ہم نے اپنے گھر کو آگ لگا کر فلم بنانے والوں کا مقصد پور ا کر دیا : وزیراعظم

25 ستمبر 2012

 لاہور/ اسلام آباد ( خصوصی رپورٹر +خبرنگار، ایجنسیاں) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے پاکستانی حکومت عالمی سطح پر گستاخی رسول ﷺ پر قانون سازی کےلئے اپنی کوششیں کر رہی ہے‘ صدر زرداری آج اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں اس مسئلے کو اُجاگر کریں گے‘ حکومتی سطح پر پہلی دفعہ گستاخی رسول پر یوم عشق رسول منایا جبکہ چند شرپسند عناصر نے توڑ پھوڑ اور آگ لگا کر اس دن کو سبوتاژ کر نے کی کوشش کی جس سے عالمی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے کی جانےوالی کوششوں کو نقصان پہنچا‘ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہمارے بھائی ہیں اور انہوںنے بھی اس اقدام کی مذمت کی ہے‘ مردان میں ملنے والا چرچ دوبارہ تعمیر کریں گے۔ محنت کش طبقہ پیپلزپارٹی کی اصل طاقت ہے ان کے ساتھ پارٹی کا تعلق قیامت تک قائم رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہا¶س میں بند روڈ پر قائم جوتا ساز فیکٹری میں آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونےوالوں کے ورثاءاور زخمیوں میں امدادی چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر جاں بحق ہونےوالوں کے ورثاءکو وفاقی حکومت کی جانب سے چار‘ چار لاکھ جبکہ زخمیوں کو ایک‘ ایک لاکھ فی کس امدادی رقوم کے چیک دئیے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا وفاقی وزارت محنت کو ہدایت کی ہے جاں بحق ہونیوالوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کے انتظامات کئے جائیں جبکہ صدر زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی دو‘ دو لاکھ روپے فی کس فراہم کرنے کے لئے جمعہ کے روز لاہور آئیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یوم عشق رسول پر کچھ لوگوں نے اپنے ہی گھر کو آگ لگا دی، گستاخانہ فلم پر تمام ملکوں میں احتجاج ہوا، ہمارے اقلیتی بھائیوں نے بھی گستاخانہ فلم پر مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا لیکن ہم نے اپنے ہی گھر کو آگ لگا کر گستاخانہ فلم بنانے والے کا مقصد پورا کر دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے لئے نبی کریم حضرت محمد سے بڑھ کرکوئی ہستی نہیں‘ امریکہ میں بننے والی گستاخانہ فلم کیخلاف پوری امہ سراپا احتجاج ہے۔ حکومت پاکستان اس سلسلہ میں او آئی سی اورمسلمان ممالک کے سفیروں سے بھی رابطے میں ہے‘ انبیاءکرامؑ کی شان میں گستاخی کو قابل سزا جرم قرا دیا جانا چاہئے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر قانون سازی ہونی چاہئے۔ جوتا ساز فیکٹری میں آتشزدگی کے متاثرین کو مخاطب کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا آتشزدگی سے قیمتی جانوں کا ضیاع بہت بڑا سانحہ ہے اور وہ صدر زرداری‘ وفاقی حکومت اور پی پی پی کی طرف سے انہیں مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے بچوں کو صوبائی اداروں میں مفت تعلیم دی جائے گی۔ خبرنگار کے مطابق وزیراعظم نے وفاقی وزیر و چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام فرزانہ راجہ کو ہدایت کی ہے کہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ عوام کو ترجیحی بنیادوں پر مدد بہم پہنچائی جائے۔ ایوان وزیراعظم میں دونوں رہنماﺅں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعظم نے بی آئی ایس پی کی کارکردگی اور اس کے تمام ا ُمور میں روا رکھی جانے والی شفافیت کو سراہا۔وزیراعظم نے کہا بی آئی ایس پی کی بین الاقوامی حمایت اور تعاون اس کی کارکردگی کا مظہر ہے اور یہ پروگرام پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے حوالہ سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق وزیراعظم نے پمز ہسپتال کے قلب سرجری سنٹر کی تعمیر میں تاخیر کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 10 روز میں رپورٹ مانگ لی۔ دریں اثناءوزیراعظم نے چیئرمین واپڈا کو پانی و بجلی کے منصوبوں کی جلدازجلد تکمیل کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایات دو الگ الگ اجلاس میں دیں۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا جس میں وزارت کیڈ کے تحت جاری منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے واپڈا کو ہدایت کی پانی و پن بجلی کے منصوبوں کو کم سے کم وقت میں مکمل کیا جائے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایت چیمبر میں واپڈا سید راغب عباس شاہ کو دی جنہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں پن بجلی کے منصوبوں کی پیشرفت کے بارے میں بتایا۔