مجید نظامی - جہد مسلسل

26 جولائی 2015

تحریک پاکستان کے دوران 1942ء میں سکندر حیات انتقال کر گئے تو پنجاب کے گورنر گلانسی نے حضرت قائدِ اعظمؒ کی منشا کے خلاف خضر حیات ٹوانہ کو مسندِ وزارت پر بٹھا دیا۔ جو قوتیں سکندر حیات کی فرماں بردار تھیں اب وہی ملک خضر حیات کے تابع تھیں۔ حضرت قائدِ اعظمؒ چاہتے تھے کہ خضر حیات مسلم لیگ کی غیر مشروط حمایت کرے لیکن وہ چھوٹو رام کو چھوڑنے پر تیّار نہ تھے۔ پنجاب کا گورنر گلانسی ، خضر حیات کا دھرم پِتا تھا۔ اس نے خضر حیات کو اس قدر مرعوب کر رکھا تھا کہ وہ مسلم لیگ سے بالکل باغی ہوگیا۔ بالآخِر 1944ء کے وسط میں حضرت قائدِ اعظمؒ نے تنگ آ کر اسے مسلم لیگ سے نکال دیا۔ اسکے دوسرے ہی دن قائدِ اعظمؒ نے حمید نظامی کو طلب کرکے فرمایا کہ :
’’ میں چاہتا ہُوں کہ لاہور سے ایک روزانہ اخبار نکالا جائے جو سو فیصد مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی ترجمانی کرے اور میں چاہتا ہُوں وہ اخبار تم نکالو۔‘‘
حمید نظامی کے پاس روزانہ اخبار کے لیے سرمایہ نہ تھا لیکن جذبہء صادق کی کمی نہ تھی لہٰذا انھوں نے شیخ حامد محمود کے ساتھ مل کر بڑی ہی سخت جِدّوجُہد کے بعد 22 جنوری 1944ء سے نوائے وقت کو روزنامہ کردیا۔
حمید نظامی نے ملک و قوم کے لیے شب و روز بے لوث خدمات سر انجام دیں۔ اخبار میں کئی کئی کالم انھیں لکھنا پڑتے تھے۔ ان کا اندازِ بیان سادہ ، سلیس ، جامع ، عام فہم اور مؤثر ہوتا تھا۔ ڈیفنس کونسل سے اختلاف کیا تو حمید نظامی نے جناح سکندر پیکٹ کی تشریح کرتے ہوئے حضرت قائدِ اعظمؒ کی تائید میں ایک مدلّل مضمون شائع کیا جسے حضرت قائدِ اعظمؒ نے اتنا پسند کیا کہ اس کی 25,000 کاپیاں کتابی صورت میں چھپوا کر تقسیم کرائیں۔ حمید نظامی نے اپنے کالموں اور اداریوں کے ذریعے ہندی مسلمانوں کا مقدمہ اقوامِ عالم کے سامنے حسن و خوبی اور سلاست و صفائی سے نہ صرف پیش کیا بلکہ اسے جیت بھی لیا۔ انھوں نے ’’نوائے وقت‘‘ کا اجرا چونکہ ایک سچے جذبے کے ساتھ کیا تھا اس لیے اس کی سپلائی لائن بڑی مضبوط تھی۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے ذمہ دار مسلمان افسران ، جو دِل و جان سے تحریکِ پاکستان کے حامی تھے ، نوائے وقت کو سرکاری رازوں کا پہنچانا قومی خدمت کا حصّہ سمجھتے تھے لہٰذا ان کی خبریں تازہ بھی ہوتی تھیں اور صداقت پرمبنی بھی۔ حمید نظامی اعلیٰ صحافتی اصولوں کے بہت بڑے پاسباں تھے۔ وہ عارضی اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز ، ہیجان انگیز اور جذباتی خبریں لگانے کے سخت خلاف تھے۔ انھوں نے حقائق پر مبنی خبریں لگا کر اپنے اخبار کو اور صحافت کو اس علّت سے پاک رکھا۔ نوائے وقت کی خبروں میں صداقت کی چاشنی کا یہ عالم ہوتا تھا کہ لوگ کِسی خبر کی سچائی کو پرکھنے کے لیے یہ دیکھتے تھے کہ نوائے وقت اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ گویا لوگوں نے نوائے وقت کو صداقت کا معیار قرار دے دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت ہی قلیل عرصے میں نوائے وقت پنجاب کے مسلم لیگی عوام کا مقبول ترین اخبار بن گیا۔ اسکی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے آسانی کے ساتھ لگایا جاسکتا ہے کہ اسکی قیمت دو آنے تھی مگر لوگ اس کو ایک روپے میں خریدا کرتے تھے۔
نوائے وقت صحیح معنوں میں حضرت قائداعظمؒ کے مؤقف کی عکاسی کرنے میں وقت کے تمام مسلم اخبارات کا سرخیل ٹھہرا۔ قیامِ پاکستان کے بعد حمید نظامی کی ادارت میں روزنامہ نوائے وقت ملک میں قانون کی حکمرانی‘ جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے جدوجہد کرنے لگا۔ حمید نظامی حصول وطن کی جدوجہد میں پیش پیش رہے تھے۔ انہوں نے نوائے وقت کے ذریعے ملک میں اقبالؒ و قائداعظمؒ کی تعلیمات اورسیاسی نظریات کے مطابق ملکی نظام استوار کرنے کے لیے اپنے قلم کی تمام تر توانائیاں صرف کرنی شروع کر دیں۔ حمید نظامی اخبارسے متعلق ہر معاملے کی بذات خود دیکھ بھال کرتے۔ اداریہ خود تحریر کرتے‘ شہ سرخی اور دیگر سرخیوں کی جانچ پڑتال کے بعد انکے بارے میں حتمی فیصلہ دیتے کہ لیڈ کیا ہو گی اور فلاں فلاں خبر کتنے کالم کی ہو گی۔ انکے ایک قریبی دوست حامد محمود‘ اخبار کے منیجنگ ایڈیٹر تھے گویا وہ حمید نظامی مرحوم کے بزنس پارٹنر تھے۔ حمید نظامی جب تعمیرِ وطن کے محاذ پر سرگرم عمل تھے‘ عساکرِ پاکستان کے سپہ سالار جنرل ایوب خان نے جمہوریت کی صف لپیٹ کر اکتوبر 1958ء میں ملک پر مارشل لاء مسلط کر دیا۔ یہ ملک پر نافذ ہونے والا پہلا مارشل لاء تھا۔ جناب حمید نظامی نے اس وقت اپنے قلم کو مارشل لاء کیخلاف بھر پور طریقے سے استعمال کیا۔ ملک کے بڑے بڑے اخبارات کے مدیروں کو مارشل لاء کے خلاف کچھ تحریر کرنے کی جرأت نہ تھی۔
جناب حمید نظامی نے پاکستانی عوام کے حقوق کے تحفظ ‘ جمہوریت کی بحالی اور اسلامی اقدار کے احیاء کے لیے اپنی زندگی کو دائو پر لگا دیا۔ حالات کی نزاکت سے گھبرا کر انکے بزنس پارٹنر شیخ حامد محمود ساتھ چھوڑ کر ان سے الگ ہو گئے۔
مارشل لاء کی گھٹن نے جناب حمید نظامی کو عارضۂ قلب میں مبتلا کر دیا۔ جب وہ بستر علالت پر تھے تو ان کے چھوٹے بھائی جناب مجید نظامی برطانیہ میں نوائے وقت کے بیوروچیف کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے۔ جناب حمید نظامی کے کہنے پر آغا شورش کاشمیری نے جناب مجید نظامی کو لندن فون کر کے پاکستان آنے کا کہا۔ جناب مجید نظامی فوراً وطن واپس آئے۔ بڑے بھائی جناب حمید نظامی سے ملے تو انہوں نے آخری بار آنکھیں کھولیں اور کہا کہ ’’اچھا‘ تم آگئے ہو؟‘‘ جناب مجید نظامی نے جواب دیا‘ ’’ہاں! میں آگیا ہوں۔‘‘ ’’اچھا کیا‘‘ کہا اور اسکے بعد مرحوم نے آنکھیں نہ کھولیں۔ 25 فروری 1962ء کو اپنی وفات سے قبل جناب حمید نظامی نے تمام قانونی تقاضے پورے کر کے چھوٹے بھائی مجید نظامی کو اپنا جانشین اور اخبار کا ایڈیٹر مقرر کر دیا تھا۔ وفات کے اگلے دن جب نوائے وقت کا شمارہ شائع ہو ا تو جناب مجید نظامی وہ شمارہ لے کر بھائی کے جسد خاکی کے پاس گئے اور وہ تازہ شمارہ ان کے سینے پر رکھ دیا جواس امر کی علامت اور عزم کا اظہار تھا کہ ہم آپ کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔
ان دنوں امیر محمد خان آف کالا باغ مغربی پاکستان کے گورنر تھے۔ وہ مرحوم حمید نظامی کے دوست اور مداح تھے۔ وہ فاتحہ کہنے کے لیے جناب حمید نظامی کے گھر آئے۔ بعد میں جناب مجید نظامی کو گورنر ہائوس میں چائے پر بلایا۔ وہ وہاں گئے تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا ’’اوپر اللہ کی ذات ہے اور نیچے صدر ایوب خان۔ چنانچہ اگر مجھے کبھی صدر ایوب خان نے نوائے وقت اخبار کو بندکرنے کے لیے کہا تو میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کروں گا لیکن تم مرد نہیں ہو گے اگر تم اخبار کو اپنے بھائی کی پالیسی کے مطابق جاری نہیں رکھو گے۔‘‘ یہ بات سن کر جناب مجید نظامی نے پورے عزم و استقلال کے ساتھ جواب دیا ’’جناب! آپ مجھے انشاء اللہ مرد ہی پائیں گے۔‘‘ چنانچہ جو بھی آمر آیا‘ جناب مجید نظامی نے اس کا مردانہ وار ہی مقابلہ کیا ۔ (جاری)