۔
ایڈیٹوریل میٹنگ کا وقت سلیم بخاری صاحب اور سعید آسی صاحب کی مشاورت سے کرتے۔ ایڈیٹوریل میٹنگ کبھی لیٹ نہ ہوتی ۔اگر کسی وجہ سے وہ لیٹ ہوتے تو فون پر بتا دیتے کہ خود میٹنگ کرلیں۔دس پندرہ منٹ کی تاخیر پر میٹنگ میں معذرت کرتے۔یہ انکا بڑا پن تھا۔
قائد اعظم اور علامہ اقبال کا حد درجہ احترام کرتے۔ ایک تقریب کے دوران ایک مقرر نے نظامی صاحب کو”اقبال وقائد کا جاں نشین کہا تو انہوں نے فوری طور پر اسے ٹوکتے اور روکتے ہوئے کہا ”میں اقبال اور قائد کا جاںنشین نہیںانکا خادم ہوں۔مسلم لیگ ن کی ایک تقریب میں جذباتی نوجوانوں نے ”نواز شریف قائدِ اعظم ثانی “ کے پُرکیف نعرے لگائے ۔میاں نواز شریف اس پر سرشار اورمسرور تھے کہ نظامی صاحب نے کھڑے ہو کر کہا۔”قائدِ اعظم ایک ہی ہوا ہے انکا کوئی ثانی نہیں“ نظامی صاحب کہتے ہیں کہ اس کا میاں صاحب نے بُرا مناتے ہوئے کہا ”تسیں میری پَت لاہ دتی اے “
وضعداری کی طرح خودداری میں بھی وہ یکتا تھے۔ میٹنگ کے دوران سلیم بخاری صاحب نے پیغام دیا کہ صدر زرداری کل لاہور آرہے ہیں۔گورنر ہاﺅس میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔نظامی صاحب نے کہا ”ملنے میں کیا حرج ہے لیکن یہ تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ ملاقات ہماری خواہش پر ہورہی ہے۔
نظامی صاحب امیرکبیرلوگ،حکمران اور شاہ ملنے کی خواہش کرتے، آپ فقیروں کو بھی شاہوں جیسا احترام دیتے۔ ساغر صدیقی کو تلاش کر کے انکی خدمت کرتے۔ یوم پاکستان ،یوم آزادی وغیرہ پر ان سے نظمیں لکھوا کر شائع کراتے۔ ایک مرتبہ 14 اگست کو مقبرہ جہانگیر پر مقامی نمائندے نے تقریب کا اہتمام کیا۔ مہمان قالین پر قطار میں بیٹھے تھے۔ کھانا لگ گیا۔ ساغر صدیقی اورآغا شورش آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ آغا صاحب نے کہہ دیا ”ساغر صاحب ہاتھ دھو لیں“ اس پر ساغر صدیقی کا پارہ چڑھ گیا۔ سخت ناراض ہوئے۔ شدید غصے کا اظہار اشعار میں کیا اور محفل چھوڑ کر چل دیئے۔ نظامی صاحب نے بڑی مشکل سے منا کر اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا۔
حکمرانوں میں قائد اعظم کے بعد وہ محمد خان جونیجو کو پسند کرتے تھے۔جونیجو صاحب کا ذکر آیا توجسٹس آفتاب فرخ صاحب کے بیان کردہ واقعات بھی یاد آگئے۔ شریف فیملی کے مجید نظامی صاحب کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، میاں نواز شریف نظامی صاحب کے دوست تھے۔ سیاست میں نواز شریف کو گورنر جیلانی لائے۔ نواز شریف جنرل جیلانی کی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے۔ وزیراعلیٰ میاں شریف کے کہنے پر نظامی صاحب کی سفارش سے بنے ۔ جسٹس فرخ آفتاب، نظامی صاحب اور میاں شریف کے مشترکہ دوست تھے۔ شریف خاندان کی کوئی تقریب نظامی صاحب کی شرکت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی اور اکثر میں جج صاحب بھی شریک ہوتے۔ نواز، شہباز اور عباس شریف ابا جی کے انتہائی فرمانبردار فرزند تھے۔ میاں شریف کا حکم تھا کہ وہ نظامی صاحب کو بھی والد کی طرح سمجھیں۔ شہباز شریف واقعی ایسا سمجھتے رہے وہ جنازے کو سب سے پہلے کندھا دینے والوں میں شامل تھے جبکہ نواز شریف نے والد کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد اس حکم کو سیاست کی نذر کر دیا۔ جسٹس فرخ آفتاب کہتے ہیں ” جنرل ضیاءالحق کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد حکومت سازی کے مرحلے پر نظامی صاحب نے مجھے پیر پگاڑا سے ملنے کو کہا جو اُس وقت بادشاہ گر کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے کہنے پر جنرل ضیاءالحق نے محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنایا۔میں پیر پگاڑا سے ملنے کراچی جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ ان کا فون آگیا کہ وہ لاہور آ رہے ہیں۔ لاہور آمد پر وہ میرے گھر آئے۔ جہاں نظامی صاحب کا نواز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا پیغام دیا، نواز شریف وہاں موجود تھے جن کی پیر صاحب سے ملاقات کرا ئی۔ پیر صاحب نے وعدہ کر لیا۔ ایک دو روز بعد جونیجو صاحب لاہو آئے۔ گورنر ہاﺅس میںمَیں( جسٹس فرخ آفتاب) بھی موجود تھا۔ جونیجو صاحب سے مدعوئین کا تعارف کرایا جا رہا تھا تو میرے قریب آنے پر گرمجوشی سے ملے۔ تھوڑی دیر بعد میرا ہاتھ پکڑا اور چلتے چلتے کہا کہ میرے جانے کے بعد انکو خوشخبری دے دینا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے وزیراعلیٰ بننے کی راہ جنرل جیلانی نے ہموار کی۔ایسا نہیں ہے۔جنرل جیلانی کی لسٹ میں وزارت اعلیٰ کیلئے ملک نعیم اعوان اور ملک اللہ یار ٹاپ پر تھے۔ نواز شریف کے وزیراعلیٰ بننے پر دونوں شدید کوفت اور صدمے سے دوچار ہوئے....“
پھر نواز شریف نے ضیاءالحق کو طاقتور دیکھ کر اپنا جھکاﺅ انکی طرف کر لیا۔ ضیاءنے جونیجو حکومت ختم کی اور اسمبلیاں توڑیں تو میاں نواز شریف ضیاءالحق کے نگران وزیراعلیٰ بن گئے۔ اس پر نظامی صاحب ان سے خفا بھی ہوئے تاہم تعلقات میں سردمہری میاں شریف کی وفات کے بعد آئی جو نظامی صاحب کی وفات تک گرم جوشی میں نہ بدل سکی البتہ سرسری تعلقات ضرور برقراررہے۔ کچھ لوگوں کی خام خیالی ہے کہ میاں نواز شریف کے ساتھ نظامی صاحب کے بڑے گہرے تعلقات تھے۔کئی تونظامی صاحب کو ان کا سرپرست بھی کہتے تھے۔ایک مرتبہ ملک نسیم آہیر نے نظامی صاحب سے کہا ”جتنا ساتھ آپ نے نواز شریف کا ساتھ دیا اتنا جنرل ضیاءالحق کا دیتے تو ملک بہت آگے جاچکا ہوتا۔ایک موقع پر صدر آصف علی زرداری نے جوش خطابت میں نظامی صاحب کو نواز شریف کا پیر قرار دیدیا۔ ایک تقریب میں نواز شریف نے نظامی صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کے کہنے پر دھماکے کئے اور آپ نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا۔اگلے روز میاں صاحب کے اس بیان پر نظامی صاحب نے کہا ۔” سن لو دنیا کہا کہتی ہے اور میاں صاحب کیا کہتے ہیں! منی بدنام ہوئی۔۔۔“
نظامی صاحب سے مستقل اور کبھی کبھی ملنے والے بھی ان سے وابستہ حسین یادیں دل میں سجائے پھرتے ہیں۔ گمان گزرتا ہے ایک باد صبا کا جھونکا تھا تو مسحور اور مخمور کر کے گزر گیا۔