فاٹا میں 5 منصوبوں کی فنڈنگ اور نگرانی براہ راست غیر ملکی امدادی ادارے کر رہے ہیں: قومی اسمبلی‘ قائمہ کمیٹی میں انکشاف

25 ستمبر 2012

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی امدادی اداروں کی فنڈگ کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیرات کے نام پر ملکی سلامتی داﺅ پر نہیں لگائی جاسکتی۔ ڈونرز نے ہمارا بیڑا غرق کردیا ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کرم ایجنسی میں دہشتگردی کے واقعات سے 20ہزار شہری متاثر ہوئے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پولیٹیکل ایجنٹ لگانے کیلئے گورنر ہاﺅس پشاور میں 10 کروڑ روپے وصول کئے جاتے ہیں ۔ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں اقتصادی امور ڈویژن سے فاٹا میں خرچ کی جانے والی رقوم کے اعدادوشمار مانگ لئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں چیئرمین کمیٹی ساجد حسین طوری کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی کے علاوہ وزیر سرحدی امور انجینئر شوکت اللہ ، سیکرٹری سیفران ، سیکرٹری قانون و انصاف فاٹا ، سیکرٹری فاٹا سیکرٹریٹ اور پولیٹیکل ایجنٹس نے شرکت کی ۔پولیٹیکل ایجنٹ کرم ایجنسی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے دوران کرم ایجنسی میں 20 ہزار خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ 4500 گھر تباہ اور 1160 شہری شہید ہوئے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایک ارب روپے جاری کئے گئے جن میں سے 40 کروڑ روپے متاثرین میں تقسیم کئے جا چکے ہیں ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فاٹا میں ایسے مختلف 5منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی فنڈنگ اور نگرانی براہ راست غیر ملکی امدادی ادارے کر رہے ہیں جس پر کمیٹی اراکین نے ان منصوبوں پر ہونے والی فنڈنگ کی تفصیلات معلوم کیں جس کا حکام تسلیم بخش جواب نہ دے سکے جس پر کمیٹی اراکین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں غیر ملکی امدادی اداروں کے فوکل پرسن کو طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خیرات کے نام پر ملکی سلامتی داﺅ پر نہیں لگائی جاسکتی ۔ ڈونرز نے ہمارا بیڑا غرق کردیا ہے ۔ کمیٹی نے سیکرٹری سیفران ، سیکرٹری فاٹا اور سیکرٹری اکنامک افیئر سے اگلے اجلاس میں فاٹا کیلئے کیری لوگر بل سمیت آنے والی غیر ملکی امداد اور حکومت پاکستان کی جانب سے خرچ کئے جانے والے مکمل فنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں۔ کمیٹی نے کمیونٹی سکول سسٹم کے اساتذہ کے معاملات کو اگلے اجلاس تک موخر کردیا ہے۔