”صدر کا استثنیٰ ختم کرنے کا ذکر نہ ہوا تو سوئس عدالت خط ردی میں پھینک دے گی“

25 ستمبر 2012
”صدر کا استثنیٰ ختم کرنے کا ذکر نہ ہوا تو سوئس عدالت خط ردی میں پھینک دے گی“

جنیوا (نوائے وقت رپورٹ) سوئٹزر لینڈ میں پاکستان کے سابق وکیل نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اگر ملک قیوم کا سوئس حکومت کو لکھا گیا خط واپس لینے اور صدر زرداری کے استثنیٰ کے حوالے سے خط لکھے گی تو سوئس کورٹ ایسا خط ردی کی ٹوکری میں پھیک دے گی۔ حکومت چاہے تو سوئس حکومت یہ معلومات فراہم کر سکتی ہے کہ 2008ءکے بعد سوئس اکا¶نٹ کے 60 ملین ڈالر کہاں گئے؟ اس کیلئے پاکستان کو سوئس حکومت کو باقاعدہ قانونی درخواست دینا ہو گی۔ حکومت پاکستان کو ”انڈر میوچل اسسٹنٹ قانون“ کے حوالے سے خط لکھنا پڑے گا۔ خط میں صدر کا استثنیٰ ختم کرنے کا ذکر نہ ہوا تو سوئس کورٹ اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی۔ کیس کے باقی افراد کے بارے میں حکومت پاکستان کی دلچسپی ہو تو وہ الگ درخواست دے کر کیس کھلوا سکتی ہے۔