گستاخانہ فلم پر عوام میں شدید غم و غصہ ہے ‘ امریکہ فوری ایکشن لے : زرداری ‘ ہلیری سے ملاقات‘ آج جنرل اسمبلی میں مذمتی قرارداد پیش کریں گے

25 ستمبر 2012

 نیویارک (اے ایف پی + اے پی اے + نوائے وقت نیوز) صدر آصف علی زرداری سے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے نیو یارک میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائن پر اس ملاقات میں صدر زرداری نے کہا کہ گستاخانہ فلم کی وجہ سے پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ امریکہ اس کا ادراک کرے اور فوری ایکشن لے ، ایک یا دو فاتر العقل افراد کی وجہ سے عالمی امن کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ ان پاگل افراد کی وجہ سے ہم یہ سوچ کر نہیں بیٹھ سکتے کہ یہ آزادی¿ اظہار ہے صدر مملکت نے واضح کیا کہ ایسے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا اور اظہار رائے کی آزادی میں فرق ہے اس فلم کی وجہ سے عالم اسلام کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، آئندہ ایسی مذموم حرکات کا سلسلہ بند ہونا چاہئے کیونکہ یہ عالمی امن کے لئے خطرہ ہے ۔ صدر نے ہلیری کلنٹن پر واضح کیا کہ ہم امریکہ سے امداد کی بجائے تجارت چاہتے ہیں لہٰذا پاکستانی مصنوعات کی امریکی منڈیوں تک رسائی کے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ صدر نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ دفاع، سکیورٹی اور تجارت سمیت تمام شعبوں میں اپنے تعاون کو بڑھانا چاہتے ہیں لیکن یہ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ ملاقات میں پاکستان امریکہ تعلقات کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی ہوا۔ اے ایف پی کے مطابق ہلیری کلنٹن نے صدر آصف علی زرداری کو میرے دوست کہہ کر مخاطب کیا اور انہیں نئے امریکی سفیر رچرڈ اولسن سے ملوایا۔ انہوں نے کہا کہ اولسن حلف اٹھا چکے ہیں اس لئے انہیں مذاکرات میں شریک کیا ہے ۔ ملاقات میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، امریکہ میں پاکستانی سفیر شیری رحمن، اے این پی کے صدر اسفند یار ولی اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار بھی موجود تھے۔ ہلیری کلنٹن کی معاونت صدر اوباما کے مشیر مارک گراسمین نے کی۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ہم آپ کی حکومت کے زبردست رسپانس کو بہت سراہتے ہیں۔ زرداری نے کہا کہ یہ ہم سب کے لئے بہت مشکل وقت تھا۔ صدر آصف زرداری آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 67 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران گستاخانہ فلم پر قرارداد مذمت پیش کریں گے ۔ صدر آصف علی زرداری اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک پہنچ چکے ہیں۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی، بےنظیر بھٹو شہید انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما جہانگیر بدر صدر آصف زرداری کے ساتھ ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب میں توہین رسالت کے حوالے سے بھی بات کریں گے اور اسے بین الاقوامی سطح پر جرم قرار دینے کا مطالبہ کریں گے۔ صدر عالمی رہنما¶ں کو گستاخانہ فلم کے بارے میں پاکستانیوں کے جذبات سے آگاہ کریں گے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے علاوہ پاکستان افغانستان اور برطانیہ کے دوران سربراہوں کی سطح پر سہ فریقی مذاکرات ہوں گے ۔ بلاول بھٹو زرداری امریکہ میں پیپلز پارٹی کے انٹرنیشنل کنونشن سے خطاب کریں گے۔ صدر زرداری برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، چینی وزیر خارجہ، ہانگ جی چی اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ صدر اقوام متحدہ اور بل گیٹس فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام پولیو کے خاتمے کے بارے میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی تقریب سے بھی خطاب کریں گے۔ اس سیشن کی صدارت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کریں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کے مطابق صدر گستاخانہ فلم کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھائیں گے ۔ صدر دنیا پر واضح کرینگے کہ منشیات کی سمگلنگ دہشت گردی کے فروغ کا باعث ہے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نئے مستقل نمائندے مسعود خان کا کہنا ہے کہ صدر زرداری اپنے دورہ امریکہ میں اہم مسائل پر روشنی ڈالیں گے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ میں موجود مسعود خان کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کی اپنے چینی ہم منصب سے بھی ملاقات ہو گی۔ دیگر ملاقاتوں میں وہ خطے میں سکیورٹی مسائل اور دیگر اہم معاملات زیر بحث لائیں گے ۔ وہ اقوام متحدہ میں اجلاس کے دوران تمام مذاہب کے بارے میں عالمی قانون مرتب دینے کی اہمیت پر بھی زور دیں گے ۔ نیویارک سے نمائندہ خصوصی کے مطابق مسلم ممالک گستاخانہ فلم کا جواب تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ مسعود خان نے پاکستانی صحافیوں کو بتایا کہ ایک قرارداد زیر غور ہے جس میں عالمی امن و سلامتی کو عدم استحکام کا شکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔دریں اثناءہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ دنیا کو انتہا پسندی کے خلاف ایک ہونا پڑے گا، ہمیں انتہا پسندی کے خلاف مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں جمہوریت کی بحالی کے عمل میں تعاون کرنا ہو گا۔