یہ مسلمانوں کے نمائندے نہیں ہو سکتے!

25 ستمبر 2012

جمعة المبارک 21 ستمبر کو پاکستانیوں نے گستاخانہ فلم انوسنس آف اسلام کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ حکومت نے اس روز کو یومِ عشقِ رسول قرار دیا تھا۔ عاشقانِ رسول نے واقعی بڑے جذبے سے نبی کریم کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت اور گستاخانہ فلم بنانے والوں کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔ پورے پاکستان میں احتجاج کے لئے گھروں سے نکلنے والوں کی تعداد یقیناً کروڑوں میں تھی۔ اس روز ہندو، سکھ، عیسائی اور پارسی بھی مسلمانوں کے شانہ بشانہ تھے۔ ان میں اکثر اسلامیانِ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے لئے احتجاج میں شامل ہوئے۔ ایسے بھی تھے جن کو نبی مکرم کے ساتھ گونہ عقیدت ہے۔ جسٹس (ر) رانا بھگوان داس نے اپنے نعتیہ کلام میں ایسے عشاق کی نمائندگی یوں کی ہے
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
”فقط مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
مہندر سنگھ بیدی بھی اپنی نعت میں کہہ چکے ہیں
ہم محمد کو کسی قوم کی جاگیر نہ بننے دیں گے
فقط مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
اس روز کچھ شرپسندوں نے یومِ عشقِ رسول کی اہمیت کو گہنانے کی کوشش کی۔ یہ لوگ جلا¶ گھیرا¶ کرتے رہے، املاک کو نقصان پہنچاتے اور لوٹ مار کرتے نظر آئے۔ چند افراد بندوق اٹھا کر بڑے سے بڑے شہر کے امن کو تہہ و بالا کر سکتے ہیں۔ ان شرپسندوں کی تعداد شاید ہزاروں میں ہو جو کروڑوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک سے بھی کم ہے۔ جن شرپسندوں نے یومِ عشقِ رسول کو سبوتاژ کرنے اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج دھندلانے کی کوشش کی یہ دہشت گرد، شتونگڑے، شیطان کے چیلے ہی ہو سکتے ہیں یہ قطعاً عاشقانِ رسول اور فرزندانِ توحید کی نمائندگی نہیں کرتے۔ اسلام آباد، کراچی اور دیگر شہروں کے امن کو تہہ و بالا کرنے والے کسی رعایت کے حقدار نہیں ، ان کی شر انگیزی کے باعث پُرامن احتجاج کرنے والوں کے دل دکھے اور کچھ لوگوں کو بلا امتیاز تمام مسلمانوں کے کردار پر سوال اٹھانے کا بہانہ مل گیا۔
اس میں بھی کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ حکومت نے یومِ عشقِ رسول منانے کا اعلان کر کے عوام کے دلوں میں اپنے خلاف پائی جانے والی نفرت کا رُخ گستاخانہ فلم بنانے والوں کی طرف موڑ دیا۔ مذہبی تنظیموں نے جمعہ کو یومِ احتجاج منانے کا اعلان پہلے ہی کر رکھا تھا۔ حکومت یومِ عشقِ رسول منانے کا اعلان نہ کرتی تو بے مہار ہجوم کہیں زیادہ بپھرتا اور تباہی مچاتا، حکومت کو کسی نے احسن مشورہ دیا، جسے حکومت نے مان کر دانشمندی کا ثبوت دیا لیکن حکومت اور حکمران صرف اعلان کی حد تک محدود رہے۔ نواز شریف، بے نظیر کے لانگ مارچ لوگوں کی یادداشت میں آج بھی موجود ہیں، دفاع پاکستان کونسل کے تو تازہ ترین ہیں۔ یہ لاکھوں لاکھوں کے لانگ مارچ اور اجتماعات پُرامن رہے۔ اگر ہر شہر اور قصبے میں اجتماعات اور مظاہروں کی قیادت احتجاج اور یومِ عشقِ رسول منانے کا اعلان کرنے والے کرتے تو شرپسندوں کو ان کے درمیان گھسنے کی جرا¿ت نہ ہوتی۔ مظاہرے اجتماعی طور پر بدامنی کا شکار نہیں ہوئے، سارا معاملہ بے لگام افراد نے بگاڑا جو کسی صورت اسلامیانِ پاکستان اور پُرامن اقلیتوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔
یومِ عشقِ رسول منانے کے حکومتی اعلان کو مخالفین حکومت کی ایک چال اور فریب قرار دیتے ہیں۔ ریلوے کو ڈی ریل کرنے کی شہرت کے باعث لوگ شاید غلام احمد بلور کے اس اعلان کو بھی سنجیدہ نہیں لے رہے کہ وہ گستاخانہ فلم بنانے والے کے قاتل کو ایک لاکھ ڈالر انعام دیں گے۔ خود ہمارے بھی حکمرانوں اور سیاستدانوں کی چالاکیوں اور مفاد پرستیوں کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ کہہ مکرنیوں اور کچھ بھی کر گزرنیوں کے حوالے سے یہ طبقہ اپنی مثال آپ ہے لیکن یومِ عشقِ رسول منانے اور ملعون فلمساز کے قتل پر انعام رکھنے کے اعلانات جاری ہیںشبہ کرنے سے قبل ہمیں وہ واقعہ یاد دلاتا ہے ”ایک غزوہ میں دشمن جان بچانے کے لئے بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت عمرؓ تلوار لئے اس کے تعاقب میں تھے اس کو گرا کر تلوار لہرائی تو اس نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا لیکن حضرت عمرؓ نے وار کر دیا اس پر حضور نے اظہار ناراضی فرمایا تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ وہ موت کے ڈر سے کلمہ پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ نے کہا کہ کیا تم نے اس کے دل میں جھانک لیا تھا۔“ وزیر مملکت معظم جتوئی ‘پیپلز پارٹی کے رہنما بابر محمود بٹ اورفدایانِ ختم نبوت کے مرکزی امیر علامہ خادم حسین رضوی نے بلور صاحب کی دیکھا دیکھی کروڑوںروپے مختص کر دئیے ہیں۔ یہاں علامہ اقبالؒ کا ایک جملہ بے اختیار زبان پر آ جاتا ہے ”ترکھاناں دا مُنڈا بازی لے گیا“ ہمارے وزیراعظم اور دیگر حکومتی اکابرین اور سیاسی زعما بلور کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس پر عرض ہے
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی