سانحہ بلدیہ: فائر بریگیڈ آگ لگنے کے ایک گھنٹہ بعد پہنچی‘ فیکٹری مالکان

25 ستمبر 2012

کراچی (وقائع نگار) سانحہ بلدیہ میں فیکٹری میں لگنے والی آگ کے حقائق جاننے کیلئے بنائے جانیوالے ٹریبونل کے سامنے فیکٹری مالکان شاہد اورارشد بھائیلا نے اپنے بیانات قلم بند کرادیئے ہیں۔ٹریبونل کے سامنے فیکٹری مالکان نے اپنے بیان میں کہا کہ سانحہ بلدیہ کا کیس آتش گیر مادے کا نہیں ہے آگ لگنے کے بعد فیکٹری کے دروازے بند نہیں کروائے، دروازے کھلے تھے فائربریگیڈ ایک گھنٹے بعد آگ بجھانے فیکٹری پہنچی تاہم اس سے قبل کئی بار اطلاع دی جبکہ آگ لگنے کے20 منٹ بعد پولیس بھی وہاں آگئی اور انہوں نے بھی فائربریگیڈ کو اطلاع دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فائربریگیڈ کو اطلاع دی اور شور مچایا تاکہ لوگوں کو نکالاجاسکے ہم نے فائربریگیڈ والوں کے پاو¿ں پکڑے کہ جہاں آگ لگی ہے اسے بجھائیں فائربریگیڈ نے جواب دیا ہم اپنا کام بہتر جانتے ہیں۔ فیکٹری مالکان کے مطابق فائربریگیڈ کے آگ بجھانے کے دوران ایسا وقت بھی آیا کہ فائربریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوگیا ، ایک گھنٹے تک فیکٹری میں آگ بجھانے کیلئے کوئی فائربریگیڈ موجود نہیں تھی میرا موبائل کا ریکارڈ گواہ ہے کہ میں نے فائربریگیڈ کو فون کئے اور آگ بجھانے کیلئے اپنے تمام ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں معلوم کہ اس دن تنخواہیں تقسیم ہورہی تھی ہمارے پاس ٹھیکیداری نظام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے فیکٹری میں آگ لگی ہے تب سے اب تک فیکٹری نہیں گیا، بعد کے حالات کا جواب نہیں دے سکتا۔فیکٹری مالکان کا کہنا تھا کہ وہ بھی جانناچاہتے ہیں کہ کس وجہ سے میرے کارکنان آگ کی نظر ہوئے اور ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں فیکٹری کی آگ سے میرا اور میرے کارکنان کا روزگار چلا گیا سڑک پر آگیا ہوں۔ ڈیفنس کونسل کو فیکٹری میں جانے کی اجازت دی جائے۔ فیکٹری مالکان کے وکیل عامر منسوب قریشی کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر تحقیقاتی اداروں کو جانے کی اجازت ہے صرف ہمیں نہیں دیا جارہا ایس آئی یو کے پاس 36 کیمروں کا ریکارڈ موجود ہے اسے بھی سامنے لایا جائے۔