گستاخانہ فلم کی اشاعت کے خلاف دینی سیاسی سماجی تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری

25 ستمبر 2012
گستاخانہ فلم کی اشاعت کے خلاف دینی سیاسی سماجی تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری

ملتان (رپورٹنگ ٹیم+علاقائی نمائندوں سے ) گستاخانہ فلم اور فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف دینی سیاسی سماجی تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ جماعت الدعوة تحریک حرمت رسولﷺ کے زیراہتمام کانفرنسز سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر میاں سہیل‘ عبدالرحمن‘ محمد ارشد نے کہاکہ مسلم حکمران اسلام اور نبی اکرم ﷺ کی حرمت کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور امریکہ کی خوشنودی کےلئے صلیبیوں کے مفادات اور نظاموں کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ جماعت اہلسنت ملتان کے زیراہتمام گزشتہ ر وز شاہی جامع مسجد باقر آباد سے مولانا محمد صادق سیرانی‘ غلام شبیر سواگی‘ مولانا سعید احمد کریمی‘ مولانا خدا بخش سعیدی‘ قاری محمد اسماعیل سروری‘ مفتی محمد حسن‘ خالدمحمود قریشی کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ بزم صراط القرآن کے زیراہتمام لوہا مارکیٹ سے ریلی نکالی گئی جو چوک شہیداں پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کی قیادت قاری مختار احمد صادقی‘ حکم اﷲ شاہ‘ قاری غلام شبیر صادق‘ حاجی اقبال اور محمد حسین نے کی دریں اثناء مسلم لیگ (ن) کے مختلف ونگز نے بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ پروفیشنل ونگ کے ارکان نے صدر را¶ محمد اکبر اور ڈاکٹر حبیب پاشا کی زیرقیادت گلگشت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تحصیل نائب صدر حمزہ شاہد لودھی کی زیرقیادت رضا آباد چوک سورج میانی روڈ پر مظاہرہ کیا گیا اور امریکی صدر کی تصویر کو نذرآتش کیاگیا۔ شہر کے نائب صدر رانا نون اور اچھو ڈوگرکے مشترکہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ایم این اے رانا محمود الحسن اور دیگر نے کہاکہ فلم بنانے والے واجب القتل ہے جبکہ عالم دین صاحبزادہ سعید احمد فاروقی نے کہاکہ پرامن رہ کر تخریب کاروں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے۔ ایم ڈی اے کی ایمپلائز یونین (سی بی اے) کے زیراہتمام بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی قبل ازیں ایم ڈی اے آفس میں منعقدہ جلسہ میں توہین رسالت کے مرتکب افراد کےخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیاگیا۔ مظاہرے و جلسہ میں ملک محمد رمصان‘ رائے محمد حنیف‘ محمد قاسم‘ ناظم ڈوگر‘ لیاقت علی‘ ساجد اعوان ‘ مصور نقوی اور دیگر نے شرکت کی ۔ سرائیکستان یوتھ پارلیمنٹ کے قائد ایوان رانا محمد فراز نون نے گستاخ رسول کو پھانسی دینے تک امریکی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نوجوان پاسبان جھوک وینس نے گستاخ رسول کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جامعہ اسلامیہ خیر المعاد ملتان کے ناظم تعلیم مولانامحمد رمضان ضیاءنے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کا وفاقی وزیر کی جانب سے ملعون کے قتل پر انعام مقرر کرنے کے خلاف بیان دینا افسوسناک ہے۔ نشتر میڈیکل کالج کے طلباءو طالبات نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کی قیادت ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما¶ں ڈاکٹر مظہر چودھری اور ڈاکٹر علی وقاص نے کی ۔ ہر ظلم برداشت کر سکتے ہیں مگر پیغمبر مصطفی ﷺ پر اٹھنے والی گندی نگاہ برداشت نہیں کر سکتے۔ ان خیالات کا اظہار افتخار احمد‘ اکرم ہریری‘ اعجاز احمد‘ شفیق الرحمن اور عاطف ذیشان نے ورکرز ویلفیئر سکول بوائز ملتان میں عشق رسولﷺ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے کیا جو گزشتہ روز فاطمہ غفار وائس پرنسپل ورکرز ویلفیئر سکول بوائز ملتان کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ میاں چنوں میں پاکستان تحریک انصاف کے زیراہتمام احتجاجی ریلی مہر محمد افضل دُلو‘ حاجی نسیم احمد قریشی اورمہر شوکت سنپال کی قیادت میں نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاءموٹرسائیکلوں اور ٹرالیوں پر سوار تھے۔ مظاہرین نے امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ ٹی چوک میں احتجاجی ریلی کے شرکاءسے رہنما¶ں نے خطاب کیا۔ مسیحی برادری کی طرف سے بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مردو خواتین نے حصہ لیا۔ ریلی کا آغاز چرچ آف پاکستان فیصل ٹا¶ن سے پاسٹر اصغر ڈیوڈ‘ چودھری قمر شہزاد گل‘ مائیکل حنیف اور میاں ساجد حمید کی قیادت میں ہوا۔ ریلی سرکل روڈ‘ جی ٹی روڈ سے ہوتی ہوئی ٹی چوک میں احتجاجی جلسہ کی صورت اختیار کر گئی۔ اس موقع پر پاسٹر اصغر ڈیوڈ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام مسلمانوں کی طرح مسیحی برادری کےلئے بھی قابل احترام ہیں اور وہ ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔ ایسی ناپاک جسارت کرنے والوں نے مسیحی تعلیم کو مسخ کیا ہے۔ اقوام متحدہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے اور ایسے ملعون کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے۔ محسن وال سے نامہ نگارکے مطابق تحصیل کی سب سے بڑی اقلیتی آبادی نواحی گا¶ں امرت نگر 133/16-L میں مسیحی اور مسلم کمیونٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں امرت نگر سمیت گردونواح سے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ۔ اس موقع پر سینکڑوں مسیحی اور مسلمان مظاہرین نے اپنے سیاسی سماجی اور مذہبی قائدین کی رہنمائی میں بمقام مسجد چوک امرت نگر جمع ہوئے اور وہاں سے ایک جلوس کی شکل میں دیہہ ہذا کی مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے جی ٹی روڈ تک گئے اور وہاں پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ شرکاءجلوس نے اس موقع پر ملعون امریکی فلم ساز‘ امریکی صدر اور امریکی انتظامیہ کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی اور گستاخانہ فعل کی بھرپور مذمت کی ۔ بعد ازاں یہ جلوس فٹ بال سٹیڈیم امرت نگر پہنچا جہاں پر ایک بڑے احتجاجی جلسہ کا اہتمام کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے مسیحی رہنما چودھری سیمسن گلزار دتہ سابق ممبر ضلع کونسل خانیوال اقلیتی رہنما چودھری سلامت اﷲ رکھا‘ الفلاح مسلم یونین کے سرپرست اعلیٰ مولانا شوکت علی ورک‘ میجر وسیم جیمز پادری شہباز ڈیوڈ‘ قاری محمد اعظم‘ مہر عبیدالرحمن ایڈووکیٹ‘ بشارت شہزاد گل اور اے ڈی سامل منیر نے بھی خطاب کیا۔ تحریک منہاج القرآن کے ضلعی نائب صدر ڈاکٹر رفیق احمد بھٹہ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں ۔ معروف صنعتکار اور مینجنگ ڈائریکٹر رحمت گروپ آف انڈسٹریز کبیروالا رانا خاور تصدق نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہاکہ اس گھنا¶نی سازش کے خلاف پوری دنیا کے مسلمان سراپا اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس جرم میں ملوث ذمہ داران کو فی الفور پھانسی دی جائے۔روشن راہیں آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بسم اﷲ ارم نے کہا آزادی اظہاررائے کی آڑ میں ایسے شرمناک اور توہین آمیز واقعات کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ مسلم لیگ (ن) ضلع خانیوال کے صدر را¶ سعادت علی خاں‘ ضلعی سیکرٹری اطلاعات جمیل ہنجرا ایڈووکیٹ نے کہاکہ نبی کریم کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے۔ بورے والا میڈیکل ریپریزین ٹیٹو ایسوسی ایشن نے پریس کب کے باہر احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی میں شہزاد انور‘ حافظ ناصر‘ ملک افضل‘ محمد شاہد رفیق‘ عامر شہزاد اور دیگر نے شرکت کی ۔ کہروڑ پکا سے مسلم لیگ (ن) کے ضلعی رہنما حاجی محمد الطاف حسین رڈ‘ انجمن فلاح ملت کے ضلعی صدر ڈاکٹر محمد جمیل بھٹی اور سابق صدر بار میاں سہیل اختر نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہود و ہنود مختلف اوقات میں مسلمانوں کی غیرت کو للکارتے رہے ہیں مگر پوری امت مسلمہ ناموس رسالت کے تحفظ کےلئے پوری طرح متحد ہے اور شان رسالت کےلئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ احتجاجی ریلی میں مسلم لیگی کارکنوں‘ سماجی ورکروں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ امریکی پرچم نذر آتش کیا۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...