واللہ خیرالماکرین!

25 ستمبر 2012

قوم، ہر عام انتخاب کے انعقاد کے نتائج کچھ یوں مرتب کرتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ہاتھ پانچ، یا، دس نشستوں کے سوا کچھ نہیں آ پاتا! اور اُنہیں پورا جنگل کاٹنے کے لئے بمشکل تمام یہی پانچ، یا، دس چاقو فراہم کر دئیے جاتے ہیں! تاکہ وہ گھر بیٹھے جنگل نہ کاٹ پانے کا نوحہ پڑھتے رہیں! اور اوزاروں کی کمی کا رونا رو رو کے ہلکان ہوتے رہیں! حالانکہ جنابِ فضل الرحمن کے پاس اوزاروں کی کوئی کمی نہیں! اُن کا ایک ایک مدرسہ طرح طرح کے اوزاروں سے کمربستہ ہے! اگر یہ مدرسہ بستہ مستند طلباءصرف کمر کھول کر لشکریانِ پابہ گل کے دوا لے ہو جائیں، تو، یقین جانیں کہ جنگل راہِ فرار ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہروں کی سڑکوں کے کنارے آ بسیں!
حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی اصل قوت پارلیمان میں نہیں! بلکہ پارلیمان کے باہر کارفرما ہے! کیونکہ اب، تو، ان کے تربیت یافتہ طلباءمیں سے بیشتر لڑکے 18 سال کی عمر تک پہنچ چکے ہیں! اور مہمانوں کی خدمت کرتے کرتے اس نتیجے پر بھی پہنچ چکے ہیں کہ اگر اُنہیں ترقی کرنا ہے، تو، وہ اپنے اساتذہ¿ کرام کے نقشِ قدم پر چل کر ہی کچھ بن سکتے ہیں!
جنابِ مولانا فضل الرحمن نے اتوار کے دن چترال کی پولو گرا¶نڈ میں پارٹی کارکنوں اور ہمدرد کارکنوں پر مشتمل اجتماعِ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ صوبائی حکومت نے خیبر پی کے کو خون میں نہلا کر اسے ایک ’قتل گاہ‘ بنا کے رکھ دیا ہے! اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی خریداری کیلئے صوبائی خزانے کے منہ کھول دئیے ہیں!
ابھی فضا میں جنابِ فضل الرحمن کے ڈرون حملوں کی گونج باقی تھی کہ سیالکوٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جنابِ عمران خان نے ’وزیرستان امن مارچ‘ کا تذکرہ چھیڑ دیا! اور فرمایا کہ دُنیا دیکھ لے گی کہ وزیرستان کس طرح تباہ حال کر دیاگیا ہے؟ ڈرون حملے اپنے اہداف کی جگہ عام لوگوں کے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں! اور اس سارے غیرمنطقی عمل کے نتائج بھی اُلٹ مرتب ہو رہے ہیں! لوگوں کے دِلوں میں امریکہ کے لئے نفرت پیدا ہو رہی ہے! اور وہ لوگ ہر ڈرون حملہ فرنگی کا بھیجا ہوا ’نیا تحفہ‘ سمجھ کر قبول کرتے چلے جا رہے ہیں!
کتنی عجیب بات ہے کہ افغان عوام آج بھی امریکہ، برطانیہ اور ان کی اتحادی نیٹو فورسز کے جوانوں کے لئے صرف ’فرنگی‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں! لیکن امریکی یہ حقیقت ابھی تک نہیں جان پائے کہ یہ لوگ اس ایک لفظ کے ذریعے اُن کے اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف اپنی تمام تر 3 سو سالہ نفرت صرف اِسی ایک لفظ میں اُگل دیتے ہیں!
یہ بات مولانا فضل الرحمن بہت اچھی طرح جانتے ہیں! مگر، وہ اس بات کا تذکرہ اپنے امریکی دوستوں کے ساتھ کبھی نہیں کرتے! کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ اگر امریکہ پر یہ بات کھل گئی کہ افغان عوام کے دِلوں میں سفیدفام امریکیوں کے بارے میں اس نفرت کی تاریخ 3 سو سال پر پھیلی ہوئی ہے! جبکہ امریکہ کی اپنی جنگِ آزادی کی تاریخ صرف دو سو سال پر مشتمل ہے! اور وہ یہ حقیقت جان کر کہ اس جنگ نے افغانوں کے دِلوں میں امریکی قوم کے جنم دن سے بھی کہیں پہلے کی نفرت اُن کے کھاتے میں لا ڈالی ہے! اور جنابِ باراک اوباما اِن دِنوں جنابِ ٹونی بلیئر کا آبائی بچہ گود میں اُٹھائے پھر رہے ہیں!
جنابِ عمران خان وزیرستان جا کر وزیری قبائل پر کون سا ایسا راز منکشف کرنے والے ہیں؟ کہ وہ بے چارے سکتے میں آ جائیں! اور وزیرستان میں وہ کون سے ایسے نئے منظر ہیں؟ جن سے امریکی ذرائع ابلاغ ابھی تک واقف نہیں ہیں! ہمارے ذرائع ابلاغ پر، تو، جو کچھ بھی نظر آتا ہے! اور کہا جاتا ہے! وہ سب اِنہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا عطاکردہ تحفہ ہوا کرتا ہے!
جنابِ عمران خان بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں! اُن کی سمت بتا رہی ہے کہ وہ اپنا مستقبل پاکستان کے قبائلی علاقوں میں محفوظ محسوس کرتے ہیں! اور شاید وہ خونی سونامی جس کا ذکرتے وہ کبھی نہیں تھکتے! عام انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی اِنہی علاقوں سے لشکروں کے ساتھ نکلیں گے! اور پورا پاکستان خون میں نہلا دیں گے!
یہ بات، تو، اللہ تبارک وتعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سا منصوبہ کب ناکام ہو جائے گا! کیونکہ وہ منصوبہ گروں کا منصوبہ گر ہے! اور اُس کا اپنا منصوبہ ہر منصوبے سے برتر اور بہتر ہوتا ہے!
واللہ خیرالماکرین!