وہ ایک خط!!!

25 ستمبر 2012

میتھیو سٹن (Sitton) کا تعلق فلوریڈا سے تھا۔ امریکی فوج میں بھرتی ہوئے ابھی صرف چند سال ہی ہوئے تھے کہ چھبیس سالہ میتھیو کو افغانستان بھیج دیا گیا۔ وہ آئے دن اپنے اردگرد امریکی فوجیوں کو جان گنواتے دیکھتا تو اسے محسوس ہوتا کہ امریکہ افغانستان میں کس قدر فضول اور بے وجہ جنگ لڑ رہا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں سے اس بارے اکثر بات کرتا رہتا اور اپنی ذہنی اذیت سے انہیں آگاہ کرتا رہتا۔ اس کے کئی ساتھی IED (Improvised Explosive Device) کے باعث ہلاک ہو چکے تھے۔ جو طالبان کا افغانستان میں نہایت ہی موثر ہتھیار ہے جسے وہ اکثر سڑکوں پر یا کھیت کھلیانوں میں چھپا کر رکھ دیتے ہیں اور جیسے ہی امریکی فوجی ان کے قریب سے گزرتے ہیں تو اچانک پھٹ جاتی ہیں۔ میتھیو نے تقریباً تین ماہ قبل اپنے علاقے کے رکن کانگریس بل پنگ (Bill Young) کو ایک تفصیلی خط لکھا جس میں اس نے کانگریس مین کی توجہ اس طرف مبذولک رائی کہ امریکی فوجیوں کو بے وجہ ایسے میدانوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں IED لگی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے بے شمار امریکی فوجی موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ میتھیو نے اپنی موت کی پیشین گوئی کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو اس کی موت بھی یقینی بن جائے گی اور پھر یہی ہوا کہ 2 اگست کو میتھیو ایک مشن کے دوران ایک فیلڈ سے گزرتے ہوئے ایک IED کا نشانہ بن گیا ارو موت اس کا مقدر ٹھہری۔ کانگرس مین بل ینگ جس کا تعلق ری پبلکن پارٹی سے ہے اور جو افغانستان جنگ کا بہت حمایتی تھا اور امریکی فوج کو 2014 کے بعد بھی افغانستان میں رکنے کا حامی تھا۔ اب میتھیو کی موت کے بعد امریکی فوج کے فوری انخلاءکا وکیل بن گیا ہے اور اس نے امریکی وزیر دفاع سے پوچھا ہے کہ IED سے بچنے کی خاطر ریسرچ کےلئے جو 3 ارب ڈالر رکھے گئے تھے اس کا کیا نتیجہ نکلا ہے کیونکہ امریکی حکومت اپنے فوجیوں کی حفاظت میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ میتھیو کے خط اور اپنی زندگی کی قربانی کی وجہ سے اگرچہ کانگرس مین کی رائے تو بدل گئی ہے مگر اوباما انتظامیہ کی رائے ابھی تک نہیں بدل سکی اور وہ افغانستان سے فوری انخلا کے اب بھی خلاف ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ کے صدارتی انتخاب ہیں جو نومبر میں ہونا ہیں اور جن میں اوباما کے مدمقابل مٹ رومنی ہیں جو جنگ کے حوالے سے سخت گیر رویہ رکھتے ہیں۔ اوباما کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنی نرم پالیسی کی وجہ سے اپنے حریف کو پوائنٹ سکورنگ کا موقع دیں۔ صدر اوباما پہلے ہی ایران کے حوالے سے سخت اسرائیلی دباﺅ کا شکار ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم نے ان کا نام لئے بغیر ان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ایران کے لئے ریڈ لائن نہیں لگاتے نہیں لگاتے تو پھر انہیں ایران پر حملے کی خاطر اسرائیل کے سامنے سرخ بنتی جلانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس طرح کے بیانات سے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی واضح کوشش کر رہے ہیں جو تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ اس سے پیشتر اسرائیلی حکومتوں کی روایت رہی ہے کہ وہ انتخابات کے دوران امریکی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کرتے تاکہ کوئی پارٹی بھی ان سے ناراض نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم امریکی صدارتی امیدوار مٹ رومتی سے اپنی دوستی کا حق ادا کر رہے ہوں جو ستر کے عشرے میں شروع ہوئی جب دونوں ایک امریکی انوسٹمنٹ کمپنی میں کام کرتے تھے اور ہو سکتا ہے ہٹ دھرمی پر مبنی نیتن یاھو کی اس پالیسی کی وجہ سے چد ہفتے قبل صدر اوباما نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا اور مشہور ایوننگ شو”ڈیوڈ لیٹر مین“ میں چلے گئے۔ امریکی اور اسرائیلی حکومت میں اس وقت شدید تناﺅ ہے اور صدر اوباما اس معاملے میں کوئی بھی ایسا قدم نہیں نہیں اٹھا سکتے جس کو ان کے مخالفین استعمال کر سکیں اور یہی وہ حقیقت ہے جسے اسرائیل کے وزیراعظم ایران کے خلاف حملے کےلئے ایک ہتھیار بنانا چاہتے ہیں۔ یہی وہ تناﺅ ہے جو نیویارک میں اسی ہفتے شروع ہونے والے جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس میں بھی نظر آ سکتا ہے۔ امریکہ میں پرورش پانے والے اور فرفر امریکی انگریزی بولنے والے اسرائیلی وزیراعظم کی رعونت سے بھرپور باڈی لینگوئج امریکی صدر کے لئے ایک خطرہ سے کم نہ ہو گی۔ہمارے صدر مملکت بھی نیویارک میں ہونگے اور مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کرینگے۔ گزشتہ پندرہ سال کے دوران امریکی نظام حکومت اور اقوام متحدہ کے اجلاس اور ان میں مختلف ملاقاتوں کو خود دیکھنے کے بعد ہمارا خیال ہے کہ ان سے کوئی بڑی توقع رکھنا مناسب نہ ہو گا اگرچہ صدر مملکت اپنی تقریر میں اچھی اچھی باتیں بھی کرینگے اور خاص طور پر توہین رسالت کے حوالے سے مناسب تجاویز بھی دینگے مگر یقین جانیے ان سے کوئی خاص نتیجہ برآمد نہ ہو گا کیونکہ ہمارا سب سے بڑا جرم کچھ اور نہیں بلکہ جرم ضعیفی ہے جس کی سزا صرف مرگِ مفاجات ہوا کرتی ہے۔ اگر ہم اقوام عالم میں عزت چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کرنا ہو گا اور علم اور حلم کا راستہ اپناتے ہوئے اپنے نظریات کو تھام کر اتفاق و اتحاد کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن ہونا ہو گا۔ یہ خطہ، یہ مراسلے، یہ بین الاقوامی کانفرنسیں، یہ وفود، یہ قومی تعطیلات یا مزید ایسے کھوکھلے اقدامات بھیک کا ایسا کشکول ہیں جن میں کوئی ہمیں خیرات نہیں دے گا۔