کنٹینرز کیس: ریکوری کیوں نہیں ہو رہی ‘ نیب عدالتی حکم بائی پاس کر رہا ہے: سپریم کورٹ

25 ستمبر 2012

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + اے پی اے) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ”نیٹو کنٹینرز “ کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جان بوجھ کر ٹیکس چوروں کو رعایت دینے کی کوشش ہو رہی ہے جب شواہد پیش کرنے میں تاخیر ہو گی تو ملزمان رہا ہی ہوں گے، حکم امتناعی نہیں ہے تو ریکوری کیوں نہیں کی جا رہی ۔ عدالت نے نیٹو کیس میں جو فیصلہ دیا تھا اسے نظرانداز کیا جا رہا ہے اور نیب نے ”ڈاکٹر شعیب سڈل کی رپورٹ“ کو نظرانداز کرکے اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ جسٹس خلجی کا کہنا تھا کہ نیب نیٹو کیس میں ایسے تحقیقات کر رہا ہے جیسے موبائل یا ٹی وی چوری کا مقدمہ ہو ۔ فاضل عدالت نے نیٹ وصولیاں نہ ہونے پر ایف بی آر اور ریفرنس دائرنہ ہونے پر نیب سے آج جواب طلب کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سوموار کے روز کنٹینرز عمل درآمد کیس کی سماعت کی تو نیب اور ایف بی آر کی جانب سے کیس کے حوالے سے عملدرآمد کی پیشرفت پر مبنی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جسے مسترد کرتے ہوئے فاضل عدالت نے ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر نہ کئے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون تو کہتا ہے کہ کیس کا تیس دن میں فیصلہ ہو جائے لیکن گیارہ ماہ گزرنے کے باوجود ریفرنس تک دائر نہیں کیا گیا۔ نیب ابھی تک ہمارے فیصلے کے اوپر بیٹھا ہوا ہے ۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ تاخیر سے لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ غلط ضرور ہے ۔ نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر فوزی ظفر نے کہا کہ کیس کے آٹھ ملزمان نے سندھ ہائیکورٹ سے ضمانتیں کروا لی ہیں۔ 7 ملزمان کے خلاف ریفرنس کچھ دن میں دائر کر دئیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 271 کلیئرنگ ایجنٹس اور 64 ایساف اہلکاروں کے خلاف بھی ریفرنس دائر کئے جائیں گے۔ ایف بی آر کے وکیل رانا شمیم نے کہا کہ گیارہ ہزار 579 شوکاز نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں لیکن تاحال کوئی برآمدگی نہیں ہوئی ہے ۔ عدالت نے ایف بی آر کو وصولیوں اور نیب کو ریفرنس دائر کرنے سے متعلق آج تک بیان جمع کروانے کی ہدایت کی ہے ۔ کیس کی مزید سماعت آج ہو گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ نیب عدالتی حکم کی خلاف ورزی اور اس آرڈر کو بائی پاس کر رہا ہے ، وفاقی ٹیکس محتسب کی رپورٹ کو بھی بائی پاس کیا گیا ہے ، ایف بی آر تو اس طرح ٹیکس چوری کو سہولت دے رہا ہے چھبیس نومبر 2011ءکے بعد کچھ نہیں کیا گیا اور عدالتی حکم کی واضح خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ عدالت کو صرف اتنی دلچسپی ہے کہ ملک و قوم کا پیسہ واپس آئے۔