دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے‘ احتجاج پرامن رکھا جائے: شہباز شریف‘ وفاق گستاخی رسول کو عالمی جرم قرار دلائے: عضمت رحمت اللعالمین کانفرنس کا اعلامیہ

25 ستمبر 2012
دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے‘ احتجاج پرامن رکھا جائے: شہباز شریف‘ وفاق گستاخی رسول کو عالمی جرم قرار دلائے: عضمت رحمت اللعالمین کانفرنس کا اعلامیہ

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے نبی کریم کی شان اقدس میں گستاخی پرکاسابلانکا سے کوالالمپور تک کروڑوں مسلمانوں نے احتجاج کرکے دنیا کو بتا دیا مسلمان کٹ سکتا ہے مگر ایسی گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ عالمی سطح پر دوہرے معیار کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ایک طرف ہولوکاسٹ قانون کی خلاف ورزی پر کڑی سزا ملتی ہے اور دوسری طرف نبی ﷺ کی شان میں گستاخی پر کہا جاتا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ایوان وزیراعلی 90 شاہراہ قائداعظم پر محکمہ اوقاف پنجاب کے زیر اہتمام ”عظمت رحمة للعالمین کانفرنس “ میں بحیثیت میزبان خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر نظامت کے فرائض پیر سید امین الحسنات شاہ نے اداکئے جبکہ ساجد میر، مفتی منیب الرحمن، فضل الرحیم، احسن اقبال، ریاض حسین، پیرسیف اللہ خالد، مولانا امجد خان، پیر اعجاز ہاشمی، مولانا غلام محمد سیالوی، پیر سید عمران احمد شاہ، ڈاکٹر راغب نعیمی، حیدر علی مرزا، مفتی شیر محمد خان، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، علامہ محمد یونس، ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے اظہار خیال کیا۔ مشترکہ اعلامیہ وزیر اوقاف احسان الدین قریشی نے پڑھا جسے ترمیم کے بعد حاضرین نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ کانفرنس میں علماءکرام، مشائخ عظام، ایاز صادق، مرغوب احمد، پرویز ملک، افضل کھوکھر، ذوالفقار کھوسہ، رانا ثناءاللہ، ندیم کامران، حافظ نعمان، محسن لطیف سمیت اعلی سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔ شہباز شریف نے مزید کہا ہم مضبوط قوم ہوتے، اغیار کے چند ٹکوں کے لئے کشکول لئے نہ پھر رہے ہوتے اور ان لوگوں سے قرضوں اور امداد کی درخواستیں نہ کرتے پھرتے تو آج نبی کریم کی شان میں گستاخی کی جو صورت حال پیدا ہوئی ہرگز نہ ہوتی۔ ہماری اس کمزوری نے اغیار کو ہلا شیری دی کہ نبی کی شان میں گستاخی کریں اور پھر طرح طرح کی تاویلیں پیش کریں۔ انہوں نے کہا ہمیں من حیث القوم فیصلہ کرنا ہو گا کہ نہ صرف اپنی صفوں میں دشمنوں کو تلاش کریں اور اپنے اندر نفاق کا خاتمہ کریں، یک جان ہو کر سیسہ پلائی دیوار بن جائیں اور دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کا ہر طریقے سے مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا 65 ارب روپے کے قرضے لے کر حکومت نے اپنی نسلوں کو گروی رکھ دیا ہے جبکہ ملک کی سالمیت کوداﺅ پر لگا دیا گیا ہے ۔ جس قوم کی معیشت کسی اور کے ہاتھ میں ہو اس کی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ چند ٹکڑے ہمارے سامنے پھینک کر ہمیں ڈومور کا حکم دیا جاتا ہے ۔ اس سے پاکستان بنانے والوں کی روحیں تڑپ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے غیرملکی امداد سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے ہمیں ایسی امداد نہیں چاہئے جس سے غیرت پر آنچ آئے۔ الحمدللہ پنجاب حکومت کی گاڑی امداد کے بغیر بھی چل رہی ہے ۔ پاکستان میں فرقہ واریت کا ذکر کرتے انہوں نے کہا عید کی چھٹیاں گزارنے جانے والوں کو 27 رمضان المبارک کو شناختی کارڈ لے کر چن چن کر ماردیا گیا یہ کہاں کا اسلام ہے ۔ مرنے والے بھی کلمہ گو اور مارنے والے بھی کلمہ گو ہیں اس سے جگ ہنسائی نہیں ہو گی تو کیا ہو گا۔ انہوں نے کہا دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں ان میں مرنے والے بھی بے قصور مسلمان ہیں، سرحد پار سے آ کر افواج پاکستان کے اہلکاروں کو شہید کردیتے ہیں اس پر کس سے بات کریں کتنی ستم ظریفی ہے ہمارے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے ۔ ہمیں جائزہ لینا ہو گا ہمیں 14 سو سال پہلے جو حکم دیا گیا تھا ہم اس پر کس حد تک عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا علماءکرام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اپنا زوربیان لوگوں کو جوڑنے اور آپس میں محبت پیار پیدا کرنے پر صرف کریں نہ کہ ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجدیں بنائی جائیں اور سب اپنے اپنے برانڈ کے اسلام کے لئے کوشاں ہو جائیں۔ انہوں نے کہا دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے اس نے وار کیا ہے جس کے خلاف عالم اسلام اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ ترکی، ایران، ملائشیا ہر جگہ مسلمان باہر نکلے لیکن پاکستان میں جس طرح احتجاج کیا گیا اس سے اور بھی ضعف پیدا ہوا۔ اپنے بیس پچیس لوگوں کو مار دیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو آگ لگائی گئی۔ انہوں نے کہا احتجاج کے روز زیادہ نظم و ضبط کی ضرورت تھی۔ احتجاج کرنے والوں کی رہنمائی کرنے کی ضرورت تھی علماءکرام بتائیں کس طرح احتجاج کو پرامن رکھا جائے اور کس طرح اپنی طاقت بڑھائی جائے ۔ وفاق المدارس سلفیہ کے سربراہ سینیٹر پروفیسرساجد میر نے کہا جن غیرممالک میں نبی اکرم کی شان میں گستاخی یا ہرزہ سرائی کی جائے اسلامی ممالک کی حکومتیں ساتھ دیں تو ان کی اشیا کا بائیکاٹ کیا جا سکتا ہے ۔ وفاق المدارس اہلسنت کے سربراہ و چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے کہا شان رسالت میں گستاخی مذہبی دہشتگردی ہے ہولوکاسٹ کی طرز پر قانون سازی ضروری ہے وگرنہ امن عالم کو خطرہ لاحق رہے گا۔ وفاق المدارس العربیہ کے نمائندے مولانا فضل الرحیم نے کہا علماء کرام سے اپیل ہے دلوں کو جوڑا جائے اور قوم کو توبہ کی طرف لائیں۔ مسلم لیگ ن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ایسا خطبہ جمعہ مرتب کرنا چاہئے جو امت کو جوڑ دے۔ پرنسپل جامعہ المنتظر سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہڑتالوں اور بڑے مظاہروں کی بجائے قوم میں وحدت پیدا کریں۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے جمعہ کے احتجاج میں گرفتار ہونے والوں کی رہائی اور ان کے خلاف مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جمعیت مشائخ اہلسنت والجماعت کے سربراہ پیر خالد سیف اللہ نے کہا پنجاب حکومت لاہور میں امریکی قونصل جنرل کو طلب کرکے احتجاج کرے۔ چیئرمین قرآن بورڈ مولانا غلام محمد سیالوی نے کہا حکومت پاکستان سعودی عرب سے مطالبہ کرے اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس بلائی جائے ۔ مسلم لیگ ن علماء مشائخ ونگ پنجاب کے صدر و رکن قومی اسمبلی پیر سید عمران احمد شاہ نے کہا اس امت کے زندہ رہنے کا کوئی جواز نہیں جس کے سامنے حضور کی شان میں گستاخی ہو۔ جامعہ نعیمیہ کے مہتمم راغب نعیمی نے کہا حکومت پنجاب احتجاج کے لئے لاہور میں ناصر باغ کو مختص کر دے۔ مفتی شیر خان نے کہا مسلم لیگ ن کو بحیثیت مدعی عالمی عدالت میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنا چاہئے۔ جمعیت علماء پاکستان نورانی کی سپریم کونسل کے چیئرمین پیر اعجازہاشمی نے کہا حضور کی شان میں گستاخی پر بطور احتجاج نیٹو کی سپلائی بند کر دینی چاہئے۔ ختم نبوت تنظیم کے سربراہ و رکن پنجاب اسمبلی مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے کہا حضرت عیسیٰ کی توہین پر سنگسار کرنے کا قانون موجود ہے یہی قانون حضور کی توہین پر بھی لاگو ہونا چاہئے، مجلس وحدت المسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق نے کہا یہودیوں اور امریکیوں کے خلاف قوم اٹھ کھڑی ہو تو پاکستان آزاد ہو سکتا ہے ۔
لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایوان وزیر اعلیٰ میں منعقد عظمت رحمت اللعالمین کانفرنس میں درج ذیل مشترکہ اعلامیہ کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ صوبائی وزیر اوقاف حاجی احسان الدین قریشی نے درج ذیل مشترکہ اعلامیہ پیش کیا۔ ”عظمت رحمت اللعالمین کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علما کرام اور مشائخ اسلام کا یہ نمائندہ اجتماع رسول اکرم کی حرمت کے منافی فلم کی تیاری پر شدید غم و غصہ اور گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے ۔ ہم تمام شرکائے کانفرنس اس امر پر متفق ہیں کہ یہ ناپاک جسارت اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے دنیا بھر میں بسنے والے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے خلاف ایک کھلے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہم شرکائے کانفرنس اسلام دشمن عناصر کی اس مذموم کوشش کے خلاف پوری طرح متحد اور متفق ہیں۔ ہم اس فلم کے خلاف حکومت پنجاب کے م¶قف سے متفق ہیں اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی عظیم اسلامی مملکت کی حکومت کی حیثیت میں اس نازک موقع پر اپنا مطلوبہ کردار ادا کرے۔ ہم وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے اس مطالبے کی تائید کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت اس فلم کے خلاف متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے اسلام آباد میں موجود مسلم ممالک کے سفیران کرام کا فوری طور پر اجلاس بلائے اور ان سے مدینہ منورہ میں او آئی سی (OIC) کا ہنگامی اجلاس بلانے کی تائید حاصل کرے۔ اجلاس میں وفاقی حکومت سے مزید مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ سے رابطہ کر کے عالمی سطح پر مذاہب اور انبیاءکرام کی شان میں گستاخی کو جرم قرار دلوانے کے لئے سفارتی اقدامات کرے۔ عظمت رحمت اللعالمین کانفرنس کے شرکائ‘ تمام مکاتب فکر کے علما کرام‘ خطباءاور ذاکرین سے درخواست کرتے ہیں کہ عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر وہ اپنے خطبات میں عوام سے اسلام دشمن عناصر کے خلاف اتحاد و یگانگت پیدا کرنے‘ میانہ روی اور مثبت رویہ اختیار کرنے کی اپیل کریں اور مذکورہ گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے توڑ پھوڑ‘ تشدد اور ہنگامہ آرائی سے گریز کرنے کی تلقین کریں تاکہ اسلام اور پاکستان کے دشمن عناصر ملک میں افراتفری کے ذریعے اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہم صبر‘ حوصلے اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن عزیز کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنا کر اسے مضبوط اور مستحکم کرنے کا عزم کرتے ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پیغمبر کی حرمت کے تحفظ کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے اور اسلام دشمن عناصر کے خلاف متحد رہنے کی توفیق عطا فرمائے“۔