مجاہد پاکستان

26 جولائی 2015

کسے معلوم تھا کہ سانگلہ ہل سے میٹر ک پاس کر کے لاہور اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخلہ لینے والے دو بھائی آسمان صحافت کے چاند اور سورج بن کر چمکیںگے۔ قدرت نے لالہ کی حنا بندی کا ایسا انتظام فرمایا کہ تحریک پاکستان کے سلسلہ میں حضرت قائداعظم طالب علموں کی حوصلہ افزائی اور تربیت کے لئے متعدد بار لاہور تشریف لائے۔ جناب نواب ممدوٹ کے ہاں قیام فرمانے پر شمع آزادی کے پروانے اکٹھے ہو جاتے۔ ہند و پاک کے سب سے قد آور رہنما سے براہ راست گفت و شنید سے فیض یاب ہوتے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ ان خوش نصیبوں میں نظامی برادران بھی تھے۔ قائداعظم کی عقابی نظروں نے انہیں چن لیا انہیں فرمایا کہ مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی ترجمانی کے لئے اخبار نکالا جائے۔ تعمیل ارشاد میں فوری طور پر ہفتہ وار ”نوائے وقت“ کا اجرا ہو گیا۔ جو بعد میں روزنامہ بن کر سارے پاکستان میں چھا گیا۔ جناب مجید نظامی صاحب کو ”مجاہد پاکستان“ کا خطاب دیا گیا۔ قائد ملت جناب لیاقت علی خان نے انہیں ایک تلوار عطا فرمائی جو کہ آپ کی بے باک صحافت کی آئینہ دار تھی۔ برادر بزرگ جناب حمید نظامی صاحب نے برادر خورد جناب مجید نظامی صاحب کو اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان بھجوا دیا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہندو پاک کی آزادی کے سلسلہ میں ایک سکھ دانشور کا لیکچر تھا۔ جناب مجید نظامی چونکہ مسلمانوں کی تحریک کا درد رکھتے تھے۔ لندن سے آکسفورڈ تشریف لے آئے۔ دوران تقریر سکھ دانشور نے قائداعظم کے بارے میں ناپسندیدہ ریمارکس دئیے۔ سارے ہال میں سے مجید نظامی اٹھ کھڑے ہوئے بولے ”او سکھ بکواس بند کرو“ سارے ہال پہ سکتہ چھا گیا۔ مجید نظامی صاحب کے الفاظ بار بار گونج کر سکھ پر چھا گئے۔
حدیث مبارکہ ہے کہ ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے۔ اس حدیث شریف پر جناب نظامی صاحب نے ساری زندگی ببانگ دہل عمل کیا۔ بڑے بڑے ظالم حاکموں کے سامنے سینہ تان کر کلمہ حق کہا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اخباری نمائندوں کے جلسہ میں کہا کہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو تمہیں شرم آئے گی اس لئے کہ وہ اپنی تعریف کرنے کے لئے اخبارات والوں کو لفافے بھجواتا تھا۔ جناب مجید نظامی اٹھ کر کھڑے ہوگئے بولے میں نے گریبان میں جھانک کردیکھا ہے مجھے تو فخر محسوس ہوا ہے۔ ایوب خان بولا آپ بیٹھیں میں آپ کی بات نہیں کر رہا۔
ایسے ہی جنرل ضیاءالحق نے اخباری نمائندوں کے اجلاس میں کہا کسی صاحب نے کوئی سوال کرنا ہو تو کریں جناب نظامی صاحب اٹھ کر بولے ”آپ ہماری جان کب چھوڑ رہے ہیں“ پھر ایک مرتبہ ضیاءالحق نے مجید نظامی کو دعوت دی کہ میں بھارت جا رہا ہوں کرکٹ کا میچ دیکھنے آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔ نظامی صاحب نے فرمایا جب آپ ٹینک پر بیٹھ کر بھارت جائیں گے تو میں آپ کے ساتھ چلوں گا۔
آپ کی زندگی ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے کس کس کا ذکر کیا جائے۔ میری دانست میں آپ کا سب سے بڑا اعزاز قائداعظم کے نظریہ پاکستان کے ترویج ہے۔ قائداعظم جو کام ادھورا چھوڑ گئے تھے۔ آپ نے اسے پورا کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ان کی ٹیم نے ان کا بہت ساتھ دیا۔ آنے والی نسلوں تک یہ پیغام پہنچایا اللہ تعالیٰ کو بھی یہ بات پسند آئی۔ انسان کا اس دنیا میں آنا یا جانا اپنے بس کی بات نہیں یہ وقت صرف اللہ تعالیٰ مقرر فرماتے ہیں۔ آپ کی عمر 86 سال ہو گئی تھی۔ دل کے تین اپریشن ہو چکے تھے۔
پچھلے رمضان المبارک میں آپ کی طبعیت خراب ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا چونکہ ڈاکٹروں کی دانست میں علاج ممکن نہ تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کی بیماری کو لمبا کھینچا 27 رمضان تک لے گیا۔ وہ جمعہ کی رات تھی ہر لحاظ سے وہ رات شب قدر تھی۔ 27 رمضان کی رات جمعہ کی رات تہجد کا وقت صبح 2:30 بجے تک زندہ رکھا پھر ایسے لمحے میں اپنے پاس بلایا جب دوزخ کے دروازے بند تھے جنت کے دروازے آپ پر کھول دئیے گئے۔ یہ وقت تو بڑے بڑے زاہدوں کو بھی نصیب نہیں ہوتا جو آپ کو عطا کیا گیا۔
”خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را“