سپریم کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ائرپورٹس پر سہولتوں کی تفصیلات طلب کرلیں

25 ستمبر 2012
سپریم کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ائرپورٹس پر سہولتوں کی تفصیلات طلب کرلیں

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ این این آئی) سپریم کورٹ نے اوورسیز پاکستانیز کو وطن واپسی پر ملک کے ہوائی اڈوں پر مطلوبہ سہولیات دلانے کیلئے سول ایوی ایشن، ایف آئی اے اور اوورسیز پاکستانیز فاﺅنڈیشن سے مشترک اور مربوط حکمت عملی طلب کرلی ہے ۔ عدالت نے واپس آنے والے پاکستانیوں کو ائرپورٹس پر بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے ون ونڈ آپریشن کا انتظام کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ۔ پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اوورسیز پاکستانیوں کو ایئرپورٹس پر سہولیات نہ ملنے کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی ۔ عدالتی بنچ کے رکن جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس میں کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے حکومتی اداروں میں انتہا کی بے حسی ہے، یہ بیرون ملک پاکستانی تپتی دھوپ میں کام کرکے سالانہ 13ارب ڈالر بھجواتے ہیں لیکن ان کے ساتھ یہاں ایئرپورٹس پر جو سلوک ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے، پھر عدالت نے او پی ایف، سول ایوی ایشن، ایف آئی اے کو مربوط اقدامات کرنے کی ہدایت کردی، چیف جسٹس نے کہاکہ تمام اداروں کے سربراہ مشترکہ غور کرکے یکم اکتوبر تک عدالت کو رپورٹ دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وطن آمد پر سمندر پار پاکستانی لوٹ کھسوٹ کا شکارہوتے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ مہذب قومیں ایئرپورٹ پر اپنے باشندوں کو خصوصی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ ہمارے ایئرپورٹ پر بوڑھے اور بچوں والی خواتین بھی لائنوں میں کھڑی ہوتی ہیں اور صورتحال مختلف ہے۔ عدالت نے کہاکہ سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بھیجنے والے تارکین وطن کو سہولیات نہ ملنا افسوسناک ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ یہ انتہائی بے حسی ہے کہ بھاری زرمبادلہ کمانے والوں کو ہوائی اڈوں پر مناسب سہولیات میسر نہیں۔