رزم حق وباطل میں فولاد....مجید نظامی

26 جولائی 2015
رزم حق وباطل میں فولاد....مجید نظامی

مہربان صحافت جناب مجید نظامی کی پہلی برسی پر ان کے محبوب شاعر مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال کے یہ شعر بے ساختہ زبان پر آ گئے ہیں:۔
ہو حلقہ یاراںتوبریشم کی طرح نرم
رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن
جناب مجید نظامی سے تعلق رکھنے والے، ملنے والے کسی بھی شخص سے پوچھا جائے تو وہ اس بات کی تصدیق کریگا کہ امام صحافت میں یہ صفات موجود تھیں، 3اپریل 1928ءکو سانگلہ سے زندگی کے سفر کا آغاز کرنے والے اس نفیس انسان نے 26 جولائی 2014ء(27رمضان المبارک) تک کے طویل سفر میں مرد میدان کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ وہ اپنے موقف اور سچائی کے ابلاغ کے حوالے سے ڈٹ جانے والے، اپنے سائے میں آنےوالوں کو تربیت اور انکے قدوقامت میں اضافے کے حوالے سے فراخدل، اپنے ماتحتوں کی لغزشوں کو نظر انداز اور معاف کرنے والے، اپنی روح اور اپنے بدن کی ظاہری اور باطنی صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھنے والے اور حق گوئی کی راہ میں آڑے آنیوالوں کیلئے سراپا تازیانہ بنے رہتے تھے، میں نے ذاتی طور پر انکی نگرانی میں ایک دہائی سے زیادہ کام کیا۔ اس دوران انکی نوازشوں کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ بھی جاری رہا۔ وہ سچ بولنے والے اور اپنی غلطی کو تسلیم کر لینے والے کارکنوں کیلئے ہمیشہ نرم گوشہ رکھتے تھے، صرف ایک مثال کافی ہے، آغاز میں ملتان سٹیشن کیلئے کلر ایڈیشن لاہور سے چھاپ کر ارسال کیا جاتا تھا، کبھی کبھی ملتان سٹیشن والے کسی اشاعت خاص کی چھپائی کا اہتمام مقامی ضرورت کیمطابق بھی کر لیا کرتے تھے۔ ایک بارملتان سٹیشن والوں نے پہلے اطلاع دے کر جمعہ (ان دنوں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوا کرتی تھی) کا خصوصی میگزین اپنے ہاں چھاپ لیا۔ میں نے روٹین میں جمعہ میگزین کی لاہور سے اشاعت کیلئے بھی کہہ دیا۔ اس دور کے حساب سے یہ بہت بڑا نقصان تھا۔ میں چاہتا تو جان چھڑانے کےلئے کہہ سکتا تھا کہ مجھے ملتان سٹیشن سے اطلاع نہیں دی گئی (چونکہ کوئی تحریری ثبوت نہیں تھا) صبح طلبی ہوئی، نظامی صاحب نے پوچھا کہ ملتان سے اطلاع آئی تھی، میں نے فوراً اپنی غلطی تسلیم کی، نظامی صاحب نے ایک نظر دیکھا پھر کہنے لگے: ”آپ کو علم ہے کہ ادارے کا کتنا نقصان ہوا ہے“ میں نے جواب دیا ”سر مجھے علم ہے اور اتنے زیادہ نقصان کا دکھ بھی ہے“ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولے ” اچھا جاﺅ، آئندہ احتیاط کرنا“۔ ادارہ نوائے وقت کو انہوں نے ایک معمار کے طور پر جدید خطوط پر استوار کیا اور دی نیشن، فیملی، پھول جیسے ضمنی ادارے آج ہر سو قارئین کیلئے خوشبو بنے ہوئے ہیں، ان سے ہٹ کر کارکنان تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کو ایسی حیات جاوداں دے گئے ہیں کہ انکے رفقا بھی نازاں ہیں، یہ ادارے اب پاکستان کی سالمیت کی ضمانت بنے ہوئے ہیں۔
آج وہ اپنی وفادار رفیقہ حیات کے پہلو میں وفا کی علامت بن کر آسودہ خاک ہیں تو ان گنت ہاتھ ان کےلئے دعا گو ہیں، وطن عزیز کے اندر بھی اور چار دانگ عالم میں بھی۔
”خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را“