گیلانی اور صدارتی میزبانی !

25 ستمبر 2012

 شاعرنے کہا تھا---
”کون کہتا ہے‘ کہ ہم تُم میں‘ لڑائی ہوئی
یہ ہوائی‘ کسی دُشمن نے‘ اُڑائی ہو گی“
جب تک ‘صدارتی ترجمان‘ فرحت اللہ بابر اور وزیرِ قانون پنجاب رانا ثنااُللہ تصدیق نہ کردیں‘ میں اِس خبر کو‘ ہوائی ہی کہوں گا کہ ” ایوانِ صدر کے ”میزبانِ اوّل“صدر زرداری اور ” مہمانِ اوّل“ جناب یوسف رضا گیلانی کے تعلقات میں وہ گرمجوشی نہیں رہی‘ جو -19 جون کو تھی ۔جب سپریم کورٹ کی طرف سے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو ” صادق اور امین“ نہ ہونے کی وجہ سے ‘ وزراتِ عظمیٰ سے محروم کر کے آئندہ پانچ سال کے لئے انتخاب لڑنے کے لئے نااہل قرار دے دِیا گیا تھا۔
خبر کے مطابق ” گیلانی صاحب کو‘ ایوانِ صدر میں‘ اُن کی رہائش گاہ تک ہی محدود کر دِیا گیا ہے۔ اُن کے ملاقاتیوں کو اُن سے باز رکھا جا رہا ہے۔ ملاقاتیوں کو بعض اوقات‘ ایوانِ صدر کے اہلکاروں اور پروٹو کول سٹاف کے رویےّ میں تبدیلی اِشارہ کرتی ہے کہ معزز ” مہمان“ اور ” میزبان“ میں اب پہلے سے تعلقات نہیں رہے اور گیلانی صاحب کی ” آﺅ بھگت“ اب بہت کم کی جاتی ہے“۔
” آﺅ بھگت کرنا“ کا مفہموم ہے۔ خاطر تواضع سے پیش آنا۔ ہندی زبان میں ” بھگت“ ---مقّدس اور پرہیز گار شخص کو کہتے ہیں۔ جب کوئی بھگت‘ کسی ہندو کے گھرآکر ‘دستک دیتا ہے تو گھر کا مالک اُسے کہتا ہے” آﺅ بھگت جی! میرے گھر کو پوِتّر (پاک) کر دو!۔ ہمارے یہاں‘ پِیروں اور گدّی نشِینوں کی بھی بہت عزِّت کی جاتی ہے اور عام مُسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی مقّدس اور پرہیز گار شخص اُس کے گھر آئے اور وہ اُس کی کی خِدمت کر کے دُعائیں لے۔
گیلانی صاحب نے کئی مرتبہ فرمایا تھا کہ ” اگر میں وزیرِ اعظم نہ رہا تو گدّی نشِےن تو‘ پِھر بھی رہوں گا۔ اِس لئے کہ وزارتِ عظمیٰ تو آنی جانی ہے۔ ظاہر ہے کہ گدّی نشِینی تو موروثی ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب گیلانی صاحب وزیرِ اعظم ہاﺅس سے‘ بے گھر ہوئے تو صدر زرداری نے انہیں ایوانِ صدارت میں مہمان بنا لیا۔ آﺅ بھگت کرنے کے لئے‘ اِس سے پہلے‘ اِس طرح کی کوئی مِثال نہیں مِلتی۔ جب بھی کسی فوجی یا سویِلین صدر نے کسی وزیرِ اعظم کو برطرف کِیا تو اُسے‘ اُس کے گھر یا سرکاری گھر (جیل) پہنچا دِیا۔ یوں بھی وزیرِ اعظم گیلانی کو صدر زرداری نے گھرنہیں بھجوایاتھا۔ انہیں تو اِس برطرفی پر” نظریاتی اختلاف“ تھا۔
صدر زرداری‘ بلوچ ہیں اور یہ بات بلوچوں کی روایات کے منافی ہے کہ وہ کسی شخص کو‘ خاص طور پر کسی گدّی نشِین کو‘ مہمان بنا کر اُس سے روّیہ بدل کر کہیں کہ---
” ہم نے کُچھ نافذ کِئے ہیں‘ میزبانی کے اُصول
دیجئے نہ‘ اور زیادہ‘ اپنی مہمانی کو طُول“
بلوچ‘ دوستی‘ خُوب نبھانا جانتے ہیں۔ رحمن ملک کی مِثال ہی لے لیجئے! ۔ سپریم کورٹ نے اپنے حُکم میںکہا کہ ” رحمن ملک صادق اور امین نہیں ہیں“ اور اب رانا ثنااُللہ نے بھی فتویٰ دے دِیا ہے کہ ” رحمن ملک سند یافتہ جھوٹے ہیں“ لیکن صدر زرداری‘ میں نہیں مانتا ‘ میں نہیں جانتا‘ کا م¿وقف رکھتے ہیں۔ گیلانی صاحب نے صدر زرداری کے لئے جو قُربانی دی ہے‘ اُس بارے میں بلاول بھٹو زرداری تو چشم دیِد گواہ ہیں‘ لیکن مجھے یقین ہے کہ صدر زرداری نے آئندہ منتخب ہونے والے صدر کے لئے گیلانی صاحب کوایک ڈی او لیٹر پیشگی ٹائپ کروا کے دے دِیا ہو گا کہ--- ” صدرِ محترم! حاملِ ڈی او لیٹر سیّد یوسف رضا گیلانی ‘ میرے دور میں ساڑھے چار سال تک وزیرِ اعظم رہے۔ انہوں نے میرے لئے قُربانی دی ہے۔ ضرورت پڑے تو آپ کے لئے بھی دے سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ گدّی نشِین ہیں۔ آپ اِن کی کرامات اور دُعاﺅں سے بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں“--- آپ کا مخلص (سابق) صدر آصف علی زرداری۔
 حضرت ِ بحر کہتے ہیں---
” گھر کا بھیدی ہوں‘ کسی بات کا پردہ نہ کرو
کون سے روز‘ نیا روزنِ دیوار‘ نہیں“
میں اِس دلیل کو نہیں مانتا‘ کہ صدر زرداری نے اِس لئے‘ گیلانی صاحب کو ایوانِ صدر میں مہمان رکھا ہے کہ وہ‘ گھر کا بھیدی ہونے کی وجہ سے‘ لنکا ڈھاسکتے ہیں۔ گیلانی صاحب لنکا تو کیا‘ قیامت بھی ڈھا سکتے تھے‘ لیکن انہوں نے وفا داری نبِھائی۔ اِس سے قبل وہ صدر ضیا اُلحق اور مسلم لیگی قیادت سے بھی وفا داری نبِھا کر اپنی تاریخ میں ایک روشن باب تحریر کر چکے ہیں۔
گیلانی صاحب کسی ایرے غیرے نتّھو خیرے کے مہمان نہیں ہیں۔ وہ ” قائد ِ عوام اور فخرِ ایشائ“ کے”روحانی فرزند“ اور ” دُخترِ مشرق“ کے شریک ِ حیات کے مہمان ہیں۔ وہ یقیناگیلانی صاحب کو‘ ایوانِ صدارت کے مہمان خانے سے جانے کی اجازت نہیں دیںگے ۔ اور اگر گیلانی صاحب نے متذکرہ بالا خبر پڑھ کر ” چلو چلو ملتان چلو“ کا نعرہ لگا بھی دِیا تو صدر صاحب‘ایوانِ صدر کے سیکورٹی اہلکاروں اور پروٹو کول سٹاف کا مزاج درست کر دیں گے اور وزیرِ اعظم راجا پرویز اشرف کے ہاتھ گیلانی صاحب کو ایک دستی پیغام بھجوائیں گے کہ---
” دِ ل میں گھر کرنا‘پِھر اپنے گھر کے‘ جانے کا خیال
واہ صاحب! یہ بھی کیا‘ گھر جانی‘ من مانی ہوئی“
گیلانی صاحب کو اللہ نے اتنا کُچھ دِیا ہے کہ پاکستان کے ہر شہر میں گھر خرید سکتے ہیں۔ پِھر اُن کے مُریدوں کے بھی تو گھر ہوں گے‘ لیکن انہوں نے تو صدر زرداری کی قُربت میں اپنے رہنے کے لئے ایوانِ صدر کے تِین کمروں میں رہنا قبول کِیا ہے۔ وہ کہاں واقع ہیں گیلانی صاحب ہی جانتے ہیں۔
مجھے لگتا یوں ہے کہ خبر نگار نے‘ کسی کے بہکاوے میں آکر ‘ ایونِ صدر میں گیلانی طاحب کی آﺅ بھگت میں کمی کی بات پھیلا دی۔ اب اِس کا ایک ہی علاج ہے کہ صدرِ مملکت فوراً ہی اِس طرح کا آرڈیننس جاری کر دیں کہ ” میرے دورہ¿ صدارت کے اختتام تک جنابِ یوسف رضا گیلانی ‘ ایوانِ صدارت میں مستقل مہمان رہیں گے“۔ ممکن ہے گیلانی صاحب دُعا کر کے صدر زرداری کو مزید پانچ سال کے لئے صدر منتخب بھی کروا دیں۔