نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے!!

26 جولائی 2015

صحافتی دنیا کے قطب جناب مجید نظامی جو حق و صداقت کی ایک عظیم ہستی تھے پچاس سالوں سے زیادہ عرصہ تک صحافتی میدان میں آسمانی روشن ستارے کی طرح اپنی آب وتاب کے ساتھ چمکتے اور دمکتے رہے۔ آپکو صحافتی شعبہ میں بے مثال اور گراں قدر خدمات کے پیش نظر پنجاب یونیورسٹی نے 2012 میں ڈاکٹریٹ کی اعلی ڈگری سے نوازا۔ ڈاکٹر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک علم کا ڈاکٹر اور دوسرانبض کا ڈاکٹر۔ نبض کا ڈاکٹر مریض کو امراض سے بچاتا ہے جب کہ علم کا ڈاکٹر قوم کو بھولی راہ دکھاتا بلاتا ہے۔ مجید نظامی قوم کے ذہنوں کو آزادی کی اصلی راہ کی جانب موڑنے اور قائداعظم کے مشن کی تکمیل کیلئے گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک اپنی پوری کوشش اور انتھک محنت کرتے رہے۔ قائد کے مشن اور ویژن کی تکمیل اور اقبال کے خواب کی تعبیر ان کے شب و روز تھے۔ دنیاوی ڈگریوں کے علاوہ انکے پاس ایک لازوال اور بے مثال ڈگری تھی جس کا نام نظریہ پاکستان تھا۔ اس سے بڑی اور اعلی ڈگری کا پاکستان بھر میں کہیں وجود ہے نہ موجود۔ اس ڈگری کا تعلق علم سے نہیں ہوتا۔ یہ ملک و قوم سے سچی پکی محبت لگن اور عشق حقیقی سے حاصل ہوتی ہے۔ مجید نظامی کے دل میں اللہ اور رسول سے محبت تھی وہ سچے پکے صاف و شفاف اور کھرے پاکستانی تھے اگرچہ وہ سیاست میں نہ تھے مگر سیاست دان کے قدموں میں بیٹھنا ان سے دعائیں اور بلائیں لینا اپنے لئے ایک بڑا فخر اعزاز اور سعادت سمجھتے تھے وہ جس راہ اور منزل پر رواں دواں اور گامزن تھے پوری قوم انکے جذبات واحساسات اور خیالات کی ہمنوا تھی۔ وہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے بہت بڑے بہی خواہ تھے۔ وہ ساری زندگی قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرنے میں لگے رہے۔ آپ دماغی قوت کے اعتبار سے ایک غیر معمولی ذہانت کے حامل اور امین تھے۔ آپکا پچاس سالہ عہد صحافت بڑی جاذبیت اور ناموری سے عبارت ہے۔ آپکی عبادات و خیالات اسلام دوستی اور حق گوئی بے باکی کا بہت بڑا ثبوت ہیں۔ آپ نے بڑے بڑے اور آمر حکمرانوں کے سامنے نہایت متانت، جرا¿ت وبہادری اور انتہائی بے باکی سے اظہار گفتگو کی آپ اکثر نظریہ پاکستان سے متعلق تقاریر فرماتے جس سے سامعین کے دلوں میں جوش وخروش جنم لیتا۔ مجید نظامی کے مزاج میں سادگی عاجزی اور انکساری کے آداب واطوار کوٹ کوٹ کر بھرے تھے اور شگفتگی کا حسین امتزاج بھی موجود تھا۔ گفتگو ہو تو چہرے پر مدبرانہ اثرات اور احترام انسانیت انکی رگ رگ میں جلوہ گر تھی۔ آپ مردم شناس شریف النفس حلیم الطبع اور حاضروناظر عقل سلیم کے مالک اور سب سے بڑی خوبی یہ کہ وہ ایک دیانتدار شخصیت کے حامل عظیم معروف سپوت اور عظیم پیکر تھے آپ سیرت وصورت میں کھرے اور بصیرت وبصارت سے بھرے مردمومن تھے۔ وہ ایک متحمل شخصیت کے ساتھ ساتھ عظیم منتظم اور گوناں گوں ذات و صفات کے عالم فاضل فخر پاکستان اور صحافتی دنیا کے ایک عظیم سرمایہ اور اثاثہ تھے۔ نوائے وقت اور مجیدنظامی لازم و ملزوم تھے۔ انکے چھوٹے سے چھوٹے اہلکار سے لیکر بڑے سے بڑے ورکرز تک باہمی ربط اخوت و یگانگت اور بھائی بندی کی عظیم صفات موجود تھیں۔ یہ اخبار نہیں ایک ادارہ ہے جو نظریہ پاکستان کے پرچار اور محب وطن پاکستانیوں کے لئے ایک ”درس گاہ“ کا کام دے رہا ہے اور ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں نے آپ کو ”مجاہد پاکستان“ کا سرٹیفکیٹ اور تلوار دی۔ اس سرٹیفیکیٹ کی لاج رکھتے ہوئے آپ صحافت کی دنیا میں نصف صدی سے زیادہ کے عرصہ تک ایک مردقلندر اور مجاہد کا کردار ادا کرتے رہے اور تلوار سے وہ قلم کا کام لیتے رہے۔ آپ ایک حقیقی درویش تھے‘ بقول اقبال....ع
نگاہِ فقر میں شان سکندری کیا ہے