چوہدری ظہور الہٰی کا انداز سےاست

25 ستمبر 2012

25 ستمبر981 ءکو مسلم لےگ (کونسل) کے مرکزی رہنما چوہدری ظہور الہٰی نماز جمعہ کی تےارےوں مےں مصروف تھے کہ الذوالفقار کے کارکنوں نے انہےں اس وقت شہےد کر دےا جب وہ اپنی کار مےں سپرےم کورٹ کے جسٹس (ر) مولوی مشتاق حسےن کے ہمراہ ماڈل ٹاﺅن کی بڑی شاہراہ سے گذر رہے تھے اسی روز چوہدری ظہور الٰہی کو ان کے اےک دوست نے بتاےا تھا کہ ان کو کسی نے ٹےلی فون کرکے دھمکی دی تھی کہ انہوں نے چوہدری ظہور الٰہی کو ختم کرنے کا فےصلہ کر لےا ہے اگر وہ بھی ان کے ساتھ رہے تو ان کا بھی چوہدری ظہور الہٰی سے مختلف انجام نہےں ہو گا۔ اسی روز چوہدری ظہور الٰہی نے مولوی مشتاق حسےن کو بتاےا تھا الذوالفقار نے اےک ہزار تخرےب کاروں کو تربےت دی ہے ان کو پاکستان مےں قتل و غارت کا بازار گرم کرنے کے لئے بھےج دےا گےا ہے اس مےں سرفہرست اےک انتہائی بااختےار شخص بھی شامل ہے اس کے بعد بھٹو کےس سے تعلق رکھنے والے جج اور پھر سےاست دانوں کی باری ہے لےکن اب ےہ فہرست مختصر کر دی گئی ہے جس مےں ان کا نام سب سے نماےاں ہے۔  چوہدری ظہور الٰہی کے سےاسی وارثوں نے اس بات کی تردےد کی ہے انکی ےہ تردےد سےاسی مصلحتوں پر مبنی ہے ےا واقعی اےسا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہےں اس بارے مےں چوہدری شجاعت حسےن ہی بہتر جانتے ہےں تاہم چوہدری ظہور الہٰی پر الذوالفقار کے حملے کی اےک وجہ ےہ بھی بتائی جاتی ہے کہ چوہدری ظہور الہٰی کے پاس وہ قلم محفوظ تھا جس سے جنرل ضےاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دےنے کے پروانے پر دستخط کئے تھے۔ ہر سال چوہدری شجاعت حسےن گجرات مےں تعزےتی جلسہ منعقد کرکے اپنے عظےم والد کی ےاد تازہ کرتے ہےں تو انہےں ےقےناً وہ عوامل بھی ےاد آتے ہوں گے جن مےں چوہدری ظہور الہٰی کو شہےد کےا گےا۔ چوہدری ظہور الٰہی اےک بہادر انسان تھے انہوں نے مصلحت پر مبنی سےاست نہےں کی بلکہ اپنے سےاسی مخالفےن کی آنکھوں مےں آنکھےں ڈال کر بات کرنے کا سلےقہ رکھتے تھے وہ کبھی مسلم لےگ کے صدر بنے اور نہ ہی وزارت عظمٰی کا تاج اپنے سر پر سجاےا لےکن وہ اس قدر بااثر تھے کہ ملکی سےاست انکے گرد گھومتی تھی ان کے بغےر ملکی سےاست نامکمل تھی۔ مجھے ےاد نہےں مےری چوہدری ظہور الہٰی سے پہلی ملاقات کب ہوئی لےکن مجھے شےخ رشےد احمد کے ہمراہ انہےں قرےب سے دےکھنے کا موقع ملا ہے لوگ پہلی ملاقات مےں ہی ان کی شخصےت کا گروےدہ ہو جاتے تھے وہ سےاست مےں جرا¿ت و استقامت کی علامت تھے، جب ان کی ذوالفقار علی بھٹو سے دوستی تھی تو ان کی تصوےر اپنے ڈرائنگ روم مےن سجا رکھی تھی لےکن جب ان کے انداز ِ سےاست سے اختلاف کےا تو پھر سےاسی اختلا ف دشمنی مےں تبدےل ہو گےا ذوالفقار علی بھٹو ان کی جان کے درپے ہوگئے اور ان کو کوہلو کے زندان مےں ڈال دےا اللہ تعالیٰ نے نواب اکبر بگٹی کی شکل مےں ان کی حفاطت کا انتظام کر دےا۔ ےہ اس دوستی کا ہی نتےجہ ہے کہ جنرل پروےز مشرف کے دور مےں نواب اکبر بگٹی صرف چوہدری شجاعت حسےن سے مذاکرات کرنے پر تےار ہوئے فروری 1973ءمےں بلوچستان مےں نےپ اور جے ےو آئی کی مخلوط حکومت کی برطرفی اور صوبہ سرحد مےں مفتی محمود کی سر براہی مےں قائم نےپ اور جمعےت کی مخلوط حکومت کے استعفے کے بعد ملک مےں احتجاج کی لہر پےدا ہو گئی۔ فروری1973 ءکے اواخر مےں 99 وےسٹرےج راولپنڈی مےں چوہدری ظہور الہٰی کی رہائش گاہ پر اپوزےشن کی سےاسی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا جس مےں 12 نکاتی پروگرام پر متحدہ جمہوری محاذ قائم کےا گےا جس کا پےر صاحب پگارا کو صدر، مفتی محمود نائب صدر، پروفےسر غفور احمد سےکرٹری جنرل بناےا گےا چوہدری ظہور الہٰی ےو ڈی اےف کے روح رواں تھے لہٰذا انہےں رابطہ کمےٹی اور مالےاتی امور کے چےئرمےن کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ان کی وےسٹرےج کی رہائش گاہ کو اپوزےشن ہاﺅس کی حےثےت حاصل ہو گئی۔ 23 مارچ 1973ءکو ےو ڈی اےف نے رابطہ عوام کے سلسلے مےں لےاقت باغ مےں جلسہ عام کا اعلان کر رکھا تھا مَےں اس جلسہ کا عےنی شاہد ہوں پےپلز پارٹی کی قےادت نے ےو ڈی اےف کی قےادت پر طاقت کا بے رحمانہ استعمال کر کے لےاقت باغ مےں جلسہ نہےں کرنے دےا۔ پےپلز پارٹی کی فسطائی مزاج قےادت نے خان عبدالو لی خان کو لےاقت باغ کے جلسہ مےں سرحد سے آنے والے سرخپوشوں کے لاشے اپنے کندھوں پر لے جانے پر مجبور کر دےا لےکن خان عبدالولی خان نے مشتعل پختونوں کو صبر و تحمل کی راہ دکھائی۔ اے این پی نے خان عبدالولی خان کی آنکھ بند ہوتے ہی نہ صرف اپنا سےاسی قبلہ تبدےل کر لےا بلکہ وفاق مےں پےلز پارٹی کی حکومت کا حصہ بن گئی، اسی طرح مفتی محمود کی اولاد تےن سال تک پےپلز پارٹی حکومت کے مزے لوٹتی رہی لےکن حکومت سے الگ ہونے کے باوجود وہ سےاسی فوائد حاصل کر رہی ہے اس نے اےسا طرز عمل اختےار کر رکھا ہے کہ اپوزےشن اسے اپنا حصہ تسلےم کرنے کے لئے تےا ر نہےں۔ مسلم لےگ (ق) اس وقت پےپلز پارٹی کی اتحادی بنی جب اےم کےو اےم کی ممکنہ علےٰحدگی کی وجہ سے پےپلز پارٹی حکومت ڈانواں ڈول تھی مسلم لےگ (ق) نے اپنی پارلےمانی قوت سے زےادہ حکومت مےں حصہ حاصل کر لےا، صدر آصف علی زرداری نے مسلم لےگ (ق) قاتل لےگ کہنا چھوڑ دےا تو چوہدری برادران نے بھی چوہدری ظہور الہٰی کاخون معاف کر دےا۔ آج گجرات کے چوہدری ، رائے ونڈ کے شرےف برادران کے مقابلے مےں آصف علی زرداری کے مورچے مےں کھڑے ہےں ان دورےوں کی کس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کا فےصلہ سےاسی م¶رخ ہی کرے گا۔ مےاں نواز شرےف کا کس حد تک قصور تھا ےا چوہدری برادران کی انا کس حد تک آڑے آئی 31وےں برسی پر چوہدری ظہورالہٰی کی روح اس بات پر مضطرب نظر آئی کہ ان کے سےاسی وارث مصلحتوں اور مجبورےوں کے ہاتھوں کےوں پےپلز پارٹی کے ساتھ جا بےٹھے؟