چوہدری ظہور الٰہی شہید کی صاحبزادی کی یادیں

25 ستمبر 2012

ہر بیٹی اپنے باپ سے محبت کرتی ہے لیکن میں ان چند خوش قسمت بیٹیوں میں سے ہوں جس کے والد کو ایک زمانہ چاہتا اور پیار کرتا تھا کیونکہ وہ صرف اپنوں کیلئے ہی نہیں غیروں کیلئے بھی شفقت اور محبت کی علامت تھے۔ والد محترم چوہدری ظہور الٰہی شہید کو اللہ پاک نے ایسی شخصیت سے نوازا تھا کہ حبیب جالب جیسے باغی شاعر نے بھی انہیں نذرانہ عقیدت و محبت پیش کرتے ہوئے لکھا:    
آبرو پنجاب کی تو شان پاکستان کی
پیار کرتی ہے تجھے دھرتی بلوچستان کی
سندھ کی دھڑکن ہے تو سرحد کی تو آواز ہے
تیرے دل میں قدر ہے ہر اک جری انسان کی
سر نہیں تو نے جھکایا ظلم کی دہلیز پر
قوم کی خاطر لگا دی تو نے بازی جان کی
آج بھی بے شمار لوگ والد محترم کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہیں جبکہ اکثر لوگوں کو یہ حقیقت معلوم نہیں کہ والد صاحب خود بہت کم خوراک تھے اور سادہ کھانا کھاتے تھے لیکن مہمانوں کیلئے خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ وہ ہر روپ میں مثالی تھے، بحیثیت باپ انتہائی مہربان اور شفیق مگر انتہائی بارعب۔ بحیثیت بھائی وہ اپنے اکلوتے بڑے بھائی کا بے حد احترام کرتے۔ تمام زندگی ایک چھت کے نیچے گزاری لیکن ہم نے کبھی دونوں بھائیوں میں ہلکی سی رنجش بھی محسوس نہیں کی ۔ دوسری طرف میرے تایا عمر میں بڑے ہونے کے باوجود ہر بات میں چھوٹے بھائی کی شوق، پسند، ناپسند کا خاص خیال رکھتے۔والد صاحب ٹی وی بہت کم دیکھتے، خبروں یا شعر و شاعری کے پروگراموں کے علاوہ انہیں کسی پروگرام سے دلچسپی نہیں تھی۔ اوّل تو ان کے پاس وقت ہی کم ہوتا لیکن جب بھی فرصت ملتی تو مطالعہ میں مشغول رہتے۔ رات دیر سے سوتے لیکن صبح جلدی اٹھتے۔ اکثر تہجد پڑھتے، فکر کے بعد مطالعہ کرتے، ان کی میز پر مولانا روم، مرزا غالب اور علامہ اقبال کی کتابیں دکھائی دیتیں۔ فارسی شاعری بھی شوق سے پڑھتے۔ موقعہ مل جاتا تو دوپہر کے وقت قیلولہ ضرور کرتے۔ دن میں کئی بار لباس تبدیل کرتے مگر گھر میں زیادہ تر شلوار قمیص پہننا پسند کرتے تھے۔ بحیثیت نانا، دادا چھوٹے بچوں کے ساتھ بہت لگاﺅ تھا۔ سیاسی مصروفیات میں سے جو وقت ملتا بچوں کے ساتھ کھیل اور گپ شپ میں گزارتے۔ وہ اپنے بچوں کو فراخدل دیکھنا چاہتے تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ اللہ کے راستے میں گن کر خرچ نہیں کرنا چاہیے ورنہ اللہ تعالیٰ بھی گن گن کر دے گا۔ اولاد کو نمازی اور حق پرست دیکھنا چاہتے تھے۔ اولاد میں چہیتی بیٹی قیصرہ تھی۔ پوتوں نواسوں میں سب سے زیادہ محبت راسخ الٰہی سے تھی اس کے بارے میں ایک دن کہا تھا ”میری بات یاد رکھنا!.... یہ بڑا ہو کر بہت بڑا انسان بنے گا“۔ طبیعت میں غصہ ضرور تھا لیکن جلدی ہی رفع بھی ہو جاتا تھا۔ ملازمین کی عزت نفس اور ہر ضرورت کا خیال رکھتے۔ زندگی میں صرف ایک بار کی ڈانٹ یاد ہے ورنہ سرتاپا شفقت و محبت تھے۔ وہ عوام کیلئے جیئے.... عوام کیلئے ہی جان دی لیکن وہ ہماری اور اپنے چاہنے والوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
عوام کا ساتھی، اللہ کا سپاہی چوہدری ظہور الٰہی شہید
یہ ایک ایسے سلیف میڈ شخص کی کہانی ہے جس نے اپنی محنت، ہمت اور محبت فاتح عالم کے بل بوتے پر گمنامی سے ناموری تک کا سفر اس بانکپن سے طے کیا کہ زندگی بھر ایک لمحہ کے لیے بھی عیش میں یاد خوف اور طیش میں خوف خدا کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ وہ آمریتوں کیلئے فولاد اور عوام کے لیے ریشم کی طرح نرم اک ایسا سیاست دان تھا جس کا ایمان غیر متزلزل اور دستر خوان ہر مہمان کے لیے فراخ تھا۔ ایوب خان سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو تک اس جری شخص نے ہر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہا، جمہور اور جمہوریت کی بالا دستی کے لیے ڈٹے رہنے کے جرم میں لاتعداد مقدموں اور جیلوں کا ہنستے مسکراتے سامنا کیا۔ پاکستان کے لیے جیا اور اسی محبوب وطن کے لیے جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا۔
چوہدری ظہور الٰہی شہید کی زندگی اتنی بامقصد، بھرپور، ہنگامہ خیز، مصروف اور جہد مسلسل سے اس طرح عبارت ہے کہ اس کا بیان کسی ایک آدھ مضمون میں ممکن نہیں۔ اس کے لیے تو کئی جلدوں پر مشتمل ایک ہزار داستان درکار ہے اور کوئی ایسا اچھوتا سخن ور جو اس تہہ در تہہ، کثیر الجہت موضوع سخن کا حق ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ ہم تو ان کی 31ویں برسی پر صرف انہیں یاد ہی کر سکتے ہیں، خراج عقیدت ہی پیش کر سکتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ نئی نسل کو بتا سکتے ہیں کہ ہماری سیاست کی نیم بنجر زمین پرکبھی ایک ایسے پھول کا ظہور بھی ہوا تھا جس نے کبھی اصول تبدیل کیے نہ ان کی تجارت کی ۔
ایوب خان کے مارشل لاءمیں گرفتاری ہو یا سزائیں، ایبڈو کے کالے قانون کو چیلنج کرکے اس میں سرخروئی ہو یا نواب کالا باغ ملک امیر محمد خان کی دہشت، دشمنی اور مخالفت، جھوٹے مقدمات کی بھرمار ہو یا گھر پر پولیس کے چھاپے اور یلغار، لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسہ عام میں فائرنگ کا سامنا ہو یا ڈی پی آر کے تحت نظر بندی، عراقی اسلحہ کیلئے گھر کی تلاشی ہو یا کولہو جیل کی قید، بلوچستان کی بدنام زمانہ ”مچھ جیل“ کی اسیری ہو یا ”خصوصی ٹریبونل“ کی طرف سے چار سالہ قید کا تحفہ، کراچی سنٹرل جیل میں باجماعت نماز کی ادائیگی کیلئے احتجاج ہو یا جیل میں زہر دے کر ہلاک کرنے کی بھیانک سازش کا دلیرانہ سامنا، بڑے بھائی، اہلیہ، بیٹوں، بھتیجوں، دوستوں حتیٰ کہ ملازموں کے خلاف مقدمات کا انبار ہو یا کوئی قاتلانہ حملہ.... تاریخ نے کبھی چوہدری ظہور الٰہی شہید کے پائے استقلال میں ہلکی سی جنبش اور لغزش بھی نہیں دیکھی۔
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم
جو چلے تو جاں سے گزر گئے