2050ءتک سپر طاقتوں کا نام و نشان مٹ جائے گا‘ مغربی ممالک ہمارے جوہری پروگرام پر ”ویٹو“ کا غلط استعمال کر رہے ہیں: احمدی نژاد‘ گستاخانہ فلم کی مذمت

25 ستمبر 2012

نیو یارک (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) ایران کے صدر محمود احمد نژاد نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی کوئی تاریخ نہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ایرانی کمیونٹی سے خطاب میں سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل ایران کیلئے مسائل پیدا کر رہا ہے ہمارے جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے ایران شامی حکومت کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔ مغربی ممالک پر یلغار کرتے ہوئے کہا وہ ہمارے جوہری پروگرام پر ویٹو کا غلط استعمال کر رہے ہیں سلامتی کونسل کے بعض ارکان کو حاصل ویٹو پاور قانونی جواز سے عاری ہے اس لئے سلامتی کونسل دنیا میں امن نہیں لا سکیں۔ ہمارے جوہری پروگرام کے حوالے سے ویٹو پاور کا غلط استعمال ہو رہا ہے مغربی ممالک فلمسازوں اور توہین آمیز خاکے بنانے والوں کو اسلام کی توہین کی اجازت دے رہے ہیں اور مسلم دنیا میں احتجاج کے بھی یہی ذمہ دار اور آزادی اظہار کا غلط استعمال کر رہے ہیں گستاخانہ فلم اور جوہری پروگرام کیخلاف پروپیگنڈہ کی مغربی ممالک کی شدید مذمت کی انہوں نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس دوسری اقوام کے بنیادی حقوق پامال کر رہے ہیں ایرانی قوم کے مقابلے میں کوئی دشمن کامیاب نہیں ہو سکا۔ 2050ءتک سپر طاقتوں کا نام و نشان دنیا سے مٹ جائیگا۔ علاوہ ازیں ایران کے صدر محمود احمد نژاد نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے میں اصلاحات لانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو ایک جمہوری اور منصفانہ ادارہ بنانے کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں انہوں نے پیر کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی 67 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کی ۔ ایرانی صدر نے بحران کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ شامی تنازعہ کو جتنا جلد ممکن ہو سکے حل ہونا چاہئے۔ بان کی مون نے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کو ان کے ملک کے جارحانہ رویے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے سنگین نتائج سامنے آئینگے۔ انہوں نے شام میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانیت کیلئے تباہ کن قرار دیا۔