زندگی بچانے والی ادویات کے بحران کا خطرہ


تحریر: قاضی محمد شعیب ایڈووکیٹ
 معزز قارئین کرام: آپ کو یاد ہو گا کہ پاکستان  کے ایک مشہورملٹی نیشنل دواساز ادارے کے سربراہ نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کو لکھے خط میں بتایا کہ پیناڈول گولیاں سمیت دیگر انتہائی ضروری ادویات کے لیے خام مال کی درآمدی اخراجات اور ٹیکسوں میںحالیہ اضافے سے دوا ساز کمپنیوں نے ادویات بنانا چھوڑ دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک میں ان ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے میڈیا کوایک وضاحتی بیان جاری کرنے کے علاوہ آج تک کوئی مثبت اقدامات نہیں اٹھائے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے مبینہ تاخیر سے پاکستان میں زندگی بچانے والی ادویات کا شدید بحران پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق ہمسایہ ممالک بھارت، ایران، کوریا سمیت دیگر ممالک سے بعض ادویات سمگل کر کے مقامی مارکیٹ میں پہنچائی جارہی ہیں۔ تعلیم اور صحت پاکستان کے تمام شہریوںکا آئینی حق ہے ۔ جس کے تحفظ کے لیے حکومت کو فوری طورپر ٹھوس پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
عمران خان کے دور اقتدار میں پاکستان کے تمام شہریوں کی سٹیٹ لائف انشورنس کے تعاون سے ہیلتھ انشورنس فراہم کرتے ہوئے کو مختص پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج معالجہ کے لئے  صحت کارڈ کا اجراء کیا گیا ۔  جو ایک انقلابی قدم تھا۔ مگر خیبر پختون خواہ ، پنجاب سمیت ملک کے دیگر ہسپتالوں میں مریضوں کونظراندازکرنے اور ڈاکٹروں کی جانب سے روایتی ازیت ناک حربے استعمال کرنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں جس پر فوری نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے مذکورہ ہسپتالوں کا صحت سہولت کارڈ معطل بھی کیاہے۔ اس کے بعدکچھ بہتری کی امیدپید ا ہوئی ہے۔ لیکن دواساز اداروں کے مضبوط نیٹ ورک نے صحت عامہ کے تمام منصوبوں کی یرغمال بنارکھا ہے۔ 
 معزز قارئین کرام: صحت ہزار نعمت ہے ۔ اس با ت کا اندازہ مختلف بیماریوں میں مبتلا بیمار افراد اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔ صحت ایسی نعمت ہے جس کا طلبگار معاشرے کے غریب اور مراعات یافتہ دونوں ہی طبقے ہیں۔ لیکن مراعات یافتہ افراد کو پاکستان میں صحت عامہ کی بہتر سہولیات میسر ہیں  جبکہ غریب مزدور اور درمیانہ طبقے کے افراد ا ا کثر اوقات علاج معالجہ میں تاخیر کی وجہ بسترمرگ پر پڑے صحتیابی کے منتظر ہیں۔راقم کے ایک قریبی دوست کو دل کا دورہ پڑا  ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ سٹریپٹوکنیز انجکشن 9000 روپے  میں ملے گا جس کی  اصل  قیمت 700 سے 900 روپے ہے۔ جبکہ MRP  9000 روپے آپ ادا کریں گیں۔ اگر ٹائیفائیڈ  ہو گیا۔تو  ڈاکٹر  نے لکھا کل 14 مونو سیف لیں ، تھوک قیمت 25 روپے ہے، ہسپتال کا کیمسٹ 53  روپے دیتا ہے۔ آپ کیا کرتے ہیں۔ گردے کی خرابی ، ڈائلیسسز تین دن میں ایک  بار کیا جاتا ہے اور اس کا  انجکشن 1800 MRP روپے ہے۔ پورے پاکستان میںتلاش کر رہا ہوں لیکن کہیں  نہیں مل رہا کیوں، کمپنی  کا سامان ڈاکٹروں کو، انجکشن کی بنیادی قیمت 500 روپے ہے۔ لیکن اس کے ہسپتال میں ڈاکٹر کی MRP 1800روپے مقرر ہے۔ انفیکشن ہو گیا ہے ڈاکٹر کی طرف سے تجویز کردہ  اینٹی بائیوٹک 540 روپے ، اسی  دوسری کمپنی سے 150 روپے اور عام  45 روپے میں دستیا ب ہے ۔ لیکن کیمسٹ انکار کرتا ہے کہ ہم کوئی عام نہیں دیتے ، صرف ڈاکٹر کا نسخہ،  یعنی 540روپے ادا کریںگیں۔  مارکیٹ میں الٹراسائونڈ ٹیسٹ کی قیمت 100 روپے ہے۔ 750  روپے ٹرسٹ فارمیسی جس میں  ڈاکٹر کی کمیشن300روپے ہے۔ اس طرح  ایم آر آئی ٹیسٹ پر ڈاکٹر کا کمیشن 2000 روپے سے 3000 تک ہے۔ ادویات ساز کمپنیوں کی لابی اتنی مضبوط ہے کہ وہ براہ راست پورے ملک کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرز اور دوا ساز کمپنیاں حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں۔  ملک کے ناجائز منافع خور نیٹ ورک نے پاکستان کی بگڑتی ہوئی سیاسی و معاشی صورت حال کی آڑ میں آٹے، تیل، گیس، اشیاء خود و نوش کے شدید بحران کے بعد اب مارکیٹوں سے جان بچانے والی اودیات بھی غائب کر دیں ہیں۔ جس کے باعث بستر مرگ پر پڑے ہوئے بے بس مریضوں سے زندگی کی امید بھی چھین لی ہے۔ غیرجانبدار میڈیا اطلاعات کے مطابق ملک بھر کے تمام میڈیکل سٹوروں سے جان بچانے والی جن ادویات کی تاحال شدید قلت پیدا کر دی ہے۔ ان ضروری ادویات میں 
 Thyronorm, Syp Duphalac, Tab Prothiadin, Tab Prothiadin, Tab Iberet Folic, Tab Epival, Tab Tegrol, Tab Cardura, Tab Fasigyn,Duofilm lotion, Tab Artifin, Syp Tixylix, Tab Eziday Duo, Tab Telfast D, Tab Spiromide, Syp Maltofer, Humulin insulin,Inj Heprin, Inj Cardarone, Inj Epival, Inj Streptokinase(heart attack),  Inj Gravinate, Inj Augmentin, Tab Diovan, Syp Inventive
 بھی شامل ہیں۔  
  معزز قارئین کرام: پاکستان میں جان بچانے والی نہایت لازمی ادویات کی شد ید قلت کے دوران مریض ایران ، بھارت، کوریا، سمیت دیگر ممالک سے سمگل شدہ ، جعلی اور غیر رجسٹرڈ شدہ ادویات استعمال کر کے زندگی بچانے کی بجائے موت خریدنے پرمجبو ر ہو رہے ہیں۔ جس پر قانون نافذ کرنے والے حکومتی ادارے بھی ناجائزمنافع خور مافیا کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں۔ جن کو حکومت کے اعلی ایوانوں کی بھی سرپرستی حاصل ہے۔ جبکہ عوام کے قیمتی ووٹوں کی مرہون منت تمام سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے کرسی کی لالچ میں بر سر پیکار ہیں۔ پاکستان کے عوام سیاسی جماعتوں کے بے بنیاد نعرے گزشتہ 75 برسوں سے سن رہے ہیں۔ لیکن عوامی مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں۔