زمےندار و کاشتکاران کی اعلیٰ حکام سے اپےل

25 ستمبر 2012

مکرمی! زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی تمام تر معےشت کا انحصار اس کی زراعت پر ہے۔ زرعی اجناس کی بہتر پےداوار کی بدولت ہمارا ملک ترقی کرکے ترقی ےافتہ ممالک کی صف مےں کھڑا ہو سکتا ہے۔ پےداواری صلاحتےوں کو بہتر بنانے اور زرعی پےداوار کو بڑھانے کےلئے زمےندار و کاشتکاران کی حوصلہ افزائی کےلئے اہم اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے جب بھی نےا بجٹ بنتا ہے۔ حکومت تمام سرکاری ملازمےن کی تنخواہوں مےں اضافہ فرماتی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے جبکہ زمےندار و کاشتکاروں کی اجرت اور معاوضہ بڑھانے کی طرف کبھی توجہ نہےں دی گئی ان سے اسی پرانے رےٹ پر اجناس خرےدی جاتی ہےں اور آجر حضرات سٹور کرکے کچھ عرصہ بعد وہی اجناس مہنگے داموں فروخت کرتے ہےں۔ مہنگائی کی مد مےں تمام تر فوائد و الاو¿نسز ےا تو آجر اور سرماےہ داران کو ےا سرکاری ملازمےن کو حاصل ہوتے ہےں بے چارے زمےندار جو دن رات کی محنت سے ملکی پےداوار مےں اضافہ کا باعث بنتے ہےں اُن کو اپنی محنت کا صلہ نہےں ملتا جس سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہےں اور اُن کے حوصلے بھی پست ہو جاتے ہےں مزےد محنت کرنے کو جی نہےں کرتا اس لئے اعلیٰ حکام سے اپےل ہے کہ جس طرح ہر سال بجٹ مےں سرکاری ملازمےن کی تنخواہوں مےں اےک خاص شرح اور تناسب سے اضافہ کےا جاتا ہے اسی طرح زمےنداران کی اجرت و معاوضہ مےں بھی خاطرخواہ اضافہ کا بندوبست کےا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ ملکی پےداوار مےں اضافہ کرنے مےں بڑھ چڑھ کر حصہ لےں۔(محمد ےوسف ورک بورےوالہ)