قومی بحران سے نجات کا واحد راستہ نیک اور صالح قیادت

25 ستمبر 2012

مکرمی!میں آپ کے روز نامہ کی وساطت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان اس وقت کسی ایک بحران کا شکار نہیںبلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت وطن عزیز کئی بحرانوں کی زد میں ہے۔سیاسی سماجی،معاشرتی ہر حوالے سے بحرانوں نے ملک کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔عوام کا ووٹ دیتے وقت یہ خیال تھا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی اچھی منصوبہ بندی کی جائے گی لیکن افسوس کہ پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے عوام کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔الیکشن لڑتے ہوئے ان کی طرف سے قوم سے جو وعدے کئے گئے تھے ان تمام وعدوں کو اقتدار میں آنے کے بعد عملاً بھلا دیا گیااورنتیجتاً جن پالیسیوں سے نجات حاصل کرنے کےلئے قوم نے ووٹ دئیے تھے وہی پالیسیاں اپنی بدترین صورت میں قوم کا مقدر ٹھہری ہیں۔حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں معیشت کا پہیہ جام اورلاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں،مہنگائی میں دن بدن اضافہ کی وجہ سے عام آدمی ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے کھاتا ہے۔بجلی کی عدم فراہمی کے نتیجہ میں ملک کی معیشت بالکل کھوکھلی ہوچکی ہے۔ملک میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے پولیس عام شہری کو تحفظ دینے کے بجائے صرف حکمرانوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔نااہل اورکرپٹ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ،اسرائیل اوربھارت پاکستان کاوجودمٹانے کے درپے ہیں ان تشویشناک حالات میں تمام سیاسی ودینی جماعتوںکواعتمادمیںلے کرمشترکہ لائحہ عمل اختیارکرناچاہیے۔ امریکہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی سے محروم کرکے بھارت کوعلاقے کاتھانیداربنانے اورپاکستان کوانڈیاکے رحم و کرم پرچھوڑدینے کے مذموم ایجنڈے پرعمل پیراہے اورہماری حکومت قومی امنگوںکے بر خلاف ہندوستان سے پیار کی پلنگیں بڑھارہی ہے۔نام نہاد دہشت گردی کی امریکی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیتے ہوئے اپنے ہی لوگوں پر ڈرون حملے،ان کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کرنے ان کے گھروں کو مسمار کرنے اور پورے ملک کو آگ و خون کے طوفان میں دھکیل دیا ہے۔ایک طرف قوم کی خون پسینے کی کمائی کویورپ اورسوئیزر لینڈ کے بینکوں میں جمع کروایا جارہاہے تو دوسری طرف کشکول لے کر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے در پر دستک دی جارہی ہے۔پورے ملک میں خوف وہراس کی کیفیت موجود ہے۔ان حالات میں میری عوام سے اپیل ہے کہ آئندہ انتخابات میں ایک ایسی قیادت کوووٹ دیں جو بکنے اور جھکنے سے انکاری ہو، ملک کو حقیقی آزادی سے ہمکنار کر سکے ، اپنی سادگی اور کفایت شعاری کے نتیجہ میں قوم کو مہنگائی کے عذاب سے نکال سکے ،جو قوم کو خوف کی حالت سے نکال سکے، ملکی اداروں کو مضبوط کر سکے،قوم کے احساسات و جذبات کی عکاسی کر سکے اور امریکی جنگ سے نکل کرا پنی قوم کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔ (سمیع الرحمان ضیائ،منصورہ لاہور)