دہری شہریت گویا ”چوپڑیاں اور دو دو“

25 ستمبر 2012

چند روز قبل حکومت پاکستان نے گستاخانہ فلم "Innocence of Muslims" کے خلاف مذہبی تنظیموں کے احتجاج کی حمایت میں جمعہ 23 ستمبر کو یومِ عشقِ رسول منانے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کو بروقت قرار دیا جا سکتا ہے۔ یومِ عشق رسول پاکستان میں یومِ تشدد کا روپ دھار گیا۔ اس دن شرپسندوں نے جہاں اربوں روپے کی املاک کو جلا ڈالا وہیں پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ میں تیس افراد بھی ہلاک ہوئے۔ حکومت نے اعلان تو اچھا کیا لیکن خود حکومتی وزیروں، مشیروں اور عوامی نمائندوں نے یہ دن اپنی تفریح میں گزارا۔ مظاہرین کی قیادت کے لیے قائدین موجود نہ تھے۔ جن مظاہروں کی مذہبی تنظیموں کے رہنماﺅں نے قیادت کی وہ پُرامن رہے اور جن میں کوئی سیاسی اور مذہبی جماعت اور تنظیم کا لیڈر موجود نہیں تھا ان میں موجود لوگ بپھرے اور ایک طوفان مچا دیا۔ دنیا کو پُرامن احتجاج کرنے والے تو نظر نہیں آئے شرانگیز کاروائیاں کرنے والوں کو بھرپور کوریج دی گئی۔ ان کی بدولت پاکستان کا امیج بیرونِ ممالک مزید مجروح ہوا۔جس روز حکومت نے یومِ عشق رسول منانے کا اعلان کیا اسی روز سپریم کورٹ نے 11ایم این اے اور ایم پی ایز کو دہری شہریت رکھنے کے باعث نااہل قرار دے دیا۔ ان میں ایک وزیر داخلہ رحمن ملک بھی ہیں جو گو کہ فوری نااہل ہونے سے بزعمِ خویش بچ گئے لیکن ٹیکنیکلی وہ ان سب سے زیادہ نااہل ہوئے ہیں۔ ان کو سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ آئین کے آرٹیکل 63 اور 62کے تحت کوئی خائن اور جھوٹا شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔ رحمن ملک کو 2008ءمیں غلط بیانی پر نااہل قرار دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے رواں سال سینیٹ کی سیٹ سے استعفیٰ دے کر الیکشن لڑا تھا۔ وہ اگر 2008ءمیں نااہل ہوئے تو پانچ سال تک وہ پارلیمنٹ کے ممبر نہیں بن سکتے۔ کچھ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ خائن اور جھوٹا قرار دیا جانے والا شخص تاحیات پارلیمنٹ میں نہیں جا سکتا ہے۔ دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ان میں سے اکثر امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں موجود ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کی شہریت کے لیے جو حلف نامہ دیا جاتاہے اس پر نظر ڈالیں تو آسانی سے واضح ہو جاتا ہے کہ سپریم کورٹ اور محب وطن حلقے کیوں چاہتے ہیں کہ حساس عہدے دہری شہریت والوں کو نہ دیئے جائیں۔
امریکی شہریت کا حلف: میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں امریکی شہریت اختیار کرنے کے بعد امریکہ کے علاوہ کسی بھی ملک، حکومت یا ریاست کے ساتھ کسی قسم کی وابستگی نہیں رکھوں گا۔ میں کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت سے دستبردار ہو جاﺅں گا۔ یہ کہ میں امریکی ریاست، آئین اور قانون کا اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے تحفظ کروں گا اور ان کا ہر قیمت پر دفاع کروں گا۔ میں امریکی ریاست، آئین اور قانون کا ہمیشہ وفادار رہوں گا۔ میں قانون کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امریکہ کے دفاع اور تحفظ کے لئے ہتھیار اٹھاﺅں گا۔ میں قانون کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امریکی افواج میں غیر فوجی خدمات کی ادائیگی کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوں گا۔ میں سول حکومت کی ہدایت پر ہر قسم کا قومی فریضہ سرانجام دینے کے لئے دستیاب ہوں گا۔ میں بقائمی ہوش و حواس اپنی آزادانہ مرضی سے یہ حلف اٹھا رہا ہوں اور اس حلف کے مندرجات سے پہلو تہی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ خدا میرا حامی و ناصر ہو۔ امریکہ سے وفاداری اس کی خاطر بندوق اٹھانے اور ملکہ برطانیہ کی غلامی کا حلف دینے والے سے پاکستان سے وفاداری کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ بعض ممالک تو اپنے شہری کے لیے کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے پر اس کی شہریت سرے سے ختم کر دیتے ہیں۔ بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ تمام عرب ممالک کسی غیرملکی کو پوری عمر گزارنے پر بھی اپنی شہریت نہیں دیتے جو ملک دوسرے ملک کے شہریوں کو شہریت دیتے ہیں وہ اصل میں ان کی وفاداریاں خریدتے ہیں۔ آج کچھ لوگ بڑے دلائل کے ساتھ بات کرتے ہیں کہ بیرونِ ممالک موجود پاکستانی زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں وہ کسی پر احسان نہیں کرتے۔ لاکھوں پاکستانیوں میں مشکل سے چند ہی ہوں گے جو وطن کی محبت میں پاﺅنڈ ،ڈالر ،درہم او رریال پاکستان بھیجواتے ہیں۔ اکثر اپنے اہل خانہ کی کفالت اور جائیدادیں خریدنے کے لیے رقوم ارسال کرتے ہیں۔ جو بیرون ممالک دولت کما کر امارت کی عروج کو چھو لیتے ہیں ان میں سے اکثر کو دھن دولت کے زور پر سیاست میں آنے کا شوق چڑھتاہے۔ وہ دہری شہریت رکھتے ہوئے پاکستان میں سیاست کرتے ہیں۔ حالانکہ قانون کا تقاضا ہے کہ وہ دوسرے ملک کی شہریت چھوڑ دیں۔ اپنے وطن کے لیے کچھ تو ایثار کا مظاہرہ کریں۔ چوپڑیاں نالے دو دو کی ہوس سے دور رہیں۔رحمن ملک کو نااہل قرار دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کچھ اور لوگ بھی دہری شہریت رکھتے ہیں۔ انہوں نے دہری شہریت چھپا رکھی ہے۔ سپریم کورٹ نے کارروائی محض چند ایک کے خلاف کی۔ سپریم کورٹ کے سامنے نااہلی کے جتنے کیس آئے اس نے ان پر فیصلہ کر دیا۔ رحمن ملک کو جن لوگوں کی دہری شہریت کا علم ہے انہوں نے عدالت کو اس حوالے سے آگاہ کیوں نہیں کیا؟ محض الزام لگانا مناسب نہیں۔