وزیراعظم نے منظوری دیدی ‘ سوئس حکام کے نام خط کا مسودہ آج سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا

25 ستمبر 2012

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت نیوز) وفاقی وزیر قانون و انصاف فاروق ایچ نائیک نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر قانون و انصاف کو سوئس حکام کو خط لکھنے کے لئے اتھارٹی لیٹر دیا۔ فاروق ایچ نائیک نے وزیراعظم سے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے مسودہ کی منظوری حاصل کی وہ یہ خط آج سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے بھی این آر او عملدرآمد کیس میں حکومت کی جانب سے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کا مسودہ پیش کرنے کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ خط سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے خط کی واپسی کا سفر ہو گا ۔ عدالت عظمیٰ کے نکتہ نظر کے مطابق خط کے مندرجات میں ترامیم کی جا سکے گی۔ حکومت نے قطعاً یو ٹرن نہیں لیا۔ درمیانی راستہ عدالت عظمیٰ نے نکالا ہے۔ پارلیمنٹ ہاﺅس میں قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این آر او عملدرآمد کیس کے حوالے سے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے وقت عدالت میں صورتحال مختلف تھی اب عدالت عظمیٰ نے درمیانی راستہ تجویز کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کھڑکی کھولی ہے اس سے حکومت کے لئے مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے بھی کہا ہے کہ زرداری ان کے بھی صدر ہیں وہ ان کے خلاف مقدمات نہیں کھولانا چاہتی۔ وفاق کے تحفظات کو اہمیت دی گئی ہے ہم نے بھی عدالت کی بات کو تسلیم کر لیا ہے۔ خط لکھنا نہ لکھنا اب قصہ پارینہ بن چکا ہے حکومت کی جانب سے آج خط کا مسودہ سپریم کورٹ میں پیش کردیا جائے گا اگر مسودے پر عدالت عظمیٰ نے اعتراض کیا تو مندرجات میں ترامیم کرلی جائیں گی اور خط سوئس حکام کو بھیج دیا جائے گا اس بارے میں شیڈول طے کرلیا جائے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ عام انتخابات میں پانچ چھ ماہ رہ گئے ہیں اس لحاظ سے یہ زیادہ عرصہ نہیں۔ گستاخانہ فلم کے خلاف حاجی غلام بلور کی جانب سے ایک لاکھ ڈالر انعام کی رقم مقرر کرنے کا بیان ان کا ذاتی موقف ہے حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ ان کی قیادت نے ان کے بیان کا نوٹس لیا ہے کیونکہ اے این پی کا فلسفہ ہی عدم تشدد ہے۔ اے این پی کی قیادت کے سامنے حاجی غلام احمد بلور جو بھی مو¿قف پیش کریں گے اس سے وفاقی حکومت کو بھی آگاہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ خط پر صدر زرداری کا نام نہیں ہو گا ہم اپنے مو¿قف پر قائم ہیں۔خط لکھنے پر حکومتی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ درمیانی راستہ کی تجویز عدالت نے دی ہے۔ خط کا مسودہ وزیراعظم نے وزیر قانون کے حوالے کردیا ہے اور وہ آج عدالت میں پیش کر دیں گے۔ خط کے ڈرافٹ میں وفاق کے تحفظات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ فاروق نائیک وزیراعظم کے حکم نامے کی روشنی میں خط کی کاپی پیش کریںگے۔ خط کے متن میں حکومت صدر کے خلاف خط نہ لکھنے کے مو¿قف پر قائم ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق خط کا مسودہ سینیٹر وسیم سجاد کے چیمبر میں تین، چاردن پہلے تیار کیا گیا یہ دو صفحات پر مشتمل ہے اسے جائزہ کے لئے اسے صدرآصف علی زرداری کو نیویارک بھجوا دیا گیا ہے خط میں صدر آصف زرداری کو حاصل استثنیٰ کا ذکر ہے۔ ملک قیوم کا 22 مئی 2008ءکو لکھا گیا خط واپس لینے کی تحریر شامل ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ این آر او عمل درآمد کیس کی آج سماعت کریگا۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی طرف سے گزشتہ سماعت پر عدالت کو سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے لکھے گئے خط کو واپس لینے اور وزیر قانون کو سوئس حکام کو خط لکھنے کےلئے اتھارٹی دینے کی یقین دہانی کی روشنی میں سوئس حکام کو لکھے جانےوالے خط کا متن منظوری کیلئے عدالت میں پیش کرینگے۔ پانچ رکنی بنچ جسٹس آصف سعید کھوسہ‘ جسٹس اعجاز افضل خان‘ جسٹس اعجاز احمد چودھری‘ جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو دو روز قبل باضابطہ اتھارٹی لیٹر جاری کردیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے وزیر قانون کو گائیڈ لائن دی گئی کہ خط میں یہ مو¿قف اختیار کیا جائے کہ سابق اٹارنی جنرل نے اختیارات سے تجاوز کرکے سوئس حکام کو خط لکھا لہٰذا حکومت پاکستان نے اس خط سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خط میں صدر کو حاصل آئینی استثنیٰ کا براہ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا جائے گا تاہم اس انٹرنیشنل کنونشن کی پاسداری کا ذکر کیا جائے گا جس کے تحت تمام سربراہان مملکت کو ملکی اور غیر ملکی عدالتوں میں استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق خط کی عدالت میں پیش کرنے سے قبل صدر آصف علی زرداری سے بھی منظوری حاصل کی جائےگی۔