احتجاج کیسا ہو؟

25 ستمبر 2012

مکرمی! کی گستاخانہ فلم سے مسلمانوں کی بہت دل آزاری ہوئی جس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں احتجاج کئے گئے جبکہ پاکستان میں احتجاجی ریلیاں شدت اختیار کر گئیں۔ میرے خیال سے گاڑیوں کو آگ لگا دینا۔ اپنے ہی ملک کی توڑ پھوڑ کرنا احتجاج نہیں۔ اس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا اورگھٹیا اوربد بخت فلم ساز ٹس سے مس نہیں ہوا۔ امریکہ کو اس کی کوئی پروا نہیں بلکہ شاید ہمارے ہی ہاتھوں ہمارے ہی ملک کا نقصان دیکھ کر انہیں دلی خوشی ہوئی ہو گی۔ کیا ہی بات ہوتی اگر یہی احتجاج فلم کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کو اکسانے اور ایمانی غیرت دلانے کے لئے ہوتا۔ پھر حکومت اُن لوگوں سے معاشی، سیاسی، اقتصادی، سفارتی اور تجارتی تعلقات کا بائیکاٹ کرتی، نیٹو سپلائی بند کرتی۔ میرے خیال سے یہ طریقہ زیادہ پراثر ہوتا اور امریکہ مجبور ہو کر ٹیری جونز کو کیفر کردار تک پہنچاتا۔ یہ احتجاج پاکستان جیسے ملک کی بے غیرت حکومت کو غیرت دلانے کے لئے ہوتا۔ اگر نبی پاک سے عوام کو سچی محبت ہے، عوام کی دل آزاری ہوئی ہے اور احتجاج کرنا ہے تو آﺅ! سب مل کر عہد کریں کہ آج سے تاحیات کوئی بھی کسی قسم کی انگلش مصنوعات استعمال نہیں کرینگے۔ یہ طریقہ پراثر ثابت ہو گا اور ان خبیثوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ (محمد بلال غوری 0333-8901713)