بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ذرائع آمدورفت کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

25 ستمبر 2012 (21:02)

گھوٹکی میں کچھ عرصہ قبل کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی گئی پنجاب سے سندھ کی جانب جانے والی قومی شاہراہ سیلاب سے ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوگئی جس کے باعث ٹریفک کی آمدروفت بند ہے اورلوگوں کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ قمبرشہداد کوٹ میں سیلابی پانی کو روکنے کیلئے آربی او ڈی کے مزید دو دروازے لگادیئے گئے اور مزید تین دروازے لگانے کا کام جاری ہے ۔ سیلابی پانی کے بہاؤکے باعث سندھ اوربلوچستان کے مزید علاقے زیرآب آگئے ہیں۔ گڑھی خیرو،اوستہ محمد، قبو سعید خان اور چکھی کے ستر دیہات میں پانی کی سطح مزید بلند ہورہی ہے ۔ پنجاب کے علاقے راجن پور میں سیلاب کا پانی اترگیا ہے تاہم ڈی جی خان اورملحقہ علاقوں میں اب بھی پانی جمع ہے ۔ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی ،نصیر آباد اور جعفرآباد میں اشیاء خوردونوش، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے ، لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں پھیلنے والے وبائی امراض متاثرین کے لیے وبال جان بن گئے ہیں۔