” بے لگام حکمرانوں کےلئے شمشیر بے نیام“

26 جولائی 2015
” بے لگام حکمرانوں کےلئے شمشیر بے نیام“

حمید نظامی کے دیرینہ ساتھی ڈاکٹر عبدالسلام خورشید نے انکے بارے لکھا ”حمید نظامی ان صحافیوں میں شامل تھے جو محض عوام کی ترجمانی کے نہیں بلکہ رہنمائی کے بھی قائل تھے“۔ یہی بات مجید نظامی کے بارے بھی کہی جائے تو غلط نہیں ہو گی۔ مجید نظامی کے ساتھ برسوں کام کرنے والے ملک کے سینئر اخبار نویس نے پچھلے دنوں اپنے کالم میں ایک واقعہ لکھا ہے۔ ”ستمبر 1999ءکے اواخر میں جب میاں نواز شریف جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف کے منصب سے الگ کر کے جنرل ضیاءالدین کو فوج کا سپہ سالار بنانے کا ذہن بنا چکے تھے تو میاں محمد شریف مرحوم اپنے دونوں صاحبزادگان وفاقی وزیروں اور سردار عبدالقیوم کو لیکر بزرگ صحافی مجید نظامی صاحب کے گھر پہنچے اور مشورہ مانگا۔ نظامی صاحب نے انہیں ایک اور آرمی چیف سے پنگا نہ لینے کا مشورہ دیا۔ وہ میاں نواز شریف سے کہنے لگے کہ آخر آپ کی کسی آرمی چیف اور چیف جسٹس سے بنتی کیوں نہیں؟ سردار عبدالقیوم خاں نظامی صاحب کے دلائل سن کر میاں صاحب سے کہنے لگے کہ ان کا مشورہ صائب ہے آپ یہ مہم جوئی نہ کریں۔ بعد ازاں سردار عبدالقیوم نے مجھے بتایا کہ میں شریف برادران کے وکیل کی حیثیت سے میسن روڈ گیا تھا مگر نظامی صاحب کی بات معقول اور وزیر اعظم کی شکایت بے وزن لگی۔ اس لئے میں نے اپنی رائے تبدیل کر لی۔ لیکن میاں صاحب اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے اور وزارت عظمی کے علاوہ جمہوریت کی قربانی دے کے ٹلے“۔ مجید نظامی اپنے موقف کے بارے میں بہت واضح تھے۔ ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہرگز نہیں تھا۔ وہ قومی مسائل پر دوٹوک رائے رکھتے تھے۔ وہ اپنے خیالات کا اظہار ڈنکے کی چوٹ پر کرتے تھے۔ اپنی انڈیا دشمنی انہوں نے کبھی نہیں چھپائی۔ انہیں گول مول باتیں کرنا آتا ہی نہیں تھا۔ وہ اپنے نظریات میں بڑے واضح تھے۔ کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق۔ جب پہلی مرتبہ میاں نواز شریف کے لئے ایک مجمع عام میں قائد اعظم ثانی کا نعرہ بلند ہوا تو وہ یہ کہے بغیر نہ رہ سکے۔ یہ قائد اعظم ثانی کیسے ہو گئے۔ یہ تو تحریک استقلال سے آئے ہیں۔ انہیں ایک ایسا کامیاب ایڈیٹر سمجھا جاتا ہے جس نے ”نوائے وقت“ کا ایک وسیع حلقہ قائم کیا۔ کئی گھرانوں میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے ”نوائے وقت“ اخبار آ رہا ہے۔ پھر وہ اس نوائے وقتیا ہونے پر فخر بھی کرتے ہیں۔ مجید نظامی نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے نوائے وقت کو اردو صحافت کا ایک اہم حصہ بنایا۔ پھر ملکی سیاست میں بھی ان کا کردار بہت اہم رہا۔ پاکستان میں جمہوریت کی ڈکٹیٹر شپ سے چپقلش میں جمہوریت کے لئے لڑنے والوں کو ان کی ہمیشہ مدد اور رہنمائی حاصل رہی۔ جنرل ایوب خاں، یحییٰ خاں، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف ان چاروں فوجی آمروں کو مجید نظامی سے ٹاکرا ضرور ہوا۔
یہ واقعہ ہماری قابل رشک سیاسی زندگی کے قابل رشک باب ہیں۔ ہم ان پر فخر کر سکتے ہیں۔ ان کی پہلی مڈ بھیڑ جنرل ایوب خاں سے ہوئی۔ جنرل ایوب خاں اخبار نویسوں کو اپنے گریبان میں منہ ڈال کر جھانکنے کی ہدایت فرما رہا تھا۔ ان دنوں یہ نوجوان مجید نظامی اٹھے اور بولے ”میں جب بھی اپنے گریبان میں جھانکتا ہوں میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے“۔ پھر جنرل یحییٰ خاں کو مجید نظامی یہ بتانا نہ بھولے کہ مارشل لاءنہ ہی کوئی لاءہوتا ہے نہ ہی مارشل لاءکورٹ۔ کوئی کورٹ۔ اس کے بعد نوے روز الیکشن کروانے کا وعدہ لیکر آنے والے جنرل ضیاءالحق سے معاملہ آتا ہے۔ انہوں نے جنرل ضیاءالحق سے کہا ”ساڈی جان کدوں چھڈو گے؟“ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں کے دعویدار جنرل پرویز مشرف کو ان کے منہ پر ان کے ایک امریکی فون پر ڈھیر ہونے والی بہادری کی قلعی کھول دی۔ یہ سب باتیں پرانی ضرور ہو چکی ہیں لیکن اتنی بھی پرانی نہیں کہ انہیںماضی کے گھورے پر پھینک دیا جائے۔ جمہوریت کے مسئلے پر ان کی سوچ کسی ابہام کا شکار نہیں تھی۔ معروف صحافی امتیاز عالم ”نوائے وقت“ کی سوچ کو رجعت پسند اور زوال پذیر قرار دیتے ہیں۔ لیکن مجید نظامی کے مداح اور نوائے وقت سے ذہنی طور پر وابستہ لوگ اسی ”رجعت پسند اور زوال پذیر فکر“ کو پاکستان کی پہچان سمجھتے ہیں۔ وہ اسے ہی نظریہ پاکستان قرار دیتے ہیں۔ مجید نظامی نے بھارت اور اس کی پالیسیوں سے اپنا شدید اختلاف چھپانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ انہیں ایک مرتبہ ضیاءالحق نے انڈیا کے دورے پر ہمراہ لیجانے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن وہ انڈیا صرف ٹینک پر سوار ہو کر جانے پر رضا مند تھے۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکے کے سلسلہ میں انہوں نے میاں نواز شریف کو یہی مشورہ دیا تھا کہ ”اگر آپ نے دھماکہ نہ کیا تو عوام آپ کا دھماکہ ضرور کر دیں گے“۔
ہمارا انڈیا سے کشمیر اور دریاﺅں کے پانی کا مسئلہ الجھا ہوا ہے۔ کالا باغ ڈیم کے مسئلے پر کالا باغ ڈیم کے مخالفین کی ہندوستانی مالی سرپرستی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ ایم کیو ایم کے را‘ سے رابطے اور مالی امداد، پھر ہندوستانی قیادت کا بنگلہ دیش کے قیام کا کھلم کھلا اقرار ہماری آنکھیں کھولنے کو کافی ہے۔ لیکن سوئے ہوﺅں کو جگانا ممکن ہے، جاگتے ہوﺅں کو بھلا کون جگا سکتا ہے۔ اب ایک تازہ تکلیف دہ خبر سرحد پار سے اور آئی ہے۔ کراچی میں شدید گرمی، بجلی اور پانی کی عدم دستیابی سے 1300 سے زائد ہلاکتوں کی وجوہات جاننے کے لئے بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی نے راجستھان میں قائم کوئلہ کے پاور پلانٹ کی حرارت کو کراچی کی ہلاکتوں کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر اس مسئلے کو سفارتی سطح پر نہیں اٹھایا جائے گا تو کراچی کو ایسی بدترین صورتحال کا سامنا مستقبل تو اتر کے ساتھ ہوتا رہے گا۔ راجھستانی علاقہ میں گرال کول پلانٹ کے علاوہ بہت سے اور بجلی گھر بھی کوئلہ سے چلتے ہیں۔ ان سے نکلنے والے دھوئیں کے باعث سندھ میں درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔
بھارت بڑا ملک ہونے کے باوجود چھوٹی سوچ رکھتا ہے۔ یہ ایک اچھا پڑوسی بھی نہیں لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ ملکی سطح پر پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے۔ مجید نظامی انڈیا کو اپنا دشمن نمبر ایک قرار دیتے تھے۔ لہذا وہ اس سے کسی قسم کے سیاسی، سماجی، ثقافتی روابط بھی رکھنا نہیں چاہتے تھے تاوقتیکہ وہ کشمیر آزاد نہیں کرتا اور ہمارا دریاﺅں کا پانی نہیں چھوڑتا۔ اس سلسلہ میں وہ کسی درمیانی راستہ کے قائل بھی نہیں تھے۔ لیکن اپنے نظریات پر سختی سے کار بند اس شخص کے بچپن کا ایک واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ مجید نظامی کا آبائی گھر سانگلہ ہل میں ہندوﺅں کے ایک محلہ میں تھا۔ ان دنوں ان کے گھر کھانے پکانے کے لئے بغیر ہڈی کے گوشت آیا کرتا تاکہ ہڈی باہر گلی کوچے میں پھینکنے کی نوبت نہ آئے۔ ہڈی والا گوشت گھر نہ لانے کی وجہ ہندوﺅں کے رسم و رواج کا احترام تھا یا ہندو محلے میں ایک اکیلے مسلمان گھرانے کی بے بسی بہر حال جو کچھ بھی تھا، قیام پاکستان سے پہلے بغیر ہڈی گوشت گھر لانے والے خاندان کے مجید نظامی عمر بھر پاکستان کے بے لگام حکمرانوں کے لئے شمشیر بے نیام بنے رہے۔